🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
غزوہ تبوک کے موقع پر عذر خواہوں کا راز کھل گیا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2988 ترقیم فقہی: -- 2183
-" يا جد! هل لك في جلاد بني الأصفر؟".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جد بن قیس! کیا تجھے بنوالاصفر سے تلوار کے ساتھ مقابلہ کرنے کی رغبت ہے؟ جد نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے (اپنے ساتھ نہ جانے کی) اجازت دے دیں، کیونکہ میں عورتوں سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ بنوالاصفر کی بیٹیوں کو دیکھ کر فتنے میں نہ پڑ جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نے اعراض کرتے ہوئے اسے فرمایا: میں نے تجھے اجازت دے دی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا» اور ان میں سے کوئی تو کہتا ہے: مجھے اجازت دیجئے، مجھے فتنے میں نہ ڈالیے۔ آگاہ رہو! وہ تو فتنے میں پڑ چکے ہیں۔ (۹-التوبة:۴۹) [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2183]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2988

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں