صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. بَابُ الْجَعَائِلِ وَالْحُمْلاَنِ فِي السَّبِيلِ:
باب: کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا۔
حدیث نمبر: Q2970
وَقَالَ: مُجَاهِدٌ، قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ الْغَزْوَ، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُعِينَكَ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِي، قُلْتُ: أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيَّ، قَالَ: إِنَّ غِنَاكَ لَكَ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مِنْ مَالِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ نَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا، ثُمَّ لَا يُجَاهِدُونَ فَمَنْ فَعَلَهُ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ، وَقَالَ طَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ: إِذَا دُفِعَ إِلَيْكَ شَيْءٌ تَخْرُجُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ وَضَعْهُ عِنْدَ أَهْلِكَ.
مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے جہاد میں شرکت کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی اس مد میں اپنا کچھ مال خرچ کر کے تمہاری مدد کروں۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کا دیا ہوا میرے پاس کافی ہے۔ لیکن انہوں نے فرمایا کہ تمہاری سرمایہ داری تمہارے لیے ہے۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس طرح میرا مال بھی اللہ کے راستے میں خرچ ہو جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ بہت سے لوگ اس مال کو (بیت المال سے) اس شرط پر لے لیتے ہیں کہ وہ جہاد میں شریک ہوں گے لیکن پھر وہ جہاد نہیں کرتے۔ اس لیے جو شخص یہ حرکت کرے گا تو ہم اس کے مال کے زیادہ مستحق ہیں اور ہم اس سے وہ مال جو اس نے (بیت المال سے) لیا ہے واپس وصول کر لیں گے۔ طاؤس اور مجاہد نے فرمایا کہ اگر تمہیں کوئی چیز اس شرط کے ساتھ دی جائے کہ اس کے بدلے میں تم جہاد کے لیے نکلو گے۔ تو تم اسے جہاں جی چاہے خرچ کر سکتے ہو۔ اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات میں بھی لا سکتے ہو (مگر شرط کے مطابق جہاد میں شرکت ضروری ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2970]
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، فَقَالَ: زَيْدٌ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ، فَقَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مالک بن انس سے سنا، انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا تھا اور زید نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) اپنا ایک گھوڑا ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ (بازار میں) وہی گھوڑا بک (فروخت ہو) رہا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اسے خرید سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھوڑے کو تم نہ خریدو اور اپنا صدقہ (خواہ خرید کر ہی ہو) واپس نہ لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2970]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اللہ کی راہ میں کسی کو سواری کے لیے گھوڑا دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ فروخت ہو رہا ہے، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اسے خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خرید اور اپنے صدقے کو واپس نہ لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2970]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2971
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَبْتَعْهُ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں اپنا ایک گھوڑا سواری کے لیے دے دیا تھا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بک (فروخت ہو) رہا ہے۔ اپنے گھوڑے کو انہوں نے خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو۔ اور اس طرح اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2971]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کسی کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے گھوڑا دیا۔ پھر اسے فروخت ہوتا پایا تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا۔ اس کے متعلق انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خرید اور اپنے صدقہ و خیرات میں رجوع نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2971]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ حَمُولَةً، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَيَشُقُّ عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میری امت پر یہ امر مشکل نہ گزرتا تو میں کسی سریہ (یعنی مجاہدین کا ایک چھوٹا سا دستہ جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس ہو) کی شرکت بھی نہ چھوڑتا۔ لیکن میرے پاس سواری کے اتنے اونٹ نہیں ہیں کہ میں ان کو سوار کر کے ساتھ لے چلوں اور یہ مجھ پر بہت مشکل ہے کہ میرے ساتھی مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری تو یہ خوشی ہے کہ اللہ کے راستے میں میں جہاد کروں، اور شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2972]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشکل اور دشوار نہ سمجھتا تو میں کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس اتنی سواریاں نہیں ہیں کہ میں ان کو دے سکوں اور نہ میرے پاس اتنے وسائل ہی ہیں کہ میں انہیں عاریتاً سواریاں مہیا کر سکوں۔ اس کے باوجود ان کا جہاد سے پیچھے رہ جانا بھی مجھ پر بہت گراں ہے۔ میں تو یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل ہو جاؤں، پھر زندہ کر دیا جاؤں، پھر قتل ہو جاؤں، پھر زندہ کر دیا جاؤں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2972]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
120. بَابُ الأَجِيرِ:
باب: جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو۔
حدیث نمبر: Q2973
وَقَالَ الْحَسَنُ وابْنُ سِيرِينَ: يُقْسَمُ لِلْأَجِيرِ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَأَخَذَ عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ فَرَسًا عَلَى النِّصْفِ، فَبَلَغَ سَهْمُ الْفَرَسِ أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَخَذَ مِائَتَيْنِ وَأَعْطَى صَاحِبَهُ مِائَتَيْنِ.
امام حسن بصری اور ابن سیرین نے کہا کہ مال غنیمت میں سے مزدور کو بھی حصہ دیا جائے گا۔ عطیہ بن قیس نے ایک گھوڑا (مال غنیمت کے حصے کے) نصف کی شرط پر لیا۔ گھوڑے کے حصہ میں (فتح کے بعد مال غنیمت سے) چار سو دینار آئے۔ عطیہ نے دو سو دینار خود رکھ لیے اور دو سو گھوڑے کے مالک کو دے دئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2973]
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، فَقَالَ:" أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ، فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا، میرے خیال میں میرا یہ عمل، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا۔ (کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ پھر وہ مزدور ایک شخص (خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2973]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے لیے روانہ ہوا۔ میں نے ایک جوان اونٹ سواری کے لیے بھی دیا جو میرے خیال میں میرا مضبوط تر عمل تھا۔ اس سلسلے میں میں نے ایک مزدور بھی کرائے پر رکھا۔ وہ مزدور کسی سے لڑ پڑا تو ایک نے دوسرے کا ہاتھ چبا لیا۔ دوسرے نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ اس کے منہ سے نکالا تو اس کے اگلے دو دانت نکال دیے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے باطل ٹھہرایا اور فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں ڈالے رکھتا کہ تو اسے چباتا رہے جیسے اونٹ چباتا ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
121. بَابُ مَا قِيلَ فِي لِوَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيُّ،" أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ صَاحِبَ لِوَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرَادَ الْحَجَّ فَرَجَّلَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عقیل نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے خبر دی کہ قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار تھے، جب حج کا ارادہ کیا تو (احرام باندھنے سے پہلے) کنگھی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2974]
حضرت ثعلبہ بن ابومالک قرضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ جو (جہاد میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم بردار تھے، انہوں نے جب حج کا ارادہ کیا تو سر میں کنگھی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2974]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ، أَوْ قَالَ: لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ قَالَ: يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، فَقَالُوا: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چنانچہ وہ نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی۔ (کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں کو دیا۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2975]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ ان کی آنکھوں میں درد تھا۔ وہ فرمانے لگے: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکر پیچھے رہوں؟“ چنانچہ وہ نکل پڑے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے۔ اس رات کی شام جس کی صبح خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا یا ایسا شخص جھنڈا پکڑے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔“ یا فرمایا: ”وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ خیبر فتح کرے گا۔“ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے جبکہ ہمیں امید نہیں تھی۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ علی رضی اللہ عنہ ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دے دیا۔ پھر ان کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ لِلْزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: هَا هُنَا أَمَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ تَرْكُزَ الرَّايَةَ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ عباس رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پرچم نصب کرنے کا حکم فرمایا تھا؟ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2976]
حضرت نافع بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: کیا یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پرچم نصب کرنے کا حکم دیا تھا؟ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
122. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب (کافروں کے دلوں میں) ڈال کر میری مدد کی ہے۔
حدیث نمبر: Q2977
قَالَهُ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «سنلقي في قلوب الذين كفروا الرعب بما أشركوا بالله» ”عنقریب ہم ان لوگوں کے دلوں کو مرعوب کر دیں گے جنہوں نے کفر کیا ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا ہے!“ جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2977]