🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نیکی یا برائی کا پتہ کیسے چلتا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1327 ترقیم فقہی: -- 90
-" إذا سمعت جيرانك يقولون أحسنت، فقد أحسنت، وإذا سمعتهم يقولون: قد أسأت، فقد أسأت".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں نیکی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی کی ہے، تو تو نے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 90]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1327

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گناہ کی تعریف
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 550 ترقیم فقہی: -- 91
-" إذا سرتك حسنتك وساءتك سيئتك، فأنت مؤمن".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تجھے تیری نیکی خوش کرے اور برائی ناگوار گزرے تو تو مومن ہے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکنے لگے تو اسے (گناہ سمجھ کر) چھوڑ دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 91]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 550

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مومن پر لعنت کرنے کی مذمت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3385 ترقیم فقہی: -- 92
- (إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر! فهو كقتله، ولعْنُ المؤمنِ كقتله) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے بھائی کو یوں کہتا ہے: ”او کافر! تو اس (کا گناہ) اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور مومن پر لعنت کرنا بھی اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 92]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3385

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کسی کو کافر کہنے کے بارے میں محتاط رہنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3385 ترقیم فقہی: -- 93
- (إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر! فهو كقتله، ولعْنُ المؤمنِ كقتله) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے بھائی کو یوں کہتا ہے: ”او کافر! تو اس (کا گناہ) اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور مومن پر لعنت کرنا بھی اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 93]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3385

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2891 ترقیم فقہی: -- 94
-" أيما امرئ قال لأخيه: يا كافر! فقد باء بها أحدهما إن كان كما قال وإلا رجعت عليه (وفي رواية:" على الآخر") ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو ان میں سے ایک کافر ہو کر رہے گا۔ اگر وہ آدمی واقعی کافر ہوا تو ٹھیک وگرنہ یہی وصف کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 94]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2891

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امت مسلمہ میں باقی رہنے والے امورِ جاہلیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 735 ترقیم فقہی: -- 95
-" أربع في أمتي من أمر الجاهلية لن يدعهن الناس: النياحة والطعن في الأحساب والعدوى: أجرب بعير فأجرب مائة بعير، من أجرب البعير الأول؟! والأنواء: مطرنا بنوء كذا وكذا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت کے چار اوصاف میری امت میں موجود رہیں گے، یہ ان کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے: (۱) نوحہ کرنا، (۲) حسب و نسب میں طعن کرنا، (۳) بیماری کو متعدی قرار دیتے ہوئے کہنا کہ ایک خارشی اونٹ کی وجہ سے سو اونٹوں کو خارش لگ گئی۔ بھلا سوال یہ ہے کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی اور (۴) ستارے، یعنی یہ کہنا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 95]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 735

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 734 ترقیم فقہی: -- 96
-" أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة".
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت کے چار اوصاف پائے جائیں گے، وہ ان کو نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب (خاندانی عظمت) پر فخر کرنا، (۲) نسب پر طعن کرنا، (۳) ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور (۴) نوحہ کرنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 96]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 734

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1801 ترقیم فقہی: -- 97
-" ثلاث من عمل أهل الجاهلية لا يتركهن أهل الإسلام: النياحة والاستسقاء بالأنواء وكذا. قلت لسعيد (يعني المقبري) : وما هو؟ قال: دعوى الجاهلية: يا آل فلان، يا آل فلان، يا آل فلان".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین امور کا تعلق جاہلیت سے ہے، لیکن اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح کرنا۔“ میں نے سعید مقبری سے پوچھا کہ ”اس طرح کرنے“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: جاہلیت کی پکار پکارنا، (یعنی یون کہنا): او ال فلان! او ال فلان! او ال فلان! [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 97]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1801

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1896 ترقیم فقہی: -- 98
-" شعبتان من أمر الجاهلية لا يتركهما الناس أبدا: النياحة والطعن في النسب".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جاہلیت کے دو امور کو ترک نہیں کریں گے: نوحہ کرنا اور نسب میں طعن کرنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 98]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1896

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1799 ترقیم فقہی: -- 99
-" ثلاث لن تزال في أمتي: التفاخر في الأحساب والنياحة والأنواء".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین امور میری امت میں برقرار رہیں گے: خاندانی عظمت پر فخر کرنا، نوحہ کرنا اور ستاروں (کے زریعے بارش طلب کرنا)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 99]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1799

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں