🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
دوسرے کا مال کب قبول کیا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1324 ترقیم فقہی: -- 945
-" إذا ساق الله إليك رزقا من غير مسألة ولا إشراف نفس فخذه، فإن الله أعطاك".
قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن سعدی کو ایک ہزار دینار دینا چاہا، لیکن اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں تجھے وہی بات کہوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمائی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے کوئی مال عطا کرے، جبکہ تو نے نہ کسی سے سوال کیا اور نہ اس کے لیے حرص و طمع رکھی ہو، تو وہ قبول کر لیا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ تجھے عطا کر رہا ہوتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 945]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1324

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1187 ترقیم فقہی: -- 946
-" إذا آتاك الله مالا لم تسأله ولم تشره إليه نفسك فاقبله، فإنما هو رزق ساقه الله إليك".
زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اہل شام کا ایک پسندیدہ آدمی تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تم میں کون سی صفت ہے جس کی وجہ سے اہل شام تجھ سے محبت کرتے ہیں؟ اس نے کہا: میں ان کے ساتھ مل کر جہاد کرتا ہوں اور ان سے ہمدردی کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دس ہزار (دینار) دیے اور کہا: یہ لے لو اور ان کو اپنے غزووں میں استعمال کرو۔ اس نے کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر اس سے کم مال پیش کیا تھا جو میں نے تجھ پر کیا اور میں نے وہی بات کہی جو تو نے کہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تجھے کوئی مال عطا کرے، جبکہ تو نے نہ اس کا سوال کیا ہو اور نہ اس کا حریص بنا ہو، تو قبول کر لیا کر، کیونکہ وہ تو اللہ کا رزق ہوتا ہے جو وہ تجھے عطا کرتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 946]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1187

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بیوی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2571 ترقیم فقہی: -- 947
-" إذا ملك الرجل المرأة لم تجز عطيتها إلا بإذنه".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد (نکاح کے ذریعے)کسی عورت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا (کسی کو) عطیہ دینا جائز نہیں ہوتا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 947]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2571

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
لوگوں سے مستغنی ہونے کی کوشش کی جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1450 ترقیم فقہی: -- 948
-" استغنوا عن الناس ولو بشوص السواك".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے غنی (اور بے پرواہ) ہو جاؤ، اگرچہ وہ مسواک ملنے کی صورت میں ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 948]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1450

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہاتھ کو صرف خیر و بھلائی کی طرف بڑھایا جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1560 ترقیم فقہی: -- 949
-" املك يدك، وفي رواية: لا تبسط يدك إلا إلى خير".
سیدنا اسود بن اصرم محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھ کو قابو میں رکھ۔ اور ایک اور روایت میں ہے: ہاتھ کو نہ پھیلا، مگر خیر و بھلائی کی طرف۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 949]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1560

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تالیف قلبی کی خاطر بعض لوگوں کو بعض پر ترجیج دینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3494 ترقیم فقہی: -- 950
ـ (أمّا بعدُ: فو الله! إنِّي لأعْطي الرجُلَ و [أدعُ الرجلَ] ، والذي أدعُ أَحَبُّ إليَّ من الذي أعطي، ولكنْ أُعْطي أقواماً لِما أرى في قلوبهم من الجَزَع والهلَعِ، وأَكِلُ أقواماً إلى ما جَعَل اللهُ في قلوبهم من الغنَى والخير، منهم: عمرو بنُ تغْلب) .
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے۔ آپ نے ان کو تقسیم کیا اور کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہ دیا۔ جب آپ کو یہ بات پہنچی کہ جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا انہوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: اما بعد، اللہ کی قسم! میں کسی کو دیتا ہوں اور کسی کو نہیں دیتا۔ وہ لوگ جن کو میں چھوڑ دیتا ہوں (اور کوئی مال وغیرہ نہیں دیتا) وہ مجھے ان سے زیادہ محبوب ہیں جن کو میں دیتا ہوں (یاد رکھو) ان کو صرف اس لیے دیتا ہوں کہ میں ان کے دلوں میں گھبراہٹ اور سخت بےچینی دیکھتا ہوں اور دوسرے لوگوں کو میں اس تونگری اور بھلائی کے سپرد کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ ان ہی لوگوں میں سے عمرو بن تغلب ہے۔ عمرو بن تغلب کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کے مقابلے میں سرخ اونٹ لینا بھی پسند نہیں ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 950]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3494

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3590 ترقیم فقہی: -- 951
- (إنّي أُعطِي قُريشاً أتألّفهم؛ لأنهم حديثُ عهدٍ بجاهليةٍ) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قریش کی تالیف قلبی کے لیے انہیں دیتا ہوں، کیونکہ انہوں نے حال ہی میں جاہلیت کو ترک کیا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 951]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3590

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3591 ترقیم فقہی: -- 952
- (إنّي أُعطِي قوماً؛ أخافُ ظَلَعَهُم وجَزَعهُم، وأَكِلُ أقواماً إلى ما جعل الله في قلوبهم من [الغنى و] الخير؛ [منهم عمرو بن تغلب] ) .
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو مال دیا اور بعضوں کو ترک کر دیا، جب ان لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں کیونکہ مجھے ان کی بے تابی اور بے صبری کا ڈر ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کو میں اس تونگری اور بھلائی کے سپرد کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ ان ہی لوگوں میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے۔ سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کے مقابلے میں سرخ اونٹ لینا بھی پسند نہیں ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 952]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3591

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمارتوں پر خرچ کرنا فضوں ہے، الایہ کہ . . .
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2830 ترقیم فقہی: -- 953
-" أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا، إلا ما لا، يعني: ما لابد منه".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، ایک بلند گنبد دیکھا اور فرمایا:یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: یہ فلاں انصاری آدمی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا۔ جب اس کا مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اس سے اعراض کیا، اس نے کئی مرتبہ سلام کہا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کرتے رہے)۔ بالآخر اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اور اعراض کا اندازہ ہو گیا، اس نے صحابہ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: بخدا! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجیب و اجنبی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ باہر نکلے تھے اور تیرا گنبد دیکھا تھا۔ سو وہ آدمی فوراً اپنے گنبد کی طرف لوٹا اور اس کو گرا کر زمین میں برابر کر دیا۔ (پھر) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: گنبد کو کیا ہوا؟ صحابہ نے کہا: اس نے ہمارے سامنے آپ کے اعراض کرنے کا شکوہ کیا، ہم نے (آپ کی ناپسندیدگی کی ساری صورتحال) اس پر واضح کر دی، اس لیے اس نے اس کو منہدم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت اپنے مالک کے حق میں وبال ہے، سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 953]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2830

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2831 ترقیم فقہی: -- 954
-" إن الرجل يؤجر في نفقته كلها إلا في هذا التراب".
ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ، جنہوں نے اپنے بدن پر سات داغ لگائے ہوئے تھے، کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کیا کرو تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا۔ وہ اپنی دیوار (یعنی مکان وغیرہ) درست کر رہے تھے، اسی اثنا میں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آدمی کو اس کے ہر قسم کے خرچے پر اجر دیا جاتا ہے مگر اس مٹی میں (یعنی مکان تعمیر کرنے میں کوئی اجر نہیں)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزكاة والسخاء والصدقة والهبة/حدیث: 954]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2831

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں