سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
دوران تشہد انگشت شہادت سے اشارہ کرنا
ترقیم الباني: 3181 ترقیم فقہی: -- 701
- (كان يشير بإصبعه السَّبَّاحةِ في الصلاة) .
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (تشہد کے دوران) شہادت والی انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 701]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3181
ترقیم الباني: 2248 ترقیم فقہی: -- 702
-" كان إذا جلس في الثنتين أو في الأربع يضع يديه على ركبتيه، ثم أشار بإصبعه".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو یا چار رکعات کے بعد بیٹھتے تو اپنا ہاتھ گھٹنے پر رکھ دیتے اور شہادت والی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 702]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2248
نماز سے فارغ ہونے کے لیے ایک سلام پھیرنا
ترقیم الباني: 316 ترقیم فقہی: -- 703
-" كان يسلم تسليمة واحدة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (صرف) ایک طرف (بھی) سلام پھیر کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 703]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 316
نماز کے بعد والے اذکار
ترقیم الباني: 972 ترقیم فقہی: -- 704
-" من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة لم يحل بينه وبين دخول الجنة إلا الموت".
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی کی تلاوت کی تو اس کے اور جنت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی، سوائے موت کے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 704]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 972
ترقیم الباني: 645 ترقیم فقہی: -- 705
-" اقرءوا المعوذات في دبر كل صلاة".
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد معوذات سورتیں (یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 705]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 645
ترقیم الباني: 2074 ترقیم فقہی: -- 706
-" كان إذا سلم لم يقعد إلا مقدار ما يقول: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو اس دعا کے پڑھنے کے بعد تک بیٹھتے تھے: «اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے! تو بابرکت ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 706]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2074
ترقیم الباني: 196 ترقیم فقہی: -- 707
-" كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة" حين يسلم": لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد" يحيي ويميت، وهو حي لا يموت بيده الخير"، وهو على كل شيء قدير" ثلاث مرات"، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھوایا، اس میں یہ بات بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرضی نماز سے سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اﷲ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 707]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 196
دوران نماز، نمازی کی کیفیت
ترقیم الباني: 401 ترقیم فقہی: -- 708
-" إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع، ولا تكلم بكلام تعتذر منه غدا، واجمع الإياس مما في أيدي الناس".
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصر نصیحت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے ناامید (اور غنی) ہو جا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 708]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 401
ترقیم الباني: 1914 ترقیم فقہی: -- 709
-" صل صلاة مودع كأنك تراه، فإن كنت لا تراه، فإنه يراك، وآيس مما في أيدي الناس تعش غنيا وإياك وما يعتذر منه".
سیدنا عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللّٰہ کے رسول! مجھے کوئی حدیث بیان کرو، لیکن مختصر سی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کی طرح نماز پڑھا کر، جسے الوداع کہا جا رہا ہو (اور اس طرح نماز پڑھو کہ) گویا کہ تم اس (اللہ) کو دیکھ رہے ہو۔ اگر آپ اس کو نہیں دیکھ سکتے تو (یہ تو یقین کر لو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے، جو کچھ لوگوں کے پاس ہے، اس سے ناامید ہو جاؤ، غنی کی زندگی گزارو گے اور جن چیزوں سے معذرت کی جاتی ہے، ان سے بچو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 709]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1914
قبولیت دعا کے اوقات
ترقیم الباني: 1413 ترقیم فقہی: -- 710
-" إذا نودي بالصلاة فتحت أبواب السماء واستجيب الدعاء".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 710]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1413