سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ایمان لانے والے اہل کتاب اور اہل شرک کے اجر و ثواب میں فرق
ترقیم الباني: 304 ترقیم فقہی: -- 51
-" من أسلم من أهل الكتاب فله أجره مرتين وله مثل الذي لنا وعليه مثل الذي علينا ومن أسلم من المشركين فله أجره وله مثل الذي لنا وعليه مثل الذي علينا".
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ نے بہت اچھی باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی: ”جو اہل کتاب (یہودی یا نصرانی) مسلمان ہو گا اسے دو اجر ملیں گے نیز اسے وہی حقوق دئیے جائیں گے جو ہمارے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو ہم پر ہوتی ہیں اور جو مشرک مسلمان ہو گا اسے ایک اجر ملے گا اور اسے بھی وہی حقوق نصیب ہوں گے جو ہمیں ہوتے ہیں اور اسے وہی ذمہ داریاں چکانا ہوں گی، جو ہم چکاتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 51]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 304
تخریج الحدیث: «رواه الروياني فى ”مسنده“: 1/220/30، و احمد: 259/5»
اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ لوگ
ترقیم الباني: 778 ترقیم فقہی: -- 52
-" أبغض الناس إلى الله ثلاثة: ملحد في الحرم ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلية ومطلب دم امرئ بغير حق ليهريق دمه".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند اور مبغوض ترین ہیں: حرم میں الحاد برپا کرنے والا، اسلام میں جاہلیت کے مروج ہونے کو چاہنے والا اور کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے کوشاں رہنے والا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 52]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 778
غیر اللہ کی قسم منع ہے
ترقیم الباني: 2042 ترقیم فقہی: -- 53
-" كل يمين يحلف بها دون الله شرك".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھانا شرک ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 53]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2042
ترقیم الباني: 136 ترقیم فقہی: -- 54
-" قولوا: ما شاء الله ثم شئت، وقولوا: ورب الكعبة".
جہینہ قبیلے کی خاتون سیدہ قتیلہ بنت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: تم لوگ شرک کرتے ہو کیونکہ تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور تم چاہو اور تم کعبہ کی قسم اٹھاتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر فرمایا: ”تم کہا کرو: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو اور قسم اٹھاتے وقت کہا کرو: رب کعبہ کی قسم۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 54]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 136
ترقیم الباني: 1119 ترقیم فقہی: -- 55
-" احلفوا بالله وبروا واصدقوا، فإن الله يكره أن يحلف إلا به".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اٹھایا کرو، اسے پورا کیا کرو اور سچ بولا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ غیر کی قسم اٹھانے کو ناپسند کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 55]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1119
ترقیم الباني: 1166 ترقیم فقہی: -- 56
-" من حلف فليحلف برب الكعبة".
سیدہ قتیلہ بنت صفی جہنیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) وہ کیسے؟“ اس نے کہا: جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے رب کی قسم اٹھائے (نہ کہ کعبہ کی)۔“ اس نے پھر کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تم بڑے اچھے لوگ ہو، لیکن کہ کاش کہ تم اللہ کے لیے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! وہ کیسے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اگر کوئی آدمی ”ماشاء اللہ“ کہے تو وہ «ثُم شئت» “ کہے (یعنی: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 56]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1166
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے کی تلقین
ترقیم الباني: 885 ترقیم فقہی: -- 57
-" اجتنبوا الكبائر وسددوا وأبشروا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو اور راہِ مستقیم پر چلتے رہو اور (لوگوں کو)ْ خوشخبریاں سناتے رہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 57]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 885
آزمائشیں اس امت کا مقدر ہیں
ترقیم الباني: 246 ترقیم فقہی: -- 58
-" أحصوا لي كل من تلفظ بالإسلام".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام قبول کرنے والے تمام افراد کو شمار کرو۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا آپ ہمارے بارے میں خوفزدہ ہیں، حالانکہ ہماری تعداد چھ سو سے سات سو تک ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (حقیقت حال کا) علم نہیں رکھتے، شائد تم آزمائشوں میں پڑ جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہمیں اس قدر آزمایا گیا کہ ہم میں سے ایک آدمی کو مخفی نماز پڑھنا پڑتی تھی، (یعنی وہ بعض وجوہات کی بنا پر اعلانیہ نماز نہیں پڑھ سکتا تھا) [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 58]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 246
محبوب ترین دین
ترقیم الباني: 881 ترقیم فقہی: -- 59
-" أحب الدين إلى الله الحنفية السمحة".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سا دین اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملت اسلام، جو نرمی و سہولت آمیز شریعت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 59]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 881
امت محمدیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی مرتب شریعت آسان ہے
ترقیم الباني: 1635 ترقیم فقہی: -- 60
-" إن الله رضي لهذه الأمة اليسر وكره لهم العسر، (قالها ثلاث مرات) وإن هذا أخذ بالعسر وترك اليسر".
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی کہ فلاں بندہ مسجد میں لمبی نماز ادا کر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس کے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے آسانی کو پسند اور تنگی کو ناپسند کیا ہے (یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی) جب کہ اس بندے نے تنگی کو اختیار کیا ہے اور آسانی کو ترک کر دیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 60]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1635