🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نمازیں جمع کر کے ادا کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2837 ترقیم فقہی: -- 631
-" صنعت هذا لكي لا تحرج أمتي. يعني الجمع بين الصلاتين".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ”میں نے یہ نمازیں اس انداز میں اس لیے پڑھی ہیں تاکہ میری امت تنگی میں نہ پڑے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 631]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2837

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سفر کی وجہ سے نمازیں جمع کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 164 ترقیم فقہی: -- 632
-" كان صلى الله عليه وسلم في غزو تبوك إذا ارتحل قبل زيغ الشمس أخر الظهر إلى أن يجمعها إلى العصر فيصليهما جميعا، وإذا ارتحل بعد زيغ الشمس عجل العصر إلى الظهر، وصلى الظهر والعصر جميعا، ثم سار وكان إذا ارتحل قبل المغرب أخر المغرب حتى يصليها مع العشاء، وإذا ارتحل بعد المغرب عجل العشاء فصلاها مع المغرب".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک (کے سفر) میں تھے۔ اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کر جاتے تو ظہر کی نماز کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ جمع کرتے اور دونوں کو اکٹھا پڑھتے اور اگر سورج کے ڈھلنے کے بعد سفر شروع کرتے تو ظہر کے ساتھ عصر بھی پڑھ لیتے اور پھر سفر شروع کرتے۔ اسی طرح اگر غروب آفتاب سے پہلے کوچ کر جاتے تو مغرب کو مؤخر کرتے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ پڑھتے اور اگر غروب آفتاب کے بعد سفر شروع کرتے تو عشاء کی نماز کو جلدی کر کے مغرب کے ساتھ ہی پڑھ لیتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 632]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 164

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3040 ترقیم فقہی: -- 633
- (كان يجمع بين الصلاتين في السفر) .
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 633]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3040

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بارہ سنن موکدہ کی ادائیگی کا صلہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2347 ترقیم فقہی: -- 634
-" من صلى اثنتي عشرة ركعة بنى الله له بيتا في الجنة".
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بارہ رکعات پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 634]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2347

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قبل از ظہر چار سنتوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1431 ترقیم فقہی: -- 635
-" أربع ركعات قبل الظهر يعدلن بصلاة السحر".
ابوصالح مرفوعًا اور مرسلاً دونوں طرح بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز ظہر سے قبل چار سنتیں، سحری کے وقت کی نماز کے برابر ہو جاتی ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 635]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2349 ترقیم فقہی: -- 636
-" من صلى الضحى أربعا وقبل الأولى أربعا، بني له بيت في الجنة".
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چار رکعت نماز چاشت اور ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 636]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2349

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قبل از ظہر سنتوں کی ادائیگی کی کیفیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2705 ترقیم فقہی: -- 637
-" كان يصلي قبل الظهر أربعا يطيل فيهن القيام ويحسن فيهن الركوع والسجود، فأما ما لم يكن يدع صحيحا ولا مريضا ولا غائبا ولا شاهدا، فركعتين قبل الفجر".
قابوس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میرے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان سے سوال کرے کہ کس نماز پر ہمیشگی کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود کیا کرتے تھے اور صحت مند یا مریض ہوتے نیز سفر و حضر میں (کسی صورت میں بھی) فجر کی دو سنتیں ترک نہیں کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 637]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2705

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قبل از ظہر چار سنتوں کی ادائیگی کی وجہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3404 ترقیم فقہی: -- 638
- (كان يصلي قبلَ الظُّهرِ- بعد الزّوالِ- أربعاً، ويقولُ: إن أبوابَ السّماءِ تُفتحُ [فيها] ، فأحبُّ أن أقدِّم فيها عمَلاً صالحاً) .
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد اور ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور فرماتے: ”اس وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں نیک عمل آگے بھیجوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 638]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3404

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز جمعہ سے پہلے والی سنتوں کی تعداد
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2893 ترقیم فقہی: -- 639
-" اركع ركعتين ولا تعودن لمثل هذا. يعني: التأخير في المجيء إلى الجمعة".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھ لے اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ یعنی جمعہ کی نماز میں تاخیر نہ کرنا۔ اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 639]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2893

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فجر کی دو سنتوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1141 ترقیم فقہی: -- 640
-" إن الله عز وجل زادكم صلاة إلى صلاتكم هي خير لكم من حمر النعم ألا وهي الركعتان قبل صلاة الفجر".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز عطا کی ہے، وہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔ آگاہ رہو کہ وہ نماز، فجر کی نماز سے پہلے والی دو سنتیں ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 640]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1141

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں