سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 1237 ترقیم فقہی: -- 3416
-" نعم عبد الله خالد، سيف من سيوف الله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگ آپ کے سامنے سے گزرنے لگ گئے اور آپ یوں پوچھنے لگ گئے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا کہ یہ فلاں آدمی ہے۔ آپ فرماتے ”وہ تو اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ہے۔“ اتنے میں کوئی اور گزرتا تو پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا کہ فلاں آدمی ہے۔ آپ فرماتے: ”وہ تو برا آدمی ہے۔“ حتیٰ کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ گزرے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خالد بن ولید ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد اللہ تعالیٰ کا بہترین بندہ ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3416]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1237
ترقیم الباني: 1826 ترقیم فقہی: -- 3417
-" خالد من سيوف الله عز وجل، نعم فتى العشيرة".
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر بنا کر بھیجا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا۔ سیدنا خالد نے کہا: اس امت کے امین کو تمہارا امیر بنا کر بھیجا گیا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے“۔ سیدنا ابوعبیدہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خالد، اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور وہ اپنے قبیلے کا بہترین نوجوان ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3417]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1826
امت مسلمہ ضلالت پر متفق نہیں ہو سکتی
ترقیم الباني: 1331 ترقیم فقہی: -- 3418
-" إن الله قد أجار أمتي من أن تجتمع على ضلالة".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ضلالت و گمراہی پر جمع ہونے سے محفوظ کر لیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3418]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1331
پندرہ شعبان کی شب کی فضیلت
ترقیم الباني: 1563 ترقیم فقہی: -- 3419
-" إن الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان، فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن".
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو جھانکتے ہیں اور شرک کرنے والے اور باہم بغض و عداوت رکھنے والوں کے علاوہ ساری مخلوق کو بخش دیتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3419]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1563
اولیاء اللہ کی صفات
ترقیم الباني: 2849 ترقیم فقہی: -- 3420
-" إن خيار عباد الله من هذه الأمة الذين إذا رؤوا ذكر الله تعالى، وإن شرار عباد الله من هذه الأمة المشاؤون بالنميمة المفرقون بين الأحبة الباغون للبراء العنت".
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بہترین افراد وہ ہیں، جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آ جاتا ہے اور چغلخور، دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اور بےقصور (و پاک دامن لوگوں) پر گناہوں کا الزام دھرنے والے میری امت کے بدترین افراد ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3420]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2849
ترقیم الباني: 1646 ترقیم فقہی: -- 3421
-" أولياء الله هم الذين يذكر الله لرؤيتهم".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”خبردار! بیشک اللہ کے اولیا پر کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔“ کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کے اولیاء وہ لوگ ہیں، جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3421]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1646
بحیثیت شاعر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 1657 ترقیم فقہی: -- 3422
-" إن الله يؤيد حسان بروح القدس ما نافح أو فاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے، وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری ثابت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے میں (اشعار) پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جب تک حسان رسول کے دفاع میں یا میری برتری ثابت کرنے میں اشعار پڑھتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ جبریل امین کے ذریعے اس کی مدد کرتا رہتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3422]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1657
ترقیم الباني: 1954 ترقیم فقہی: -- 3423
-" يا حسان! أجب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، اللهم أيده بروح القدس".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قسم دیتے ہوئے کہا: میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”حسان! رسول اللہ کی طرف سے جواب دے، اے اللہ! روح القدس ( جبریل امین) کے ذریعے اس کی مدد فرما۔“ سیدنا ابوہریرہ نے کہا: جی ہاں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3423]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1954
ترقیم الباني: 1180 ترقیم فقہی: -- 3424
