🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ہر فرض نماز سے پہلے کم از کم دو رکعت نفلی نماز کا وجود
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 232 ترقیم فقہی: -- 651
-" ما من صلاة مفروضة إلا وبين يديها ركعتان".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 651]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 232

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سفر میں سنن رواتبہ نہ پڑھنے کی رخصت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2816 ترقیم فقہی: -- 652
-" كان لا يسبح في السفر قبلها ولا بعدها. يعني الفريضة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں (فرضی نمازوں) سے پہلے اور بعد میں سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 652]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2816

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مغرب اور عشاء کے درمیانی وقفے میں نماز پڑھنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2132 ترقیم فقہی: -- 653
-" كان يصلي ما بين المغرب والعشاء".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کے مابین (نفلی) نماز پڑھتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 653]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز کی روٹین
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 237 ترقیم فقہی: -- 654
-" كان إذا صلى الفجر أمهل، حتى إذا كانت الشمس من ههنا - يعني من قبل المشرق - مقدارها من صلاة العصر من ههنا - من قبل المغرب - قام فصلى ركعتين ثم يمهل، حتى إذا كانت الشمس من ههنا يعني من قبل المشرق، مقدارها من صلاة الظهر من ههنا - يعني من قبل المغرب - قام فصلى أربعا، وأربعا قبل الظهر إذا زالت الشمس، وركعتين بعدها، وأربعا قبل العصر، يفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملائكة المقربين، والنبيين، ومن تبعهم من المسلمين،" يجعل التسليم في آخره".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز، جو وہ دن کو پڑھتے تھے، کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: بلاشبہ تم لوگوں میں وہ نماز ادا کرنے کی سکت ہی نہیں۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں، ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر لے گا۔ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوتے تو (مزید) نماز پڑھنے سے رک جاتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا اور مشرق میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ نماز عصر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے، اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک سورج مشرق کی جانب اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ مغرب کی طرف بوقت ظہر ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد قبل از ظہر چار، بعد از ظہر دو اور قبل از عصر چار رکعت پڑھتے، (چار رکعات نماز میں) ہر دو رکعتوں کے بعد مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کے پیروکار مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کر کے فاصلہ کرتے اور آخری رکعت کے بعد سلام پھیرتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 654]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 237

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز فجر کے بعد نماز ضحیٰ پڑھ کر آنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2531 ترقیم فقہی: -- 655
-" ألا أخبركم بأسرع كرة وأعظم غنيمة من هذا البعث؟ رجل توضأ في بيته فأحسن وضوءه، ثم تحمل إلى المسجد فصلى فيه الغداة، ثم عقب بصلاة الضحى، فقد أسرع الكرة وأعظم الغنيمة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، وہ بہت زیادہ مال غنیمت حاصل کر کے جلدی واپس آ گیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو یہی لشکر دیکھا ہے جو بڑا جلدی واپس آیا اور بہت زیادہ مال غنیمت لے کر لوٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا میں تمہیں اس (آدمی) کی خبر نہ دوں، جو اس لشکر سے جلد لوٹنے والا اور اس سے زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے والا ہو؟ (میری مراد) وہ آدمی ہے، جو اپنے گھر میں اچھے انداز میں وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف چل پڑتا ہے، نماز فجر ادا کرتا ہے، اس کے بعد نماز چاشت پڑھ کر (مسجد سے واپس لوٹتا ہے)، اس نے لوٹنے میں بھی جلدی کی اور مال غنیمت بھی زیادہ حاصل کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 655]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2531

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3403 ترقیم فقہی: -- 656
- (مَن صلى الغَدَاةَ في جماعةٍ، ثمّ قعَدَ يذكرُ اللهَ حتَّى تطلعَ الشّمسُ، ثمّ صلّي، ركعتينِ؛ كانت له كأَجرِ حَجّةٍ وعُمرةٍ، تامّةٍ تامّةٍ تامّةٍ) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز فجر باجماعت ادا کی، اس کے بعد بیٹھ کر ذکر کرتا رہا، حتی کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر اس کے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے مکمل، مکمل اور مکمل حج اور عمرے کا ثواب ملے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 656]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3403

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کھانے کو نماز باجماعت پر ترجیح دینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3964 ترقیم فقہی: -- 657
- (إذا أقيمتِ الصّلاةُ وأحدُكم صائمٌ؛ فليبدَأ بالعَشَاءِ قبلَ صلاةِ المغربِ، ولا تَعجَلُوا عن عَشائكم) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب (مغرب کی) نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے اور تم میں سے کوئی روزے دار ہو تو وہ نماز مغرب سے پہلے کھانا کھا لیا کرے۔ (ایسی صورت میں) کھانا کھانے سے جلدی نہ کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 657]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3964

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام کا بآواز بلند ”آمین“ کہنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 464 ترقیم فقہی: -- 658
-" كان إذا فرغ من قراءة أم القرآن رفع صوته، وقال: (آمين) ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام القرآن (سورہ فاتحہ) کی قرأت سے فارغ ہوتے تو آواز کو بلند کرتے ہوئے آمین کہتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 658]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 464

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
”آمین“ کہنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1263 ترقیم فقہی: -- 659
-" إذا أمن القارئ فأمنوا، فإن الملائكة تؤمن، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ (اس وقت) فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کرے گی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 659]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1263

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2534 ترقیم فقہی: -- 660
-" إذا قرأ الإمام: * (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) *، فأمن الإمام فأمنوا، فإن الملائكة تؤمن على دعائه، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ” «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی امام کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 660]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2534

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں