🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
عطیہ واپس لینے والے کی بری مثال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1699 ترقیم فقہی: -- 955
-" إن مثل الذي يعود في عطيته كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء، ثم عاد في قيئه فأكله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنا عطیہ واپس کر لیتا ہے، اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کھاتا رہا، جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے قے کر دی اور پھر قے کو چاٹنا شروع کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 955]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1699

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور صبر کی توفیق کب ملتی ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1664 ترقیم فقہی: -- 956
-" إن المعونة تأتي من الله على قدر المؤنة، وإن الصبر يأتي من الله على قدر البلاء".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک (انسان پر ڈالے گئے) بوجھ اور کلفت کے مطابق اللہ کی طرف سے اس کے لیے مددگار آتا ہے اور (اسی طرح اس پر ڈالی گئی) آزمائش کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے صبر (کی توفیق) ملتی ہے یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 956]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1664

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مفلس و نادار لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے ہاں اہمیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2643 ترقیم فقہی: -- 957
-" إن من أمتي من لو جاء أحدكم يسأله دينارا لم يعطه [ولو سأله درهما لم يعطه ولو سأله فلسا لم يعطه] ، ولو سأل الله الجنة لأعطاها إياه، ذو طمرين لا يؤبه له، لو أقسم على الله لأبره".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بعض افراد ایسے ہیں کہ اگر وہ تم میں سے کسی سے دینار کا سوال کریں، تو وہ انہیں نہیں دے گا، اگر درہم کا سوال کریں تو وہ انہیں نہیں دے گا اور اگر فلس (درہم کے چھٹے حصے) کا بھی سوال کریں تو وہ نہیں دے گا، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کریں تو انہیں جنت عطا کر دے گا۔ وہ لوگ مفلس و نادار ہیں، انہیں حقیر (اور نا قابل توجہ) سمجھا جاتا ہے، لیکن (اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی اتنی قدر و قیمت ہے کہ) اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا دیں تو وہ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 957]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2643

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
زکاۃ کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3232 ترقیم فقہی: -- 958
- (إنّ من تمامِ إسلامِكم أن تُؤدُّوا زكاة أموالِكم) .
عیسیٰ بن خضرمی بن کلثوم بن علقمہ بن ناجیہ خزاعی اپنے دادا کلثوم سے، وہ اپنے باپ سے روایت ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ مریسیع والے سال، جب وہ مسلمان ہوئے تھے، فرمایا تھا: ”مالوں کی زکوٰۃ دینے سے تمہارے اسلام کی تکمیل ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 958]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3232

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جانوروں کی زکوٰۃ کہاں وصول کی جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1779 ترقیم فقہی: -- 959
-" تؤخذ صدقات المسلمين على مياههم". يعني مواشيهم.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں سے (ان کے مویشیوں کی) زکوٰۃ پانی کے گھاٹ پر وصول کی جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 959]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1779

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گھوڑے اور غلام پر زکوٰۃ نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2189 ترقیم فقہی: -- 960
-" ليس في الخيل والرقيق زكاة إلا زكاة الفطر في الرقيق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے اور غلام پر کوئی زکوٰۃ نہیں، البتہ غلام پر صدقہ فطر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 960]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2189

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس خزانے کی مذمت، جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 721 ترقیم فقہی: -- 961
-" الدينار كنز والدرهم كنز والقيراط كنز، قالوا: يا رسول الله أما الدينار والدرهم فقد عرفناهما، فما القيراط؟ قال: نصف درهم، نصف درهم، نصف درهم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار خزانہ ہے، درہم بھی خزانہ ہے اور قیراط بھی خزانہ ہے۔“ صحابہ نے پوچھا: ہم دینار اور درہم کو تو پہچانتے ہیں، قیراط کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نصف درہم کو، نصف درہم کو، نصف درہم کو (قیراط کہتے ہیں)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 961]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 721

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 559 ترقیم فقہی: -- 962
-" ما بلغ أن تؤدى زكاته، فزكي فليس بكنز".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں سونے سے تیار کردہ پازیب پہنتی تھی، ایک دن میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی خزانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (زیور) زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچ جائے اور اس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو وہ خزانہ نہیں رہتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 962]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 559

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کون سی فصل میں زکوٰۃ ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 879 ترقیم فقہی: -- 963
-" الزكاة في هذه الأربعة: الحنطة والشعير والزبيب والتمر".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار اصناف میں زکوٰۃ نافذ کی: گندم، جو، منقی اور کھجور۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 963]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 879

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فصلوں پر زکوٰۃ کی شرح
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 142 ترقیم فقہی: -- 964
-" على المؤمنين في صدقة الثمار - أو مال العقار - عشر ما سقت العين وما سقت السماء، وعلى ما يسقى بالغرب نصف العشر".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن یعنی حارث بن عبد کلال اور اس کے معافری اور ہمدانی ساتھیوں کی طرف خط لکھا کہ: ”اگر زمین چشموں سے یا بارش سے سیراب ہوتی ہو تو اس کے پھلوں کی پیداوار یا مال پر دسواں حصہ زکوٰۃ ہے اور جن کو ڈول (وغیرہ کے ذریعے کھینچ کر) پانی پلایا جاتا ہے، ان کی (پیداوار پر) بیسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 964]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 142

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں