🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نماز وتر کب پڑھی جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2610 ترقیم فقہی: -- 820
-" من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله، ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل، فإن صلاة آخر الليل مشهودة، وذلك أفضل".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کو رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکنے کا اندیشہ ہو، وہ ابتدائے رات میں وتر کی نماز ادا کر لیا کرے“ اور جس کو یہ امید ہو کہ آخر رات بیدار ہو جائے گا تو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ افضل ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 820]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2610

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کیا نماز وتر فرض ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 842 ترقیم فقہی: -- 821
-" أتاني جبريل عليه السلام من عند الله تبارك وتعالى، فقال: يا محمد إن الله عز وجل قال لك: إني قد فرضت على أمتك خمس صلوات، من وافاهن على وضوئهن ومواقيتهن وسجودهن، فإن له عندي بهن عهد أن أدخله بهن الجنة ومن لقيني قد أنقص من ذلك شيئا ـ أو كلمة تشبهها ـ فليس له عندي عهد إن شئت عذبته وإن شئت رحمته".
ابوادریس خولانی کہتے ہیں: میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا تھا، ان میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے نماز وتر (کے حکم پر) بحث کی، بعض نے کہا کہ نماز وتر واجب ہے، جبکہ بعض نے اس سنت قرار دیا۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے (اپنی رائے پیش کرتے ہوئے) کہا: میں تو گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےسنا: ”میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سےجبریل آئے اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے: میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو آدمی وضو، اوقات اور سجود وغیرہ سمیت ان کا پورا حق ادا کرے گا، اس سے میرا معاہدہ ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو آدمی ان کی ادائیگی میں کمی کر کے مجھے ملے گا تو اس کے لیے میرے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، چاہوں تو عذاب دوں اور چاہوں تو رحم کر دوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 821]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 842

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2208 ترقیم فقہی: -- 822
-" الذي لا ينام حتى يوتر حازم".
سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عشاء کی نماز مسجد نبوی میں پڑتا تھا، اس کے بعد ایک رکعت وتر پڑھتا تھا۔ مجھے کہا جاتا تھا: ابواسحاق! آپ نماز وتر کی ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں، زیادہ نہیں پڑھتے، (کیا وجہ ہے)؟ میں کہتا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ دور اندیشی سے کام لے رہا ہے جو سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 822]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2208

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2961 ترقیم فقہی: -- 823
-" أوتر صلى الله عليه وسلم بخمس، وأوتر بسبع".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) پانچ اور (کبھی) سات وتر پڑھتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 823]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2961

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رکعات وتر ایک سے نو تک
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2962 ترقیم فقہی: -- 824
-" كان يوتر بركعة، وكان يتكلم بين الركعتين والركعة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے اور دو رکعتوں کے بعد آخری رکعت ادا کرنے سے پہلے باتیں بھی کر لیتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 824]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2962

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز وتر کے بعد نفلی نماز ادا کرنا درست ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1993 ترقیم فقہی: -- 825
-" إن هذا السفر جهد وثقل، فإذا أوتر أحدكم فليركع ركعتين، فإن استيقظ وإلا كانتا له".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چونکہ یہ سفر باعث مشقت و زحمت ہے، اس لیے ہر کوئی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھ لے، اگر (‏‏‏‏ قیام کرنے کے لیے) جاگ آ گئی تو ٹھیک، وگرنہ یہی دو رکعتیں اسے کفایت کر جائیں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 825]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1993

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں