سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نماز تہجد سے پہلے دو خفیف رکعات ادا کرنا
ترقیم الباني: 3199 ترقیم فقہی: -- 731
- (كان إذا قام من الليل يتهجد، صلى ركعتين خفيفتين) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو دو خفیف سی رکعتوں سے آغاز کرتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 731]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3199
رات کی نماز دو دو رکعت ہے
ترقیم الباني: 1919 ترقیم فقہی: -- 732
-" صلاة الليل مثنى مثنى، وجوف الليل الآخر أجوبه دعوة".
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔“ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 732]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1919
مومن کا شرف نماز تہجد میں ہے
ترقیم الباني: 1903 ترقیم فقہی: -- 733
-" شرف المؤمن صلاته بالليل، وعزه استغناؤه عما في أيدي الناس".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا اعزاز رات کی نماز (تہجد) میں ہے اور اس کی عزت و آبرو اس چیز سے بے نیاز ہو جانے میں ہے جو (دنیا کی صورت میں) لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 733]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1903
دوران سفر نماز تہجد ادا کرنے کا طریقہ، نماز وتر کے بعد مزید نفل پڑھنا کیسے ہیں؟
ترقیم الباني: 1993 ترقیم فقہی: -- 734
-" إن هذا السفر جهد وثقل، فإذا أوتر أحدكم فليركع ركعتين، فإن استيقظ وإلا كانتا له".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چونکہ یہ سفر باعث مشقت و زحمت ہے اس لیے ہر کوئی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھ لے، اگر (قیام کرنے کے لیے) جاگ آ گئی تو ٹھیک، وگرنہ یہی دو رکعتیں اسے کفایت کر جائیں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 734]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1993
نماز میں سلام کا جواب دینے کا طریقہ، نماز میں کلام کرنا حرام ہے
ترقیم الباني: 2917 ترقیم فقہی: -- 735
-" إنا كنا نرد السلام في صلاتنا، فنهينا عن ذلك".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کے ذریعے اس کے سلام کا جواب دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ” ہم نماز میں سلام کا جواب دیا کرتے تھے، لیکن اب ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 735]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2917
ترقیم الباني: 2380 ترقیم فقہی: -- 736
-" نهينا عن الكلام في الصلاة إلا بالقرآن والذكر".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا تھا، اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب دیتے تھے۔ (ایک دن) اس نے سلام کہا:، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو نماز کی حالت میں سلام کہتا تھا اور آپ مجھے جواب دیتے تھے، لیکن آج میں نے سلام کہا: اور آپ نے جواب نہ دیا، میں یہ سمجھا کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی بات نہیں ہے، دراصل ہمیں نماز میں کام کرنے سے منع کر دیا گیا ہے، ماسوائے قرآن مجید اور (اللہ کے) ذکر کے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 736]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2380
ترقیم الباني: 185 ترقیم فقہی: -- 737
-" خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قباء يصلي فيه. فجاءته الأنصار فسلموا عليه وهو يصلي، قال: فقلت لبلال: كيف رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرد عليهم حين كانوا يسلمون عليه وهو يصلي؟ قال: يقول هكذا، وبسط كفه وبسط جعفر بن عون كفه، وجعل بطنه أسفل، وجعل ظهره إلى فوق".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد) قبا میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ انصاری لوگ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا:۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب وہ سلام کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں ان کے سلام کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انہوں نے کہا: اس طرح کرتے تھے۔ پھر اپنی ہتھیلی کو پھیلایا۔ (یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے) جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلائی اور اس کا اندرونی حصہ نیچے کو رکھا اور بیرونی اوپر کو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 737]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 185
نمازی کو سلام کہنا
ترقیم الباني: 2212 ترقیم فقہی: -- 738
-" ما أحب أن أسلم على الرجل وهو يصلي، ولو سلم علي لرددت عليه".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نہیں چاہتا کہ نماز پڑھنے والے آدمی کو سلام کہوں، ہاں اگر مجھے کسی نے سلام کہا: تو میں اس کو جواب ضرور دوں گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 738]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2212
خواتین و حضرات کا نماز میں اجازت کا جواب دینے کا طریقہ، نماز میں ایسا اشارہ کرنا جس سے کوئی بات سمجھی جا سکے
ترقیم الباني: 497 ترقیم فقہی: -- 739
-" إذا استؤذن على الرجل وهو يصلي فإذنه التسبيح وإذا استؤذن على المرأة وهي تصلي فإذنها التصفيق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اس سے اجازت طلب کی جائے تو وہ «سبحان الله» کہہ کر اجازت دے دے اور جب عورت نماز پڑھ رہی ہو اور اس سے اجازت طلب کی جائے تو وہ تالی بجا کر اجازت دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 739]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 497
ترقیم الباني: 312 ترقیم فقہی: -- 740
-" كان يصلي، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره، فإذا أرادوا أن يمنعوهما أشار إليهم أن دعوهما، فلما قضى الصلاة، وضعهما في حجره، وقال: من أحبني فليحب هذين".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے، جب سجدہ کرتے تو حسن اور حسین اچھل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر چڑھ جاتے۔ جب صحابہ ارادہ کرتے کہ انہیں روکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے کہ ان کو (اپنے حال پر) چھوڑ دو۔ جب نماز پوری کرتے تو انہیں اپنی گودی میں بٹھا لیتے اور فرماتے: ”جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 740]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 312