سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
بیع عینہ
ترقیم الباني: 11 ترقیم فقہی: -- 1068
-" إذا تبايعتم بالعينة وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیع عینہ کرو گے، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی کو پسند کرو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا اور اس وقت تک اس کو دور نہیں کرے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہیں پلٹ آؤ گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1068]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 11
محاقلہ اور مزابنہ
ترقیم الباني: 1715 ترقیم فقہی: -- 1069
-" إنما يزرع ثلاثة: رجل له أرض، فهو يزرعها ورجل منح أرضا فهو يزرع ما منح ورجل استكرى أرضا بذهب أو فضة".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا اور فرمایا: ”تین قسم کے لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں: (۱) وہ آدمی جو اپنی زمین میں کھیتی باڑی کرتا ہے، (۲) وہ آدمی، جس کو زمین عارضی طور پر عطیہ دی گئی، وہ اس میں کھیتی باڑی کرتا ہے اور (۳) وہ آدمی جس نے سونے یا چاندی کے عوض زمین کرائے پر لی ہو (وہ اس میں کھیتی باڑی کرتا ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1069]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1715
شہری، یہاتی کے لئے بیع نہ کرے
ترقیم الباني: 1030 ترقیم فقہی: -- 1070
-" لا تلقوا البيوع ولا يبع بعض على بعض ولا يخطب أحدكم - أو أحد - على خطبة أخيه حتى يترك الخاطب الأول أو يأذنه فيخطب".
سیدنا عبدللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کی بیع کرے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تاجروں کو آگے بڑھ کر نہ ملو (بلکہ ان کو منڈی تک پہنچنے دو) ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو اور ایک دوسرے کی منگنی پر منگنی کا پیغام نہ بھیجو، یہاں تک کہ پہلا منگیتر (اس منگیتر لڑکی سے نکاح کرنے کے خیال کو) ترک کر دے یا پھر دوسرے بھائی کو پیغام بھیجنے کی اجازت دے دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1070]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1030
ذخیرہ اندوزی منع ہے
ترقیم الباني: 3362 ترقیم فقہی: -- 1071
- (من احتكر حكرة يريد أن يغلي بها على المسلمين؛ فهو خاطئ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خطاکار ہے جو مسلمانوں پر چیزوں کی قیمتیں بڑھانے کے لیے ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1071]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3362
سود کی نحوست
ترقیم الباني: 1033 ترقیم فقہی: -- 1072
-" درهم ربا يأكله الرجل - وهو يعلم - أشد عند الله من ستة وثلاثين زنية".
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ راہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی دانستہ طور پر ایک درہم سود کھاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں (اس کا یہ جرم) چھتیس دفعہ زنا کرنے سے سنگین ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1072]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1033
ترقیم الباني: 1871 ترقیم فقہی: -- 1073
-" الربا اثنان وسبعون بابا أدناها مثل إتيان الرجل أمه وإن أربى الربا استطالة الرجل في عرض أخيه".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود کے ستر درجے ہیں، سب سے کم درجہ (کا گناہ) اپنی ماں سے منہ کالا کرنے کے برابر ہے۔“ اور سب سے بڑا سود یعنی زیادتی یہ ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1073]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1871
ربا الفضل
ترقیم الباني: 3574 ترقیم فقہی: -- 1074
- (لا صاعَيْ تمرٍ بصاعٍ، ولا صاعَيْ حنطةٍ بصاعٍ، ولا درْهَمَ بدرهمَينِ) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ملی جلی کھجوریں ملتی تھیں، ہم ایک صاع کے عوض دو صاع فروخت کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے ایک صاع کے عوض دو صاع کو، گندم کے ایک صاع کے بدلے دو صاع کو اور ایک درہم کے عوض دو درہموں کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1074]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3574
کتے اور شراب کی قیمت اور زانیہ کی کمائی حرام ہے کوبہ، نرد اور شطرنج کا معنی و مفہوم
ترقیم الباني: 1303 ترقیم فقہی: -- 1075
-" إذا جاءك يطلب ثمن الكلب فاملأ كفيه ترابا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع کیا اور فرمایا: ”جب کوئی آدمی تیرے پاس کتے کی قیمت لے کر آئے تو اس کی ہتھیلیوں کو مٹی سے بھر دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1075]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1303
ترقیم الباني: 2990 ترقیم فقہی: -- 1076
-" ثلاثة كلهن سحت: كسب الحجام، ومهر البغي، وثمن الكلب، إلا الكلب الضاري".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین (چیزیں) حرام ہیں حجام کی کمائی، زانیہ عورت کی کمائی اور کتے کی قیمت سوائے شکاری کتے کے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1076]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2990
ترقیم الباني: 1806 ترقیم فقہی: -- 1077
-" ثمن الخمر حرام ومهر البغي حرام وثمن الكلب حرام والكوبة حرام وإن أتاك صاحب الكلب يلتمس ثمنه، فاملأ يديه ترابا، والخمر والميسر وكل مسكر حرام".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کی قیمت حرام ہے، زانیہ کی کمائی حرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، کوبہ حرام ہے اور اگر کتے کا مالک اس کی قیمت لینے کے لیے تیرے پاس آئے تو اس کے ہاتھوں کو مٹی سے بھر دو اور شراب، جوا اور ہر نشہ آور چیز بھی حرام ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1077]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1806