-" إن روح القدس لا يزال يويدك ما نافحت عن الله ورسوله".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش کی مذمت کرو، یہ چیز ان پر تیروں کی بوچھاڑ سے بھی گراں گزرتی ہے۔“ پھر آپ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا: ”ان کی ہجو کرو۔“ اس نے ان کے معائب و نقائص تو بیان کئے لیکن آپ خوش نہ ہوئے۔ پھر آپ نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف اور ان کے بعد سیدنا حسان بن ثابت کی طرف پیغام بھیجا۔ حسان نے آ کر کہا: اب تمہیں چاہیئے کہ اس معاملے کو اس شیر کے سپرد کر دو جو حملے کے لیے کمربستہ ہے، پھر انہوں نے اپنی زبان باہر نکالی، اسے حرکت دی اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں اپنی زبان کے ذریعے ان کو چمڑے کی طرح چاک کر دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی نہ کرو، قریش کے نسب کو سب سے زیادہ جاننے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ چونکہ میرا نسب بھی ان سے ملتا ہے، اس لیے وہ پہلے تجھ پر میرے نسب کی وضاحت کریں گے۔“ سیدنا حسان، سیدنا ابوبکر کے پاس گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے میرے لیے آپ کے نسب کی وضاحت کر دی ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں آپ کے نسب کو (ہجو سے) یوں باہر نکال دوں گا جس طرح آٹے سے بال کو کھینچ لیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسان کے حق میں فرماتے سنا: ”روح قدس ( جبریل امین) تیری تائید کرتا رہے گا، جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کا دفاع کرتے رہو گے۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حسان نے ان کی مذمت کر کے دل کو مطمئن کر دیا اور دشمن کو زیر کر دیا۔“ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مذمت کی . . . میں نے ان کی طرف سے جواب دیا . . . اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل میں اجر و ثواب ہے . . . تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کی . . . حالانکہ وہ نیک اور یکسو ہیں . . . وہ اللہ کے رسول ہیں، ان کی کی عادت وفا ہے . . . بیشک میرا باپ اور اس کا والد اور میری عزت . . .تم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عزت کا دفاع کرنے والے ہیں . . . میں نے اپنے پیاروں کو گم پایا . . . اگرچہ تم ان (لشکروں) کو نہیں دیکھ رہے. . . وہ کدا میں گرد و غبار اڑاتے ہوئے آ رہے ہیں. . . انہوں نے لگامیں تھامی ہوئی ہیں اور وہ چڑھے آ رہے ہیں. . . ان کے کندھوں پر پیاسے تیر سجے ہوئے ہیں . . . ہمارے لشکر رواں دواں ہیں. . . یہ عورتیں اپنے دوپٹوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں گی. . . اگر تم راستے سے ہٹ جاؤ تو ہم عمرہ کر لیں گے. . . اور اس طرح فتح ہو جائے گی اور پردہ چاک ہو جائے گا . . . وگرنہ اس دن کی مار پر صبر کرو . . . جس دن اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق عزتیں دے گا. . . اللہ نے کہا: میں نے ایک بندے کو بطور رسول بھیج دیا ہے . . . وہ حق کہتا ہے، اس میں کوئی خفا نہیں ہے. . . اور اللہ نے کہا کہ میں لشکر چلا لایا ہوں. . . وہ انصار ہیں، میں نے ان کو لڑنے کے لیے پیش کر دیا ہے. . . وہ ہر روز معد قبیلہ سے وصول کرتے ہیں. . . گالیاں، لڑیاں اور مزمتیں . . . اگر تم میں سے کوئی رسول اللہ کی مذمت کرے. . . یا مدح کرے یا نصرت کرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. . . اور ہم میں جبریل اللہ تعالیٰ کا قاصد ہے . . . وہ روح القدس ہے، اس کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3424]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1180
ترقیم الباني: 1970 ترقیم فقہی: -- 3425
-" اذهب إلى أبي بكر ليحدثك حديث القوم وأيامهم وأحسابهم، ثم اهجهم وجبريل معك".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کی ہجو ( مذمت) کر رہا ہے۔ سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کا جواب دینے کی اجازت دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم وہی ہو جو «ثبت الله . . .» والا شعر کہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حسن عطا کیا ہے، وہ آپ کو اس پر برقرار رکھے جس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام کو ثابت قدم رکھا اور ایسی مدد فرمائے جس طرح کی، ان کی مدد کی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ اسی طرح کا خیر و بھلائی والا معاملہ فرمائیں گے۔“ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کود کر سامنے آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کا جواب دینے کی اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم وہی ہو جو «همت . . .» والا شعر کہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریشیوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے رب پر غالب آ جائیں گے بہت غالب (یعنی اللہ) کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنے والا ضرور مغلوب ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ تمہارے اس شعر کو نہیں بھولے گا۔“ پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے۔ پھر انہوں نے اپنی زبان نکالی، جس کا رنگ سیاہ تھا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اجازت دیں، اگر میں چاہوں تو ان کے (بھرم کے) مشکیزے کو چاک کر دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ابوبکر کے پاس جاؤ، تاک ہ وہ تجھے ان لوگوں کا قول و کردار، تاریخ و تذکرہ اور حسب پر آگاہ کر سکیں، پھر ان کی مذمت کرنا اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) جبریل امین تمہارے ساتھ ہوں گے۔ “ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3425]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1970