سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
قبیلہ حضرموت کی فضیلت
ترقیم الباني: 3051 ترقیم فقہی: -- 3396
- (حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بني الحارثِ) .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرموت، بنوحارث سے بہتر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3396]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3051
قبیلہ عبدالقیس کی فضیلت
ترقیم الباني: 1843 ترقیم فقہی: -- 3397
-" خير أهل المشرق عبد القيس، أسلم الناس كرها وأسلموا طائعين".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل مشرق میں سے بہترین قبیلہ عبدالقیس ہے، ( کیونکہ دوسرے) لوگوں نے مجبوراً اسلام قبول کیا اور انہوں نے برضا و رغبت۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3397]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1843
ازدی لوگوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 1039 ترقیم فقہی: -- 3398
-" نعم القوم الأزد طيبة أفواههم برة أيمانهم نقية قلوبهم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازدی لوگ بہترین قوم ہیں، وہ شیریں زبان، قسمیں پوری کرنے والے اور صاف دل ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3398]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1039
سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ جبریل علیہ السلام کے مشابہ تھے
ترقیم الباني: 1111 ترقیم فقہی: -- 3399
-" أشبه ما رأيت بجبرائيل دحية الكلبي".
ابن شہاب مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبریل کے سب سے زیادہ مشابہ دحیہ کلبی کو پایا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3399]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1111
بعد میں آنے والے فرزندان امت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت
ترقیم الباني: 1418 ترقیم فقہی: -- 3400
-" أشد أمتي لي حبا قوم يكونون أو يخرجون بعدي يود أحدهم أن أعطى أهله وماله وأنه رآني".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت میں سے مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک چاہے گا کہ مجھے دیکھنے کے لیے اپنے اہل و عیال اور مال و منال قربان کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3400]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1418
ترقیم الباني: 1676 ترقیم فقہی: -- 3401
-" إن أناسا من أمتي يأتون بعدي، يود أحدهم لو اشترى رؤيتي بأهله وماله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں میرے بعد ایسے لوگ بھی آئیں گے، کہ جن کی چاہت یہ ہو گی کہ وہ اپنے اہل و عیال اور مال و منال کا فدیہ دے کر میری زیارت کر لیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3401]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1676
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 2838 ترقیم فقہی: -- 3402
-" أصبت وأحسنت اللهم وفقه. قاله لعبد الله بن الأرقم".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کا خط موصول ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ارقم کو حکم دیا کہ: ”میری طرف سے جواب دو۔“ انہوں نے جواب لکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے بہت خوب جواب لکھا ہے، اے اللہ! (عبداللہ) کو توفیق عطا فرما۔“ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3402]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2838
سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کی نفع بخش تجارت
ترقیم الباني: 2964 ترقیم فقہی: -- 3403
-" كم من عذق دواح لأبي الدحداح في الجنة - مرارا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! (فلاں مقام پر) فلاں آدمی کی کھجور ہے، میں بھی اس کے ساتھ کھجوریں لگا رہا ہوں، آپ اسے کہیں کہ وہ کھجور مجھے دے دے تاکہ میں اپنے باغ کی دیوار بنا سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”وہ کھجور اسے دےدے، تجھے اس کے عوض جنت میں کھجور ملے گی۔“ لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ابو دحداح اس کے پاس پہنچے اور کہا کہ کھجور کا درخت مجھے میرے باغ کے بدلے فروخت کر دے، اس نے ایسے ہی کیا۔ ابو دحداح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں کھجور کا درخت اپنے باغ کے عوض خرید لیا ہے، اب آپ یہ درخت اس (ضرورت مند) آدمی کو دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابودحداح کے لیے جنت میں کئی بڑے بڑے اور لمبے لمبے کھجوروں کے گچھے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی دفعہ دہرایا۔ ابودحداح اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا: اے ام دحداح! باغ سے نکل جا، میں نے اسے جنت کے کھجور کے درخت کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ اس نے کہا: تو نے تو نفع مند تجارت کی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3403]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2964
بغیر حساب و کتاب کے داخل ہونے والے فرزندان امت
ترقیم الباني: 1484 ترقیم فقہی: -- 3404
-" أعطيت سبعين ألفا يدخلون الجنة بغير حساب وجوههم كالقمر ليلة البدر وقلوبهم على قلب رجل واحد، فاستزدت ربي عز وجل، فزادني مع كل واحد سبعين ألفا".
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے رب سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک جا پہنچے گی۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3404]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1484
ترقیم الباني: 1879 ترقیم فقہی: -- 3405
-" سألت الله عز وجل الشفاعة لأمتي. فقال لي: لك سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب. فقلت: يا الله زدني، فقال: فإن لك هكذا، فحثا بين يديه وعن يمينه وعن شماله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کا سوال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا: تیری امت کے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ! میرے لیے اضافہ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: تجھے اتنے اور عطا کر دیتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے، دائیں جانب سے چلو بھر کر (تمثیل پیثں کی)۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3405]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1879