سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
دو رکعت نماز دنیا و مافیہا سے بہتر ہے
ترقیم الباني: 1388 ترقیم فقہی: -- 501
-" ركعتان خفيفتان مما تحقرون وتنفلون يزيدهما هذا - يشير إلى قبر - في عمله أحب إليه من بقية دنياكم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، جس میں کچھ ہی دیر پہلے میت کو دفن کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خفیف سی دو رکعتیں، جن کو تم حقیر اور زائد سمجھتے ہو، اگر یہ صاحب قبر اپنے عمل میں ان کا اضافہ کر لیتا تو وہ اس کی نظر میں تمہاری باقیماندہ دنیا سے بھی زیادہ محبوب ہوتیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 501]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1388
نمازی کا مقام و مرتبہ
ترقیم الباني: 1428 ترقیم فقہی: -- 502
-" خذ هذا ولا تضربه، فإني قد رأيته يصلي مقبلنا من خيبر وإني قد نهيت عن ضرب أهل الصلاة".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک غلام ہمیں دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے چاہتے ہو لے لو۔“ انہوں نے کہا: آپ خود میرے لیے پسند کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے لو، اس کو مارنا نہیں کیونکہ میں نے خیبر سے واپسی پر اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا غلام سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور اس کے ساتھ خیر و بھلائی اور حسن سلوک کرنے کا حکم دیا، پھر ایک دن پوچھا: ”ابوذر! میں نے تجھ کو جو غلام دیا تھا، اس کا کیا حال ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے اس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنے کا حکم دیا تھا، اس لیے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 502]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1428
روز جمعہ اور جمعہ ادا کرنے والوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 706 ترقیم فقہی: -- 503
-" إن الله يبعث الأيام يوم القيامة على هيئتها ويبعث يوم الجمعة زهراء منيرة أهلها يحفون بها كالعروس تهدى إلى كريمها تضيء لهم يمشون في ضوئها ألوانهم كالثلج بياضا وريحهم تسطع كالمسك يخوضون في جبال الكافور ينظر إليهم الثقلان ما يطرقون تعجبا حتى يدخلوا الجنة لا يخالطهم أحد إلا المؤذنون المحتسبون".
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے روز (ہفتہ کے سات) دنوں کو ان کی (مخصوص) شکل میں اٹھائے گا، جمعہ کا دن حسین اور چمکتا دمکتا ہو گا، اہل جمعہ (یعنی جمعہ ادا کرنے والے) اس کو ایسے گھیر لیں گے جیسے (سہلیاں) دلہن کو دلہا کی طرف رخصت کرتے وقت گھیر لیتی ہیں، جمعہ کا دن اپنے اہل کے لیے روشنی کرے گا اور وہ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے، ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے، ان کی بو کستوری کی طرح مہک رہی ہو گی، وہ کافور خوشبو کے پہاڑوں میں گھسے ہوئے ہوں گے، جن و انس انہیں دیکھ رہے ہوں گے اور وہ تعجب کی وجہ سے نگاہ نیچی نہیں کرنے پائیں گے کہ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ثواب کی امید سے اذان دینے والوں کے علاوہ کوئی بھی ان کے اس مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 503]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 706
نماز جمعہ گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
ترقیم الباني: 3623 ترقیم فقہی: -- 504
- (الجُمعَةُ إلى الجُمُعةِ كفّارةُ ما بينهما؛ ما لم تُغْشَ الكبائر) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک جمعہ اگلے جمعہ تک اپنے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 504]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3623
ترقیم الباني: 1920 ترقیم فقہی: -- 505
-" الصلوات الخمس كفارات لما بينهن ما اجتنبت الكبائر والجمعة إلى الجمعة وزيادة ثلاثة أيام".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور جمعہ، اگلے جمعہ تک ان تمام گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، جو ان کے درمیانے وقفوں میں سرزد ہو جاتے ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے اور (جمعہ) مزید تین دنوں میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بھی بن جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 505]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1920
ترقیم الباني: 3322 ترقیم فقہی: -- 506
- (الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان: مكفرات ما بينهن؛ إذا اجتُنبتِ الكبائر) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور جمعہ، دوسرے جمعہ تک اور ماہ رمضان، اگلے رمضان تک ان تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، جو ان کے درمیانی وقفوں میں سرزد ہو جاتے ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 506]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3322
نماز جمعہ ترک کرنے والی قوم کا وبال
ترقیم الباني: 2967 ترقیم فقہی: -- 507
-" لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات، أو ليختمن الله على قلوبهم، ثم ليكونن من الغافلين".
حکم بن مینا کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر کی تختیوں پر فرماتے ہوئے سنا: ”یا تو لوگ ضرور ضرور جمعہ کی نمازیں ترک کرنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، (جس کے نتیجے میں) وہ ضرور ضرور غافل ہو جائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 507]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2967
خاص طور پر جمعہ کی رات کو قیام کرنا یا جمعہ کو روزہ رکھنا منع ہے
ترقیم الباني: 980 ترقیم فقہی: -- 508
-" لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیام کے لیے جمعہ کی رات کو خاص نہ کرو اور نہ اس کے دن کو روزے کے لیے خاص کرو، ہاں اگر کوئی آدمی (اپنی ترتیب کے مطابق) روزے رکھ رہا ہے (اور اسے جمعہ کے دن روزہ رکھنا پڑ گیا ہے تو) وہ روزہ رکھ لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 508]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 980
دوران خطبہ جمعہ اونگھنے والا شخص اپنی نشت بدل لے
ترقیم الباني: 468 ترقیم فقہی: -- 509
-" إذا نعس أحدكم في المسجد يوم الجمعة، فليتحول من مجلسه ذلك إلى غيره".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اگر جمعہ کے روز کسی کو مسجد میں اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ بدل لیا کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 509]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 468
جمعہ مبارک کے لیے غسل کرنا
ترقیم الباني: 3971 ترقیم فقہی: -- 510
- (إذا راحَ أحدُكم إلى الجُمعةِ؛ فليغتسل) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، ایک آدمی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) مسجد میں داخل ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگ نماز کے معاملے میں تاخیر کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے جونہی اذان سنی تو وضو کر کے آ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے (مسجد میں) آئے تو غسل کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 510]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3971