🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جمعہ مبارک کے لیے غسل کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3510 ترقیم فقہی: -- 511
- (اغتسلُوا يوم الجمعة، واغسلُوا رؤوسَكُم، وإن لم تكونوا جنُباً) .
طاؤس یمانی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ اس قسم کی بات کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور سروں کو بھی (اچھی طرح) دھویا کرو، اگرچہ تم جنابت کی حالت میں نہ ہو اور خوشبو بھی لگایا کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: خوشبو کا تو مجھے علم نہیں، البتہ غسل کے بارے میں یہی بات ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 511]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3510

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1796 ترقیم فقہی: -- 512
-" ثلاث حق على كل مسلم: الغسل يوم الجمعة والسواك ويمس من طيب إن وجد".
ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”یہ تین چیزیں ہر مسلمان پر حق ہیں: جمعہ کے روز غسل کرنا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا، بشرطیکہ دستیاب ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 512]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1796

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
غسل جمعہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2331 ترقیم فقہی: -- 513
-" من جلب على الخيل يوم الرهان، فليس منا".
عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن غسل کر رہا تھا، کہ میرے والد صاحب تشریف لائے اور پوچھا غسل جنابت کر رہے ہو یا غسل جمعہ؟ میں نے کہا: غسل جنابت۔ انہوں نے کہا: ایک اور غسل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا وہ اگلے جمعہ تک طہارت میں رہے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 513]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز جمعہ کی طرف جلدی آنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3576 ترقیم فقہی: -- 514
- (إنما مثل المهجّر إلى الصلاة: كمثل الذي يُهدي البدنة، ثم الذي على إثره: كالذي يُهدي البقرة، ثم الذي على إثره: كالذي يُهدي الكبش، ثم الذي على إثره: كالذي يُهدي الدجاجة، ثم الذي على إثره: كالذي يُهدي البيضة) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (جمعہ) کی طرف جلدی آنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اونٹ کا صدقہ پیش کرتا ہے، اس کے بعد آنے والے کی مثال اس طرح ہے جو گائے کا صدقہ پیش کرتا ہے، اس کے بعد آنے کی مثال اس طرح ہے جو دنبے کا صدقہ پیش کرتا ہے، اس کے بعد آنے کی مثال اس کی طرح ہے جو مرغی کا صدقہ پیش کرتا ہے اور اس کے بعد آنے کی مثال اس طرح ہے جو انڈے کا صدقہ پیش کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 514]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3576

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ کے روز مسواک کرنا اور خوشبو لگانا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1796 ترقیم فقہی: -- 515
-" ثلاث حق على كل مسلم: الغسل يوم الجمعة والسواك ويمس من طيب إن وجد".
ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تین چیزیں ہر مسلمان پر جق ہیں: جمعہ کے روز غسل کرنا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا، بشرطیکہ دستیاب ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 515]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1796

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دوران خطبہ مقتدیوں کی کیفیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2080 ترقیم فقہی: -- 516
-" كان إذا صعد المنبر أقبلنا بوجوهنا إليه".
مطیع غزال اپنے باپ سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھتے تو ہم اپنے چہروں کے ساتھ آپ کی طرف متوجہ ہوتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 516]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2080

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خطیب کا منبر پر چڑھ کر سلام کہنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2076 ترقیم فقہی: -- 517
-" كان إذا صعد المنبر سلم".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھتے تو سلام کہتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 517]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2076

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دوران خطبہ جمعہ کلام کرنے کا نقصان
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2251 ترقیم فقہی: -- 518
-" صدق أبي".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور ان کے سوال کا جواب نہ دیا۔ جب نماز پوری کی تو ابی بن کعب نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: (آج) تم نے جمعہ ادا نہیں کیا۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی نے سچ کہا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 518]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2251

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کا ذریعہ ہے، نماز میں آواز کس قدر مخفی یا بلند ہونی چاہیئے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1597 ترقیم فقہی: -- 519
-" إن أحدكم إذا كان في الصلاة فإنما يناجي ربه، فلا ترفعوا أصواتكم بالقرآن فتؤذوا المؤمنين".
قبیلہ بنو بیاضہ کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے ایک عشرے کا اعتکاف کیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اس لیے (نماز میں) بآواز بلند قرآن مجید نہ پڑھا کرو (کیونکہ) اس طرح دوسرے مومنوں کو تکلیف ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 519]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1597

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1603 ترقیم فقہی: -- 520
-" إن المصلي يناجي ربه فلينظر بما يناجيه، ولا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن".
سیدنا ابوہریرہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر میں جھانکے اور دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور بلند آواز سے قرات کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”بیشک نمازی اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اس لیے اسے دھیان کرنا چاہیے کہ وہ کتنی بڑی ذات سے سرگوشی کر رہا ہے، (لہذا نماز میں) قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت ایک دوسرے پر آواز کو بلند نہیں کرنا چاہیئے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 520]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1603

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں