سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلنے والے کے مال وغیرہ کی حفاظت کی ضمانت
ترقیم الباني: 2935 ترقیم فقہی: -- 2055
-" إن امرأة كانت فيه (يعني بيتا في المدينة) ، فخرجت في سرية من المسلمين، وتركت ثنتي عشرة عنزا لها وصيصتها، كانت تنسج بها، قال: ففقدت عنزا من غنمها وصيصتها، فقالت: يا رب! إنك قد ضمنت لمن خرج في سبيلك أن تحفظ عليه، وإني قد فقدت عنزا من غنمي وصيصتي، وإني أنشدك عنزي وصيصتي، قال: فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر شدة مناشدتها لربها تبارك وتعالى. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فأصبحت عنزها ومثلها، وصيصتها ومثلها، وهاتيك فائتها فاسألها إن شئت".
سیدنا حمید بن ہلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: طفاوہ قبیلے کا ایک آدمی، جو ہمارے پاس سے گزرتا تھا، اپنے قبیلے کے پاس آیا اور کہا: ہم اپنے سامان تجارت والے قافلے میں مدینہ آئے اور اپنا سامان فروخت کیا۔ پھر میں نے کہا: میں تو اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ضرور جاؤں گا اور پچھلوں کو بھی آپ کے حالات سے آگاہ کروں گا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا: ”ایک عورت اس گھر میں رہائش پذیر تھی، وہ بارہ بکریاں اور کاتنے کا تکلا، جس کے ساتھ وہ بننے کا کام کرتی تھی، چھوڑ کر مسلمانوں کے ایک فوجی دستے میں ان کے ساتھ چلی گئی۔ (جب وہ واپس آئی تو دیکھا کہ) ایک بکری اور تکلا گم ہو گیا ہے۔ اس نے کہا: اے میرے رب! تو نے اپنے راستے میں نکلنے والے کی حفاظت کی ضمانت دی ہے اور میری تو ایک بکری اور تکلا گم ہو گیا ہے۔ اب میں تجھے قسم کے ساتھ واسطہ دے کر تجھ سے اپنی بکری اور تکلا طلب کرتی ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رب سے اس کے مطالبے کی شدت کا تذکرہ کرنے لگے اور فرمایا: ”اس کی بکری اور اس کی مثل ایک اور بکری اور اس کا تکلا اور اس کی مثل ایک اور تکلا اسے مل گیا۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کے پاس چلا جا اور اس سے پوچھ لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2055]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2935
اگر جہاد دنیا کی خاطر ہو تو ثواب؟
ترقیم الباني: 2233 ترقیم فقہی: -- 2056
-" ما أجد له في غزوته هذه في الدنيا والآخرة إلا دنانيره التي سمى".
سیدنا یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا اعلان کیا۔ میں بوڑھا آدمی تھا اور میرا کوئی خادم بھی نہیں تھا۔ میں نے ایک ایسا مزدور تلاش کیا، جو مجھے کفایت کر سکے اور اسے اس کا حصہ دے دیا جائے۔ مجھے ایک آدمی مل گیا، جب کوچ کا وقت قریب آیا تو وہ میرے پاس آیا اور کہا: میں نہیں جانتا کہ دو حصے کیا ہوتے ہیں اور میرا حصہ کتنا بنے گا؟ آپ میرے لیے (میری مزدوری) تعین کر دیں، حصہ ملے یا نہ ملے۔ میں نے اس کے لیے تین دیناروں کا تعین کر دیا۔ جب غنیمت کی تقسیم ہوئی تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کا حصہ اسے دے دوں، اچانک مجھے دینار یاد آ گئے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نزدیک دنیا و آخرت میں اسے اس غزوے میں سے کچھ نہیں ملے گا، ماسوائے دیناروں کے، جن کا تعین کیا گیا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2056]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2233
غازی کو تیار کرنے اور اس کے اہل کی کفالت کرنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 3556 ترقیم فقہی: -- 2057
- (لا يجلس الرجلُ بين الرجل وابنِه في المجلس) .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی غازی کو اللہ کی راہ میں تیار کیا (یعنی اسے جہاد کا ساز و سامان دیا)، اسے (اس غازی کے ثواب) جتنا اجر ملے گا اور جس نے کسی مجاہد کی، اس کے گھر میں بھلائی کے ساتھ جانشینی کی یا اس کے اہل و عیال پر خرچ کیا تو اسے بھی (مجاہد کے اجر جتنا) ثواب ملے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2057]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3556
ترقیم الباني: 2690 ترقیم فقہی: -- 2058
-" من جهز غازيا في سبيل الله فله مثل أجره، ومن خلف غازيا في أهله بخير، أو أنفق على أهله فله مثل أجره".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کسی غازی کو تیار کیا، تو اسے اتنا ہی اجر ملے گا (جو غازی کو ملتا ہے) اور جس نے کسی مجاہد کی اس کے گھر میں بھلائی کے ساتھ جانشینی کی یا اس کے اہل و عیال پر خرچ کیا تو اسے بھی (مجاہد کے اجر جتنا) ثواب ملے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2058]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2690
ترقیم الباني: 2153 ترقیم فقہی: -- 2059
-" للغازي أجره، وللجاعل أجره وأجر الغازي".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غازی کو اپنا اجر ملے گا اور اس کو تیار کرنے والے کو (دو اجر ملیں گے)، ایک اس کا اپنا اجر اور غازی کا اجر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2059]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2153
پرخلوص انداز میں شہادت کا سوال کرنا
ترقیم الباني: 2556 ترقیم فقہی: -- 2060
-" من جرح جرحا في سبيل الله جاء يوم القيامة ريحه ريح المسك ولونه لون الزعفران عليه طابع الشهداء ومن سأل الله الشهادة مخلصا أعطاه الله أجر شهيد وإن مات على فراشه".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ کے راستے میں کوئی زخم لگا تو وہ روز قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس (زخم سے بہنے والے خون کی) بو کستوی کی طرح کی اور رنگ زعفران کی طرح کا ہو گا، اس پر شہدا کی مہر ہو گی۔ جس نے اللہ تعالیٰ سے خلوص دل سے شہادت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ اسے شہید کے اجر سے نواز دے گا، اگرچہ وہ بستر پر ہی مر جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2060]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2556
فتح کے تقاضے
ترقیم الباني: 1383 ترقیم فقہی: -- 2061
-" إنكم مفتوح عليكم، منصورون ومصيبون، فمن أدرك ذلك منكم فليتق الله، وليأمر بالمعروف ولينه عن المنكر وليصل رحمه، من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار، ومثل الذي يعين قومه على غير الحق كمثل بعير ردي في بئر فهو ينزع منها بذنبه".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ (چمڑے کے) سرخ خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تقریباً چالیس آدمی بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمہاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمتیں حاصل کرو گے۔ جو آدمی ایسا زمانہ پا لے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے رک جائے اور صلہ رحمی کرے۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا: وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔ وہ آدمی جو کسی قوم کی غیر حق بات پر مدد کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنویں میں گرا دیا گیا اور پھر دم سے پکڑ کر کھینچا گیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2061]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1383
فتوحات اور اس کی پیش گوئیاں
ترقیم الباني: 1383 ترقیم فقہی: -- 2062
-" إنكم مفتوح عليكم، منصورون ومصيبون، فمن أدرك ذلك منكم فليتق الله، وليأمر بالمعروف ولينه عن المنكر وليصل رحمه، من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار، ومثل الذي يعين قومه على غير الحق كمثل بعير ردي في بئر فهو ينزع منها بذنبه".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (چمڑے کے) سرخ خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تقریباً چالیس آدمی بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمھاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمتیں حاصل کرو گے۔ جو آدمی ایسا زمانہ پا لے وہ اللہ تعالی سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے رک جائے اور صلہ رحمی کرے۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا: پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے وہ آدمی جو کسی قوم کی غیر حق بات پر مدد کرتا ہے، اس کی مثل اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنویں میں گرا دیا گیا اور پھر دم سے پکڑ کر کھینچ گیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2062]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1383
ترک جہاد ہلاکت ہے
ترقیم الباني: 3246 ترقیم فقہی: -- 2063
- (تغزون جزيرة العربِ فيفتحُها اللهُ، ثمَّ فارس فيفتحُها الله، ثمّ تغزون الروم فيفتحُها اللهُ، ثمّ تغزون الدجَّال فيفتحُه اللهُ) .
سیدنا نافع بن عتبہ بن ابووقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جزیرہ عرب کے باسیوں سے لڑائی کرو گے، اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا، پھر فارس سے لڑائی ہو گی، وہ بھی فتح ہو جائے گا، پھر روم سے لڑائی ہو گی اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے، اس پر بھی اللہ تعالیٰ فتح سے ہمکنار کرے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2063]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3246
ترقیم الباني: 2663 ترقیم فقہی: -- 2064
-" ما ترك قوم الجهاد إلا عمهم الله بالعذاب".
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ جہاد ترک کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب بھیج دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2064]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2663