🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
طلب دنیا میں میانہ روی اختیار کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 898 ترقیم فقہی: -- 1088
-" أجملوا في طلب الدنيا، فإن كلا ميسر لما خلق له".
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا (کے مال) کے حصول میں میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جس کو جس چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دی گئی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1088]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 898

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 910 ترقیم فقہی: -- 1089
-" احذروا الدنيا، فإنها خضرة حلوة".
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے بچو، کیونکہ وہ سرسبز و شاداب، (پرکشش) اور میٹھی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1089]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 910

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1592 ترقیم فقہی: -- 1090
-" إن الدنيا خضرة حلوة، فمن أخذها بحقها بورك له فيها، ورب متخوض في مال الله ومال رسوله (ليس) له (إلا) النار يوم يلقى الله".
سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کے پاس تشریف لائے اور دونوں آپس میں دنیا کا تذکرہ کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک دنیا سرسبز و شاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، جس نے اس کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کیا، اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جائے گی اور بہت زیادہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مال میں (ناحق) گھسنے والے ہیں جس دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملیں گے ان کو آگ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1090]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1592

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 911 ترقیم فقہی: -- 1091
-" إن الدنيا خضرة حلوة وإن الله عز وجل مستخلفكم فيها لينظر كيف تعملون، فاتقوا الدنيا واتقوا النساء، فإن أول فتنة بني إسرائيل كانت في النساء".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک دنیا سرسبز و شاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو اس میں خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ جانچ سکے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ پس دنیا اور عورتوں سے بچ کر رہنا، کیونکہ بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں میں واقع ہوا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1091]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 911

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1716 ترقیم فقہی: -- 1092
-" إنما يكفي أحدكم ما كان في الدنيا مثل زاد الراكب".
یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے، انہوں نے کہا: اللہ کے بندے! خوش ہو جا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حوض پر وارد ہو گا۔ اس نے اپنے گھر کی اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس کا کیا بنے گا؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایاتھا: ”تمہارے لیے دنیا سے اتنا (مال و دولت) کافی ہے، جتنا کہ مسافر کا زادراہ ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1092]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1716

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کثرت مال سے دین متاثر ہوتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2216 ترقیم فقہی: -- 1093
-" ما أخشى عليكم الفقر ولكني أخشى عليكم التكاثر، وما أخشى عليكم الخطأ ولكني أخشى عليكم التعمد".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہارے، بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں ہے، بلکہ (مال و دولت کی) کثرت کا ڈر ہے، (اور دوسری بات یہ ہے کہ) مجھے تمہارے میں بارے میں نادانستہ طور پر غلطی کرنے کا ڈر نہیں ہے۔ بلکہ جان بوجھ کر گناہ کرنے کا ڈر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1093]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2216

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے لاتعلقی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1275 ترقیم فقہی: -- 1094
-" لست من الدنيا وليست مني، إني بعثت والساعة نستبق".
اسماعیل بن عبداللہ سے روایت ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ولید بن مالک کے پاس آئے۔ ولید نے ان سے پوچھا: تم نے قیامت کے بارے میں تذکرہ فرماتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا؟ جواباً: انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دنیا سے ہوں نہ دنیا مجھ سے ہے، (یعنی میرا دنیا سے کوئی تعلق نہیں)، مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا کہ ہم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے (‏‏‏‏کی کوشش کر) رہے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1094]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1275

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیوی آساشوں کو ترجیح نہ دینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2484 ترقیم فقہی: -- 1095
-" والله يا عائشة! لو شئت لأجرى الله معي جبال الذهب والفضة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک انصاری عورت میرے پاس آئی، اس نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر تو ایک چادر ہے، جسے دوہرا کر دیا گیا ہے۔ وہ چلی گئی اور ایسا بچھونا بھیجا، جس کا بھراؤ اون تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں انصاری خاتون میرے پاس آئی تھی، اس نے آپ کا بستر دیکھا اور چلی گئی اور یہ بچھونا بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ واپس کر دو۔“ لیکن میں نے واپس نہ کیا، کیونکہ میں پسند کرتی تھی کہ میرے گھر میں (ایسا بچھونا) ہونا چاہیے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرما دیا (کہ اس کو واپس کر دو)۔ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے عائشہ! اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ سونے اور چاندی کے پہاڑے میرے ساتھ چلا دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1095]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2484

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صدقہ و خیرات سے شدید محبت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1139 ترقیم فقہی: -- 1096
-" لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا تمر علي ثلاث ليال عندي منه شيء إلا شيئا أرصده لدين".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند ہو گی (کہ میں اس کو اتنا جلدی راہ حق میں خرچ کر دوں) کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں اور اس کی کچھ مقدار میرے پاس باقی ہو مگر اتنا حصہ جس کا میں قرضہ چکانے کے لیے روک لوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1096]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1139

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2211 ترقیم فقہی: -- 1097
-" ما أحب أن أحدا ذاك عندي ذهب، أمسى ثالثة عندي منه دينار إلا دينارا أرصده لدين، إلا أن أقول به في عباد الله هكذا - حثا بين يديه -، وهكذا - عن يمينه -، وهكذا - عن شماله -".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر سونا ہو اور (تیسرے دن کی) شام ہو جائے اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی ہو، مگر وہ دینار جس کو قرضہ چکانے کے لیے اپنے پاس رکھ لوں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے اور دائیں بائیں تمثیل پیش کرتے ہوئے چلو بھر بھر کر ڈالے اور فرمایا) میں تو چاہوں گا کہ اس مال کو بندگان خدا میں اس طرح تقسیم کر دوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1097]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2211

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں