سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ہجرت حبشہ
ترقیم الباني: 3190 ترقیم فقہی: -- 2143
- (إنَّ بأرضِ الحبشةِ مَلِكاً لا يُظلمُ أحدٌ عنده، فالحقُوا ببلادِه حتّى يجعل اللهُ لكم فرجاً ومخرجاً مّما أنتُم فيهِ) .
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مکہ (کی سرزمین) ہم پر تنگ ہو گئی، اصحاب رسول کو تکالیف دی گئیں اور انہیں آزمایا گیا اور انہوں نے دیکھا کہ ہم اپنے دین کی وجہ سے جن آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا ہیں، (فی الحال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو رفع رفع نہیں کر سکتے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم اور چچا کی وجہ سے طاقت و عزت حاصل تھی، اس لیے آپ مکروہات، جن میں عام صحابہ مبتلا تھے، سے محفوظ تھے۔ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”حبشہ میں ایک بادشاہ ہے، اس کی سلطنت میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، تم لوگ اس سے جا ملو، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان مصائب سے کشادگی اور راہ فرار کی کوئی صورت پیدا کر دے۔“ ہم (نے اس تجویز پر عمل کیا اور) گروہوں کی شکل میں (مکہ سے) نکل پڑے اور ایک بہترین مقام پر اور بہترین پڑوسی کے پاس اکٹھے ہو گئے، اس نے ہم کو ہمارے دین پر اما ن دی اور ہمیں اس کی طرف سے کسی قسم کے ظلم کا اندیشہ نہ رہا۔ راوی نے طویل حدیث ذکر کی، اسی طرح یہ روایت سنن میں ہے اور چار صفحات میں مکمل روایت بیان کی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2143]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3190
سفر ہجرت میں فوت ہونے والے کی فضیلت
ترقیم الباني: 3218 ترقیم فقہی: -- 2144
- (هاجر خالد بن حزام إلى أرض الحبشة، فنهشتهُ حيةٌ في الطريق فمات، فنزلت فيه: (ومن يخرج من بيته مهاجراً إلى الله ورسوله ثم يُدرِكه الموت فقد وقع أجره على الله وكان الله غفوراً رحيماً) [النساء: 100] . قال الزبير بن العوام: وكنت أتوقعه وأنتظر قدومه وأنا بأرض الحبشة، فما أحزنني شيءٌ حُزنَ وفاته حين بلغني؛ لأنه قلَّ أحدٌ ممن هاجر من قريش إلا معه بعض أهله أو ذي رحِمِهِ، ولم يكُن معي أحدٌ من بني أسد بن عبد العُزَّى، ولا أرجو غيره) .
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: خالد بن حرام نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی، راستے میں ایک سانپ نے اسے ڈسا اور وہ فوت ہو گیا، پس یہ آیت نازل ہوئی: «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَحِيمًا» ”اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف نکل کھڑا ہوا، پھر اسے موت نے آ پکڑا تو یقیناً اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔“ [4-النساء: 100]
زبیر بن عوام کہتے ہیں کہ مجھے ان کی توقع تھی اور حبشہ میں میں ان کے آنے کا انتظار کر رہا تھا، جب مجھے ان کی وفات کی خبر ملی تو میں رنج و غم میں مبتلا ہو گیا، کیونکہ جو بھی قریش سے ہجرت کر کے گیا، اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی بیوی بچہ یا رشتہ دار ہوتا تھا اور میرے ساتھ بنواسد بن عبدالعزی قبیلے کا کوئی آدمی نہ تھا اور نہ مجھے اس کے علاوہ کسی کی امید تھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2144]
زبیر بن عوام کہتے ہیں کہ مجھے ان کی توقع تھی اور حبشہ میں میں ان کے آنے کا انتظار کر رہا تھا، جب مجھے ان کی وفات کی خبر ملی تو میں رنج و غم میں مبتلا ہو گیا، کیونکہ جو بھی قریش سے ہجرت کر کے گیا، اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی بیوی بچہ یا رشتہ دار ہوتا تھا اور میرے ساتھ بنواسد بن عبدالعزی قبیلے کا کوئی آدمی نہ تھا اور نہ مجھے اس کے علاوہ کسی کی امید تھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2144]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3218
دوران قتال شعار
ترقیم الباني: 3097 ترقیم فقہی: -- 2145
- (إنْ بُيِّتُّمْ فَلْيَكُنْ شِعارُكُم: (حم) لا يُنْصَرُونَ) .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اگر تم پر رات کو اچانک حملہ کر دیا جائے تو تمہارا شعار (تعارف کے لیے نشان خاص) «حم لاينصرون» (حم۔ کافروں کی مدد نہیں کی جائے گی) ہونا چاہیے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2145]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3097
مشرکوں سے معاونت نہ لی جائے
ترقیم الباني: 1101 ترقیم فقہی: -- 2146
-" إنا لا نستعين بالمشركين على المشركين".
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بروز اتوار نکلے اور ثنیہ وادع کو عبور کر گئے، آپ کو ہتھیاروں سے لیس ایک لشکر نظر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہے۔“ صحابہ نے کہا: یہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے، جو سیدنا عبداللہ بن سلام کے قبیلے بنو قینقاع کے چھ سو یہودی رفقا کے ہمراہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آیا یہ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہو کہ لوٹ جاؤ، میں مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2146]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1101
فتح پر دف بجانے کی نذر پوری کرنا
ترقیم الباني: 2261 ترقیم فقہی: -- 2147
-" إن كنت نذرت فاضربي، وإلا فلا".
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کے لیے نکلے۔ جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی لڑکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت و سلامتی کے ساتھ لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے (واقعی) نذر مانی ہے تو دف بجالے، ورنہ نہیں۔“ اس نے دف بجانا شروع کردیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہ بجاتی رہی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہ بجاتی رہی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہ بجاتی رہی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اس نے اپنے سرین کے نیچے دف رکھ دیا اور اس پر بیٹھ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا یہ دف بجاتی رہی، ابوبکر آئے یہ بجاتی رہی، پھر علی آئے یہ بجاتی رہی، پھر عثمان آئے یہ بجاتی رہی۔ عمر! تم جب داخل ہوئے تو اس نے دف رکھ دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2147]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2261
مومن، شیطانوں کو تھکا دیتا ہے
ترقیم الباني: 3586 ترقیم فقہی: -- 2148
- (إن المؤمن لَيُنْضِي شياطينه؛ كما يُنضِي أحدكم بَعيرَه في السفر) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مومن اپنے شیطانوں کو اس طرح تھکا دیتا ہے، جس طرح تم میں سے ایک آدمی سفر میں اپنے اونٹ کو تھکا دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2148]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3586
حیرہ مقام کی فتح کی پیش گوئی
ترقیم الباني: 2825 ترقیم فقہی: -- 2149
-" مثلت لي الحيرة كأنياب الكلاب وإنكم ستفتحونها".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے حیرہ (مقام) کو کتوں کی کچلیوں سے تشبیہ دی گئی اور عنقریب تم اسے فتح کر لو گے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بنت بقیلہ مجھے عطا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے دے دو۔“ اس کے باپ نے آ کر کہا: ”کیا تو مجھے وہ فروخت کر دے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: کتنی قیمت میں؟ اس نے کہا: من مانی کروں گا اور ایک ہزار درہم (کے عوض فروخت کروں گا)۔ اس نے کہا: میں نے خرید لی ہے۔ کہا گیا کہ اگر میں تیس ہزار کہتا تو؟ اس نے کہا: بھلا ہزار سے بڑا کوئی عدد ہے؟ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2149]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2825
آخرت کی کامیابی کے مقابلے میں فتوحات بھی بے معنی ہیں
ترقیم الباني: 2790 ترقیم فقہی: -- 2150
-" عرض علي ما هو مفتوح لأمتي بعدي، فسرني، فأنزل الله تعالى: * (وللآخرة خير لك من الأولى) * إلى قوله * (فترضى) *. أعطاه الله في الجنة ألف قصر من لؤلؤ، ترابها المسك، في كل قصر ما ينبغي له".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھ پر میری امت کو مفتوحہ علاقے پیش کئے گئے تو میں بڑا خوش ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى ٭ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى» ”اور آخرت تیرے لیے دنیا سے بہتر ہے۔ اور تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (و خوش) ہو جائے گا۔“ (۹۳-الضحى:۴،۵) اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں موتیوں کے ایک ہزار محلات دیے ہیں، جن کی مٹی کستوری ہے اور ہر ایک محل میں وہی کچھ ہے جو اسے جچتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2150]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2790
عہد کی حفاظت کی عظیم مثال
ترقیم الباني: 702 ترقیم فقہی: -- 2151
-" إني لا أخيس بالعهد ولا أحبس البرد ولكن ارجع، فإن كان في نفسك الذي في نفسك الآن فارجع".
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کے پاس لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں۔ تم لوٹ جاؤ اور اگر دل میں وہی (قبولیت اسلام کی چاہت) رہی، جو اب ہے تو لوٹ آنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2151]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 702
دوران سفر روزہ رکھنا
ترقیم الباني: 2884 ترقیم فقہی: -- 2152
-" أي ذلك عليك أيسر فافعل. يعني إفطار رمضان أو صيامه في السفر".
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزوں کے بارے میں سوال کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے میں سے) جس چیز میں تیرے لیے آسانی ہو، وہ اختیار کر لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2152]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2884