سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نماز میں دس یا سو یا ہزار آیات تلاوت کرنے کا صلہ
ترقیم الباني: 3186 ترقیم فقہی: -- 800
- (من صلّى صلاةً لم يُتِمَّها؛ زِيدَ عليها مِن سُبُحاتِه حتّى تتِمَّ) . أخرجه الطبراني في"المعجم الكبير" (18/22- 23) : حدثنا عبد الله بن أحمد
سیدنا عائذ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (فرضی) نماز پڑھی اور اسے مکمل نہ کیا تو اس کی نفلی نماز کے ذریعے اسے مکمل کر دیا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 800]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3186
ترقیم الباني: 642 ترقیم فقہی: -- 801
-" من قام بعشر آيات لم يكتب من الغافلين ومن قام بمائة آية كتب من القانتين ومن قرأ بألف آية كتب من المقنطرين".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (رات کو) دس آیات کے ساتھ قیام کیا اسے غافلوں میں سے نہیں لکھا جاتا، جس نے سو آیتوں کے ساتھ قیام کی اسے عاجزی کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے اور جس نے ہزار آیتوں کے ساتھ قیام کیا اسے ڈھیروں اجر حاصل کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 801]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 642
ترقیم الباني: 643 ترقیم فقہی: -- 802
-" من قرأ في ليلة مائة آية لم يكتب من الغافلين، أو كتب من القانتين".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک رات میں (قیام کے دوران) سو آیتوں کی تلاوت کی اسے غافل لوگوں میں نہیں لکھا جاتا یا اسے قیام کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 802]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 643
ترقیم الباني: 644 ترقیم فقہی: -- 803
-" من قرأ بمائة آية في ليلة كتب له قنوت ليلة".
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک رات کے (قیام میں) سو آیات تلاوت کیں، اس کے حق میں پوری رات کے قیام کا ثواب لکھا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 803]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 644
ترقیم الباني: 657 ترقیم فقہی: -- 804
-" من حافظ على هؤلاء الصلوات المكتوبات لم يكتب من الغافلين ومن قرأ في ليلة مائة آية كتب من القانتين".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ان فرضی نمازوں پر محافظت کی، اس کو غافل لوگوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے رات کو (قیام کرتے ہوئے) سو آیات کی تلاوت کر لی، اسے فرمانبرداروں میں لکھ دیا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 804]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 657
نماز کی حالت میں بالوں کو سر کے پیچھے اکٹھے کر کے باندھا منع ہے
ترقیم الباني: 2386 ترقیم فقہی: -- 805
-" نهى أن يصلي الرجل وهو عاقص شعره".
مخول کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کے باشندے ابوسعد کو کہتے سنا، اس نے کہا: میں نے دیکھا کہ حسن نماز پڑھ رہا تھا، اس نے اپنے بال، سر پر اکھٹے کر کے باندھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافع نے اس کے بالوں کو کھول دیا یا ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے بال اس کے سر کے پیچھے اکٹھے کر کے بندے ہوئے ہوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 805]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2386
خطبہ جمعہ کے دوران دنیا کی خاطر چلا جانا سنگین جرم ہے
ترقیم الباني: 3147 ترقیم فقہی: -- 806
- (والذي نفسي بيدِه! لوتتابعتُم حتَّى لا يبقى منكم أحدٌ؛ لسال بكُمُ الوادي ناراً) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، مدینہ میں ایک (تجارتی) قافلہ آیا، اصحاب رسول اس کی طرف لپک پڑے اور (مسجد میں) صرف بارہ آدمی بچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ صورتحال دیکھ کر) فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم سارے کے سارے چلے جاتے اور کوئی بھی باقی نہ بچتا تو اس وادی میں آگ بہہ پڑتی جو تمیں بہا کر لے جاتی۔“ پھر یہ آیات نازل ہوئیں: ”جب وہ کوئی سودا بکتے دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔“ (سورۂ جمعہ:۱۱) راوی کہتے ہیں: جو بارہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے رہے، ان میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 806]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3147
کون سی مسجد میں اعتکاف کیا جائے؟
ترقیم الباني: 2786 ترقیم فقہی: -- 807
-" لا اعتكاف إلا في المساجد الثلاثة".
ابووائل کہتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کچھ لوگ تمہارے اور ابو موسیٰ کے گھر کے درمیان اعتکاف کی نیت سے بیٹھے ہیں اور آپ انہیں منع نہیں کرتے؟ حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعتکاف نہیں ہے، مگر تین مساجد میں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: شاہد تو بھول گیا ہو اور انہیں یاد ہو یا شاید تجھے غلطی لگی ہو اور وہ درست ہوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 807]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2786
قبر پر یا قبر رخ ہو کا نماز پڑھنا منع ہے
ترقیم الباني: 1016 ترقیم فقہی: -- 808
-" لا تصلوا إلى قبر ولا تصلوا على قبر".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو اور نہ قبر کے اوپر۔ “ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 808]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1016
نماز اور سلام کو ناقص چھوڑنا منع ہے
ترقیم الباني: 318 ترقیم فقہی: -- 809
-" لا غرار في صلاة، ولا تسليم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز (کے ارکان) میں نقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 809]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 318