🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
184. بَابُ الْعَوْنِ بِالْمَدَدِ:
باب: مدد کے لیے فوج روانہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لَحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ، فَأَمَدَّهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى بَلَغُوا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ وَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ، قَالَ: قَتَادَةُ، وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِمْ قُرْآنًا أَلَا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا بِأَنَّا قَدْ لَقِيَنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن ابی عدی اور سہل بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں نماز پڑھتے رہتے۔ یہ حضرات ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو انہیں قبیلہ والوں نے ان صحابہ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک (نماز میں) قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (ان شہداء کے بارے میں) قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم (مسلم) کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3064]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے لوگ آئے اور انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ سے مدد طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصار روانہ کیے جنہیں ہم قراء کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے اور رات کو نوافل پڑھتے، چنانچہ وہ لوگ انہیں ساتھ لے کر چلے گئے حتی کہ جب بئرِ معونہ پہنچے تو ان سے دھوکا کیا اور انہیں قتل کر دیا۔ اس واقعے کی اطلاع پانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک دعائے قنوت پڑھی اور رعل، ذکوان اور بنو لحیان کے خلاف بددعا کرتے رہے۔ (راویِ حدیث) قتادہ نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے متعلق یہ آیات پڑھتے رہے: «أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا» ”کیوں نہیں! ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں۔ وہ ہم سے راضی ہو گیا اور اس نے ہمیں بھی راضی کر دیا ہے۔“ اس کے بعد یہ آیات منسوخ ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
185. بَابُ مَنْ غَلَبَ الْعَدُوَّ فَأَقَامَ عَلَى عَرْصَتِهِمْ ثَلاَثًا:
باب: جس نے دشمن پر فتح پائی اور پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ" تَابَعَهُ مُعَاذٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم پر فتح حاصل ہوتی، تو میدان جنگ میں تین رات قیام فرماتے۔ روح بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ اور عبدالاعلیٰ نے بھی روایت کیا۔ دونوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے ‘ انہوں نے انس سے ‘ انہوں نے ابوطلحہ سے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3065]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”آپ جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن اسی میدان میں قیام کرتے تھے۔“ اس حدیث کو روایت کرنے میں معاذ اور عبد الاعلیٰ نے روح بن عبادہ کی متابعت کی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
186. بَابُ مَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ فِي غَزْوِهِ وَسَفَرِهِ:
باب: سفر میں اور جہاد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3066
وَقَالَ رَافِعٌ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا، فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ.
اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ذوالحلیفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ ہم کو بکریاں اور اونٹ غنیمت میں ملے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دے کر تقسیم کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q3066]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ".
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے ‘ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا ‘ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3066]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ کے مقام سے عمرے کا احرام باندھا جہاں پر آپ نے حنین کی غنائم تقسیم کی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
187. بَابُ إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ:
باب: کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر (مسلمانوں کے غلبہ کے بعد) وہ مال اس مسلمان کو مل گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3067
قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ، فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اور عبداللہ بن نمیر نے کہا ‘ کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا اور دشمنوں نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پھر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو ان کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک غلام نے بھاگ کر روم میں پناہ حاصل کر لی تھی۔ پھر جب مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ حاصل ہوا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا غلام انہیں واپس کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3067]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ان کا ایک گھوڑا بھاگ نکلا اور اسے دشمن نے پکڑ لیا، پھر جب مسلمانوں نے کفار پر غلبہ پایا تو وہ گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا ایک غلام بھی بھاگ کر روم کے کافروں سے مل گیا تھا، جب مسلمان ان پر غالب آئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انہیں واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ: أَنَّ" عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَرَدَّهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَّ فَرَسًا لِابْنِ عُمَرَ عَارَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ، فَرَدُّوهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: عَارَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْعَيْرِ وَهُوَ حِمَارُ وَحْشٍ أَيْ هَرَبَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر روم کے کافروں میں مل گیا تھا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں (اسلامی لشکر نے) اس پر فتح پائی اور خالد رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انکو واپس کر دیا۔ اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جب روم پر فتح ہوئی ‘ تو انہوں نے یہ گھوڑا بھی عبداللہ کو واپس کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3068]
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر اہل روم سے جا ملا۔ جب ان پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے غلبہ حاصل کر لیا تو انہوں نے وہ غلام حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا۔ جب روم پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا تو انہوں نے وہ گھوڑا بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ روایت میں لفظ «عَارَ» «عَيْرٍ» سے مشتق ہے جس کے معنی جنگلی گدھے کے ہیں لیکن اس جگہ معنی بھاگ جانے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ (رومیوں سے) ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا ‘ لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3069]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب مسلمانوں نے (رومیوں سے) مقابلہ کیا تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ اس وقت مسلمان فوج کے سربراہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امیر مقرر کیا تھا۔ اس (گھوڑے) کو دشمن نے پکڑ لیا۔ جب دشمن شکست کھا گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا گھوڑا واپس کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
188. بَابُ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ وَالرَّطَانَةِ:
باب: فارسی یا اور کسی بھی عجمی زبان میں بولنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3070
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ}، {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «واختلاف ألسنتكم وألوانكم‏» ”(اللہ کی نشانیوں میں) تمہاری زبان اور رنگ کا اختلاف بھی ہے۔ “ اور (اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ) «وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه‏» ”ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا ‘ لیکن یہ کہ وہ اپنی قوم کا ہم زبان ہوتا تھا۔ “ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q3070]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3070
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُؤْرًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی ‘ انہیں سعید بن میناء نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ آپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے (جنگ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پا کر چپکے سے) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ اور ایک صاع جو کا آٹا پکوایا ہے۔ اس لیے آپ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا ”اے خندق کھودنے والو! جابر نے دعوت کا کھانا تیار کر لیا ہے۔ آؤ چلو ‘ جلدی چلو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3070]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے (غزوہ خندق کے وقت) عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا پیسا ہے، لہٰذا آپ خود اور مزید کچھ ساتھی تشریف لے چلیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا: ”اے اہل خندق! آج جابر رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے ضیافت تیار کی ہے، آؤ جلدی چلیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3071
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي وَعَلَيَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَنَهْ سَنَهْ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهَا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْلِي وَأَخْلِفِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں خالد بن سعید نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ‘ میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ”سنہ سنہ “ عبداللہ نے کہا یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ (جو آپ کے پشت پر تھی) کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت ڈانٹو ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد کو (درازی عمر کی) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ‘ پھر پہن اور پرانی کر ‘ اور پھر پہن اور پرانی کر ‘ عبداللہ نے کہا کہ چنانچہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3071]
حضرت اُم خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے والد گرامی کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت میں نے زرد رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سَنَهْ سَنَهْ» ”اچھا، اچھا۔“ حبشی زبان میں اس کے معنیٰ ہیں۔ حضرت اُم خالد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، پھر میں مہر نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹ پلائی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔“ پھر فرمایا: ”کرتا پرانا کرو اور اسے پہن کر پھاڑو، پھر کرتا پرانا کرو اور پھاڑو، پھر پرانا کرو اور پھاڑو۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درازیِ عمر کی دعا فرمائی۔) حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ قمیص اتنی دیر تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا ہونے لگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3071]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں