🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
خادم رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حق میں نبوی دعائیں اور ان کے ثمرات
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2241 ترقیم فقہی: -- 3357
-" اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته. يعني أنسا رضي الله عنه".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کو کثرت کے ساتھ مال و اولاد عطا فرما اور تو نے اسے جو کچھ عطا کیا اس میں برکت عطا فرما۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3357]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2241

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2750 ترقیم فقہی: -- 3358
-" مم تضحكون؟ قالوا: من دقة ساقيه. فقال: [والذي نفسي بيده لـ] هي أثقل في الميزان من أحد".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسواک کے درخت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک توڑ رہا تھا۔ لوگ میری باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنس پڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏تم کس چیز سے ہنس رہے ہو؟“ ‏‏‏‏ انہوں نے کہا: ان کی پندلیوں کی باریکی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ترازو میں یہ پنڈلی احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3358]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2750

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3192 ترقیم فقہی: -- 3359
- (ممَّ تضحكون؟ قالوا: يا نبيَّ اللهِ! من دِقَّةِ ساقيهِ!! فقال: والذي نفسي بيدهِ؛ لهُما أثقلُ في الميزانِ من أُحُدٍ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مسواک والے درخت سے ایک مسواک توڑ رہے تھے، وہ باریک پنڈلیوں والے تھے، ہوا کی وجہ سے کپڑا ٹانگوں سے ہٹ رہا تھا، لوگ ہنس پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس چیز کو دیکھ کر ہنس رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ان کی پنڈلیوں کی باریکی کو دیکھ کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔“ ‏‏‏‏ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3359]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3192

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3486 ترقیم فقہی: -- 3360
ـ (لمّا نزلتْ هذه الآيةُ:"ليسَ على الذينَ آمنُوا وعمِلُوا الصالحاتِ جُناحٌ فيما طَعِمُوا إذا ما اتَّقَوا وآمنُوا وعمِلُوا الصالحاتِ ثم اتّقَوا وآمنُوا ثم اتّقَوا وأحسَنُوا والله يحب المحسنين"؛ قال لي [يعني: ابن مسعود] : «قيل لي: أنت منهم» ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ‏‏‏‏ ”ایسے لوگوں پر جو کہ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں، اس چیز میں کوئی گناہ نہیں، جس کو وہ کھاتے پیتے ہیں، جبکہ وہ لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں، پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور ایمان رکھتے ہو، پھر پر ہیزگاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں سے محبت رکھتے ہیں۔“ (‏‏‏‏سورۃ المائدہ: ۹۳) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”مجھے کہا گیا ہے کہ تو بھی ان میں سے ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3360]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1225 ترقیم فقہی: -- 3361
-" رضيت لأمتي ما رضي لها ابن أم عبد".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی امت کے لیے وہی کچھ پسند کیا جو اس کے لیے ام عبد کے بیٹے نے پسند کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3361]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1225

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عبداللہ کو اجازت دینے کا مخصوص انداز
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1427 ترقیم فقہی: -- 3362
-" إذنك علي أن يرفع الحجاب وأن تستمع لسوادي حتى أنهاك".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پردہ اٹھا دیا جائے اور تو میرا وجود دیکھ لے تو تجھے اجازت ہو گی، الا یہ کہ میں منع کر دوں۔ ‏‏“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3362]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1427

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا سنت کا پابند ہونا، ذکر والی مجلس کو برا بھلا کہنے کی وجہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2005 ترقیم فقہی: -- 3363
-" إن قوما يقرءون القرآن، لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية".
عمرو بن سلمہ ہمدانی کہتے ہیں کہ ہم قبل از نماز فجر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر بیٹھا کرتے تھے، جب وہ نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑتے، ایک دن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا: ابھی تک ابو عبدالرحمٰن (‏‏‏‏ ابن مسعود) تمہارے پاس نہیں آئے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے، (‏‏‏‏ہم انتظار کرتے رہے) حتیٰ کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے، جب وہ آئے تو ہم بھی ان کی طرف کھڑے ہو گئے۔ ابوموسیٰ نے انہیں کہا: ابو عبدالرحمٰن! ابھی میں نے مسجد میں ایک چیز دیکھی ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، لیکن اللہ کے فضل سے وہ نیکی کی ایک صورت لگتی ہے۔ انہوں نے کہا: وہ ہے کیا؟ ابوموسیٰ نے کہا: اگر آپ زندہ رہے تو خود بھی دیکھ لیں گے، میں نے دیکھا کہ لوگ حلقوں کی صورت میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہے ہیں، ان کے سامنے کنکریاں پڑی ہیں، ہر حلقے میں ایک (‏‏‏‏مخصوص) آدمی کہتا ہے: سو (‏‏‏‏ ‏‏‏‏۱۰۰) دفعہ «الله أكبر» ‏‏‏‏کہو۔ یہ سن کر حلقے والے سو دفعہ «الله أكبر» ‏‏‏‏کہتے ہیں۔ پھر کہتا ہے سو (‏‏‏‏ ۱۰۰) دفعہ «سبحان الله» ‏‏‏‏کہو۔ یہ سن کر وہ سو دفعہ «سبحان الله» ‏‏‏‏ کہتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: اس عمل پر تو نے ان کو کیا کہا؟ ابو موسیٰ نے کہا: میں نے آپ کی رائے کے انتظار میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا: تو نے انہیں یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ (‏‏‏‏ایسے نیک اعمال کو) برائیاں شمار کریں اور یہ ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کی نیکیاں (‏‏‏‏کبھی بھی) ضائع نہیں ہوں گی (‏‏‏‏لیکن وہ ہوں نیکیاں)؟ پھر وہ چل پڑے، ہم بھی ان کے ساتھ ہو لئے۔ ایک حلقے کے پاس گئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں، ہم ان کے ذریعے تکبیرات، تہلیلات اور تسبیحات کو شمار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ایسی (‏‏‏‏ نیکیوں کو) برائیاں تصور کرو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کسی نیکی کو ضائع نہیں کیا جائے گا (‏‏‏‏ بشرطیکہ وہ نیکی ہو)۔ اے امت محمد! تمہاری ناس ہو جائے، تم تو بہت جلد اپنی ہلاکت کے پیچھے پڑ گئے ہو، ابھی تک تم میں اصحاب رسول کی بھرپور تعداد موجود ہے، ابھی تک تمہارے نبی کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوئے اور نہ ان کے برتن ٹوٹے ہیں، (‏‏‏‏یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا زمانہ قریب ہی ہے)۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیا تم لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے بہتر دین کو اپنا رکھا ہے یا ضلالت و گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہمارا ارادہ تو نیکی کا ہی تھا۔ انہوں نے کہا: کتنے لوگ ہیں جو نیکی کا ارادہ تو کرتے ہیں، لیکن اس تک پہنچ نہیں پاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حدیث بیان کی تھی: ”‏‏‏‏بعض لوگ قرآن مجید کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے (‏‏‏‏دل میں) نہیں اترے گی، وہ (‏‏‏‏بیگانے ہو کر) دین سے یوں نکلیں گے جیسے تیر شکار سے آرپار ہو جاتا۔“ ‏‏‏‏ اللہ کی قسم! مجھے تو کوئی سمجھ نہیں آ رہی، شاید تم میں سے اکثر لوگ (‏‏‏‏اسی حدیث کا مصداق) ہوں، پھر وہ وہاں سے چلے گئے۔ عمرو بن سلمہ کہتے ہیں: ہم نے ان حلقے والوں کی اکثریت کو دیکھا کہ وہ نہروان والے دن خوارج کے ساتھ مل کر ہم پر نیزہ زنی کر رہے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3363]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2005

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ہشام اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہما کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 156 ترقیم فقہی: -- 3364
-" ابنا العاص مؤمنان: هشام وعمرو".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاص کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مؤمن ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3364]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 156

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 653 ترقیم فقہی: -- 3364M
-" عمرو بن العاص من صالحي قريش".
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”عمرو بن عاص قریش کے نیکوکار لوگوں میں سے ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3364M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 653

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 155 ترقیم فقہی: -- 3365
-" أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں عمرو بن العاص زیادہ سلامتی والا اور امن والا ہے۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3365]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 155

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں