🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
غرور و تکبر کا وبال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3257 ترقیم فقہی: -- 2556
- (لا يدخلُ الجنة من كان في قلبهِ مثقالُ حبّةٍ من خردلٍ من كِبرٍ) .
قاسم بن محمد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایندھن کے کام آنے والی لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار سے گزرے، كسى نے (‏‏‏‏ ان پر اعتراض كرتے ہوئے ان کو) کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے پرواه نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ليکن میرا اراده ہے کہ اس کے ذریعے (‏‏‏‏اپنے نفس) سے تکبر کو دور کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2556]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3257

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 541 ترقیم فقہی: -- 2557
-" قال الله عز وجل: الكبرياء ردائي والعزة إزاري، فمن نازعني واحدا منهما ألقيه في النار".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تکبر (‏‏‏‏ اور بڑائی) میری چادر ہے اور عزت (‏‏‏‏اور غلبہ) میرا ازار ہے، جس نے ان دونوں (‏‏‏‏اوصاف) میں سے کسی ایک کو مجھ سے کھینچنا چاہا، میں اس کو آگ میں پھینک دوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2557]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 541

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خود پسندی و خود سری کا وبال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2272 ترقیم فقہی: -- 2558
-" ما من رجل يتعاظم في نفسه ويختال في مشيته إلا لقي الله وهو عليه غضبان".
یونس بن قاسم یمامی سے روایت ہے کہ عکرمہ بن خالد بن سعید بن عاص مخزومی نے اسے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب سے ملے اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہم بنو مغیرہ ہیں، ‏‏‏‏ہم میں بڑائی (‏‏‏‏اور غرور) ہے، تو کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو شخص بڑا بنتا ہے اور اکڑ کر چلتا ہے وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2558]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2272

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 543 ترقیم فقہی: -- 2559
-" من تعظم في نفسه أو اختال في مشيته لقي الله عز وجل وهو عليه غضبان".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بڑا بنا اور اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2559]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 543

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہرکس و ناکس کے لیے امور خیر کا تعین
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2669 ترقیم فقہی: -- 2560
-" ما من مسلم يفعل خصلة من هؤلاء إلا أخذت بيده حتى تدخله الجنة".
مالک بن مرثد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! کون سی چیز بندے کو آگ سے نجات دلاتی ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله پر ایمان لانا۔“ میں نے کہا: اے الله کے نبی! کیا ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالی نے اسے جو رزق عطا کیا ہے، وه ا‏‏‏‏س میں سے خرچ کرے۔“ میں نے کہا! اے اللہ کے رسول! اگر وہ فقیر ہو اور اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جو (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کے راستے میں) دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ ایسا کرنے سے بھی عاجز ہو اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بےہنر (‏‏‏‏اور جاہل) کو کوئی ہنر سکھا دے۔“ میں نے کہا: اگر وہ خود بےہنر ہو اور کچھ بھی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر کسی مغلوب (‏‏‏‏اور مظلوم) کی مدد کر دیا کرے۔“ میں نے کہا: اگر وہ خود ضعیف ہو اور مظلوم کی مدد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تو اپنے بھائی میں کوئی خیر و بھلائی چھوڑنا ہی نہیں چاہتا۔ (‏‏‏‏ایسے ضعیف آدمی کو چاہیئے کہ) وہ لوگوں کو تکلیف نہ پہنچنے دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی یہ عمل کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی ان خصلتوں میں سے کسی خصلت پر عمل کرے گا تو وہ خصلت اس کا ہاتھ پکڑے رکھے گی، حتی کہ اس کو جنت میں داخل کر دے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2560]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2669

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسلمان کا قرضہ ادا کرنا افضل عمل ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2291 ترقیم فقہی: -- 2561
-" من أفضل الأعمال إدخال السرور على المؤمن، تقضي عنه دينا، تقضي له حاجة، تنفس له كربة".
سفیان بن عیینہ، ابن منکدر سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو خوش کرنا، ا‏‏‏‏س کا قرضہ چکانا، ا‏‏‏‏س کی ضرورت پوری کرنا اور اس سے کسی مصیبت کو دور کرنا افضل اعمال میں سے ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں: ابن منکدر سے کہا گیا کہ اب کوئی چیز ایسی بھی باقی رہ گئی ہے، جو لذیذ ہو؟ انہوں نے کہا: بھائیوں سے حسن سلوک کرنا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2561]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2291

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسلمان کا مال ناحق غصب کرنے کا انجام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3364 ترقیم فقہی: -- 2562
- (من اقتطع مال امرئ مسلم؛ بيمين كاذبة؛ كانت نكتة سوداء في قلبه، لا يغيرها شيء إلى يوم القيامة) .
سیدنا ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے جھوٹی قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال چھین لیا، ا‏‏‏‏س کے دل پر ایک ایسا سیاه نقطہ لگے گا جس کو قیامت تک کوئی چیز تبدیل نہیں کر سکے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2562]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3364

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسلمان کے سفید بالوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3371 ترقیم فقہی: -- 2563
- (من شاب شيبةً في سبيل الله (وفي رواية: في الإسلام) ؛ كانت له نوراً يوم القيامة. فقال رجل عند ذلك: فإن رجالاً ينتفون الشيب؟ فقال: من شاء؛ فلينتف نوره) .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں یا اسلام میں بوڑھا ہو گیا، تو یہ ا‏‏‏‏س کے لیے روز قیامت نور ہو گا۔“ اس موقع پر ایک آدمی نے کہا: کئی لوگ تو اپنے سفید بالوں کو اکھاڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہتا ہے اپنا نور اکھاڑتا رہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2563]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3371

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3073 ترقیم فقہی: -- 2564
- (مَنْ صبرَ على شِدَّتِها ولأْوَائِها؛ كنتُ له شهيداً أو شفيعاً يومَ القيامةِ. يعني: المدينةَ. وفي لفظ: لا يَصبرُ على لأوَائِها وشدتِها أَحَدٌ إلا كنتُ.....) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ا‏‏‏‏ن کی لونڈی ا‏‏‏‏ن کے پاس آئی اور کہا: مجھ پر وقت بہت سخت ہو گیا ہے اور میں عراق جانے کا ارادہ کرتی ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم شام کی طرف کیوں نہیں جاتی، جو حشر کی جگہ ہے؟ ارے بیوقوف! صبر کر۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے اس (‏‏‏‏مدینہ) کی سختی اور تنگی پر صبر کیا، میں روز قیامت ا‏‏‏‏س کا گواہ یا سفارشی ہوں گا۔“ اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”جو کوئی اس (‏‏‏‏مدینہ) کی سختی اور تنگی پر صبر کرے گا تو میں . . .“ (‏‏‏‏اس کے لیے قیامت کے روز سفارشی ہوں گا)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2564]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3073

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3100 ترقیم فقہی: -- 2565
- (مَن قال عليّ ما لم أَقُلْ؛ فَلْيَتَبَوَّأْ مقعده من النار) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے۔ (‏‏‏‏اس جماعت سے مراد) سیدنا عثمان، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عقبہ بن عامر، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا سلمہ بن اکوع، سیدنا واثلہ بن اسقع اور سیدنا ابوموسیٰ غافقی رضی اللہ عنہم ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2565]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3100

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں