سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
عورتوں کا جہاد میں شریک ہونا کیسا ہے؟ عورتوں کا بطور معالج لشکر اسلام کے ساتھ جانا
ترقیم الباني: 2887 ترقیم فقہی: -- 2094
-" اجلسي لا يتحدث الناس أن محمدا يغزو بامرأة".
سیدہ ام کبشہ رضی اللہ عنہا، جن کا تعلق قضاء قبیلے سے تھا، نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے اجازت) نہیں (دیتا)۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کروں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رہنے دو، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) عورتوں کو جہاد پر لیے جاتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2094]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2887
ترقیم الباني: 2740 ترقیم فقہی: -- 2095
-" لولا أن تكون سنة، يقال: خرجت فلانة! لأذنت لك ولكن اجلسي في بيتك".
سیدہ ام کبثہ رضی اللہ عنہا، جو بنوعذرہ قبیلے کی خاتون ہیں، کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے (جہاد کے لیے) فلاں لشکر میں نکلنے کی اجازت دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں لڑنا نہیں چاہتی میرا ارادہ ہے کے میں زخمیوں کا دوادارو اور بیماروں کی دیکھ بھال کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اگر اس طرح کہا جانے کی روٹین بن جانے کا اندیشہ نہ ہوتا کہ فلاں نکل گئی ہے تو میں تجھے اجازت دے دیتا، بس تو اپنے گھر میں بیٹھی رہ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2095]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2740
مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکالنا
ترقیم الباني: 1133 ترقیم فقہی: -- 2096
-" أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وصیتیں فرمائیں: ”مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور وفود سے وہی سلوک کرو جو میں کرتا ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری چیز سے خاموش رہے، یا فرمایا: ”مجھے بھلا دی گئی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2096]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1133
ترقیم الباني: 1132 ترقیم فقہی: -- 2097
-" أخرجوا يهود أهل الحجاز وأهل نجران من جزيرة العرب، واعلموا أن شرار الناس الذين اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد".
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری بات، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی، یہ تھی: ”حجازی اور نجرانی یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور جان لو کہ بدترین لوگ وہ ہیں جو اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2097]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1132
ترقیم الباني: 1134 ترقیم فقہی: -- 2098
-" لئن عشت لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أترك فيها إلا مسلما".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا اور یہاں صرف مسلمانوں کو رہنے دوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2098]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1134
وفود سے اچھا سلوک اختیار کیا جائے
ترقیم الباني: 1133 ترقیم فقہی: -- 2099
-" أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وصیتیں فرمائیں: ”مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو، وفود سے وہی سلوک کرو جو میں کرتا ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری چیز سے خاموش رہے، یا آپ نے فرمایا: ”مجھے بھلا دی گئی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2099]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1133
رات کو سفر کرنے کی ترغیب
ترقیم الباني: 682 ترقیم فقہی: -- 2100
-" إذا أخصبت الأرض فانزلوا عن ظهركم وأعطوا حقه من الكلأ وإذا أجدبت الأرض فامضوا عليها وعليكم بالدلجة، فإن الأرض تطوى بالليل".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سرسبز و شاداب زمین آ جائے تو سواری سے نیچے اتر آیا کرو اور اسے چرنے دیا کرو اور جب قحط زدہ زمین آ جائے تو سوار ہو جایا کرو اور رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کو زمین کی مسافت مختصر ہو جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2100]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 682
ترقیم الباني: 681 ترقیم فقہی: -- 2101
-" عليكم بالدلجة، فإن الأرض تطوى بالليل".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رات کو سفر کیا کرو، کیونکہ رات کو زمین سکڑ جاتی ہے (یعنی اس کی مسافت مختصر ہو جاتی ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2101]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 681
دوران سفر جلدی چلنے کی ترغیب
ترقیم الباني: 2574 ترقیم فقہی: -- 2102
-" استعينوا بالنسل، فإنه يقطع عنكم الأرض وتخفون له".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال نکلے، پا پیادہ صحابہ آپ کے پاس جمع ہوئے، صف بنا کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے درپے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سفر دشوار ہو گیا ہے اور مسافت لمبی ہے (کیا کریں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیز چلنے کی صورت میں مدد طلب کرو، اس طرح سفر بھی جلدی ہو گا اور تم لوگ خفت بھی محسوس کرو گے۔“ ہم نے ایسے ہی کیا ہمیں خفت محسوس ہوئی اور جس چیز کا ہمیں احساس ہو رہا تھا وہ ختم ہو گئی۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2102]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2574
دوران سفر تنہائی سے منع کر دیا
ترقیم الباني: 465 ترقیم فقہی: -- 2103
-" عليكم بالنسلان".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدل چلنے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”تیز چلا کرو۔“ ہم نے تیز چلنا شروع کر دیا، اس میں ہمیں خفت محسوس ہوئی۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2103]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 465