🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
فجر سے پہلے والی سنتوں پر دوام اختیار کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2705 ترقیم فقہی: -- 641
-" كان يصلي قبل الظهر أربعا يطيل فيهن القيام ويحسن فيهن الركوع والسجود، فأما ما لم يكن يدع صحيحا ولا مريضا ولا غائبا ولا شاهدا، فركعتين قبل الفجر".
قابوس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میرے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان سے سوال کرے کہ کس نماز پر ہمیشگی کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود کیا کرتے تھے اور صحت مند یا مریض ہونے یا سفر و حضر میں (کسی صورت میں بھی) فجر کی دو سنتیں ترک نہیں کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 641]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2705

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فجر اور مغرب والی سنتوں میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کی تلاوت کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 646 ترقیم فقہی: -- 642
-" نعمت السورتان يقرأ بهما في ركعتين قبل الفجر * (قل هو الله أحد) * و * (قل يا أيها الكافرون) *".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے اور فجر سے پہلے والی سنتوں کو ترک نہیں کرتے تھے اور فرماتے:”دو بہترین سورتیں ہیں، جنہیں فجر سے پہلے والی دو رکعتوں میں پڑھا جاتا ہے: «قل هو الله احد» ‏‏‏‏ اور «قل يا ايها الكافرون» ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 642]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 646

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3328 ترقیم فقہی: -- 643
- (كان يقرأ في ركعتي الفجر، [والركعتين بعد المغرب] (قل يا أيّها الكافرون) و (قل هو الله أحد) ) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی پہلی والی دو اور مغرب کی بعد والی دو سنتوں میں «قل يا ايها الكافرون» اور «قل هو الله احد» ‏‏‏‏ پڑھتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 643]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3328

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز فجر سے پہلے والی سنتیں رہ جانے کی صورت میں کب ادا کی جائیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2361 ترقیم فقہی: -- 644
-" من لم يصل ركعتي الفجر، فليصلهما بعدما تطلع الشمس".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فجر کی دو سنتیں نہ پڑھ سکا، وہ طلوع آفتاب کے بعد ادا کر لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 644]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز عصر کے بعد دو رکعت سنتیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3174 ترقیم فقہی: -- 645
- (كان لا يدعُ ركعتينِ قبل الفجرِ، وركعتينِ بعدالعصرِ) .
ابراہیم بن محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہیں کہا گیا (کہ یہ نماز کیوں پڑھتے ہو)؟ انھوں نے کہا: اگر میں یہ دو رکعتیں صرف اس لیے پڑھتا کہ میں نے مسروق کو پڑھتے دیکھا تو یہ بھی قابل اعتماد بات تھی۔ لیکن میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس کی بابت سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا ترک نہیں کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 645]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3174

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 200 ترقیم فقہی: -- 646
-" نهى عن الصلاة بعد العصر إلا والشمس مرتفعة".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےعصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ سورج بلند ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 646]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 200

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2549 ترقیم فقہی: -- 647
-" أحسن ابن الخطاب".
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی، (سلام کے بعد) ایک آدمی نے فوراً نماز پڑھنا شروع کر دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ابن خطاب نے اچھا کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 647]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2549

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3173 ترقیم فقہی: -- 648
- (أحسنَ (وفي رواية: صدق) ابنُ الخطابِ)
عبداللہ بن رباح، ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی، ایک آدمی مزید نماز پڑھنےکے لیے فوراً کھڑا ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور اس کی چادر یا کپڑے کو پکڑ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن خطاب نے اچھا کیا۔“ اور ایک روایت میں ہے:”(ابن خطاب نے) سچ کہا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 648]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3173

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز مغرب سے پہلے دو رکعت سنتیں ادا کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 233 ترقیم فقہی: -- 649
-" صلوا قبل المغرب ركعتين. ثم قال في الثالثة: لمن شاء، خاف أن يحسبها الناس سنة".
سیدنا عبداﷲ مزنی سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا: ”مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو، (مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو)۔“ پھر تیسری دفعہ فرمایا: ”جو چاہے پڑھ لے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں لوگ اس کو (لازمی) سنت و طریقہ نہ سمجھ لیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 649]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 233

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر فرض نماز سے پہلے کم از کم دو رکعت نفلی نماز کا وجود
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 234 ترقیم فقہی: -- 650
-" كان المؤذن يؤذن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة المغرب، فيبتدر لباب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم السواري، يصلون الركعتين قبل المغرب حتى يخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم يصلون، فيجيء الغريب فيحسب أن الصلاة قد صليت من كثرة من يصليهما وكان بين الأذان والإقامة يسير".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جب مؤذن نماز مغرب کی اذان سے فارغ ہوتا تو برگزیدہ صحابہ کرام ستونوں کی طرف لپکتے اور (انھیں سترہ بنا کر) مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ لوگ اتنی کثرت سے یہ دو رکعتیں پڑھتے کہ اجنبی آدمی کو محسوس ہوتا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے (اور لوگ بعد والی سنتیں ادا کر رہے ہیں)۔ اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 650]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 234

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں