صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ إِقْبَالِ الْمَحِيضِ وَإِدْبَارِهِ:
باب: اس بارے میں کہ حیض کا آنا اور اس کا ختم ہونا کیونکر ہے؟
حدیث نمبر: Q320
وَكُنَّ نِسَاءٌ يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ بِالدُّرَجَةِ فِيهَا الْكُرْسُفُ فِيهِ الصُّفْرَةُ، فَتَقُولُ: لَا تَعْجَلْنَ حَتَّى تَرَيْنَ الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ تُرِيدُ بِذَلِكَ الطُّهْرَ مِنَ الْحَيْضَةِ، وَبَلَغَ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ نِسَاءً يَدْعُونَ بِالْمَصَابِيحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَنْظُرْنَ إِلَى الطُّهْرِ، فَقَالَتْ: مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا وَعَابَتْ عَلَيْهِنَّ.
عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ڈبیا بھیجتی تھیں جس میں کرسف ہوتا۔ اس میں زردی ہوتی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ صاف سفیدی دیکھ لو۔ اس سے ان کی مراد حیض سے پاکی ہوتی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو معلوم ہوا کہ عورتیں رات کی تاریکی میں چراغ منگا کر پاکی ہونے کو دیکھتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ عورتیں ایسا نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے (عورتوں کے اس کام کو) معیوب سمجھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: Q320]
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے باپ سے، وہ عائشہ سے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 320]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا عارضہ تھا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ رگ کا خون ہے، لہذا جب حیض کی آمد ہو تو نماز ترک کر دو اور جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ لاَ تَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلاَةَ:
باب: اس بارے میں کہ حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے۔
حدیث نمبر: Q321
وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَدَعُ الصَّلَاةَ"
اور جابر بن عبداللہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حائضہ نماز چھوڑ دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: Q321]
حدیث نمبر: 321
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ:" أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ، كُنَّا نَحِيضُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَأْمُرُنَا بِهِ أَوْ قَالَتْ فَلَا نَفْعَلُهُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا مجھ سے معاذہ بنت عبداللہ نے کہ ایک عورت نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جس زمانہ میں ہم پاک رہتے ہیں۔ (حیض سے) کیا ہمارے لیے اسی زمانہ کی نماز کافی ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم حروریہ ہو؟ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حائضہ ہوتی تھیں اور آپ ہمیں نماز کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یا عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا کہ ہم نماز نہیں پڑھتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 321]
حضرت معاذہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو کیا وہ فوت شدہ نمازوں کی قضا ادا کرے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تو «حَرُورِيَّةٌ» ”حروریہ“ (خارجی) ہے؟ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حیض آتا تھا اور آپ ہمیں نماز کا حکم نہیں دیتے تھے یا فرمایا: ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
21. بَابُ النَّوْمِ مَعَ الْحَائِضِ وَهْيَ فِي ثِيَابِهَا:
باب: حائضہ عورت کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑوں میں ہو۔
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، فَانْسَلَلْتُ فَخَرَجْتُ مِنْهَا فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَلَبِسْتُهَا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَأَدْخَلَنِي مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، قَالَتْ: وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کر لیا۔ زینب نے کہا کہ مجھ سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیتے۔ اور میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں جنابت کا غسل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 322]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ میں آہستہ سے اٹھی اور اس چادر سے نکل آئی۔ پھر میں نے اپنے حیض کے کپڑے لیے اور انہیں پہن لیا۔ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! تو آپ نے مجھے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں لے لیا۔ زینب نے کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہوتے تھے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لے لیتے تھے، نیز میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل جنابت کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
22. بَابُ مَنِ اتَّخَذَ ثِيَابَ الْحَيْضِ سِوَى ثِيَابِ الطُّهْرِ:
باب: اس بارے میں کہ جس نے (اپنی عورت کے لیے) حیض کے لیے پاکی میں پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ کپڑے بنائے۔
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةً فِي خَمِيلَةٍ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ: أَنُفِسْتِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے، وہ ام سلمہ سے، انہوں نے بتلایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں چپکے سے چلی گئی اور حیض کے کپڑے بدل لیے، آپ نے پوچھا کیا تجھ کو حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا، جی ہاں! پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 323]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ میں چپکے سے نکل آئی اور حیض کا لباس پہن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23. بَابُ شُهُودِ الْحَائِضِ الْعِيدَيْنِ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى:
باب: عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں۔
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ، فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ، فَحَدَّثَتْ عَنْ أُخْتِهَا، وَكَانَ زَوْجُ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشَرَةَ غَزْوَةً، وَكَانَتْ أُخْتِي مَعَهُ فِي سِتٍّ، قَالَتْ: كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى، وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى، فَسَأَلَتْ أُخْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ؟ قَالَ: لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، وَلْتَشْهَد الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا، أَسَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بِأَبِي نَعَمْ، وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُهُ إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَخْرُجُ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضُ وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى"، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ: الْحُيَّضُ، فَقَالَتْ: أَلَيْسَ تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَكَذَا وَكَذَا.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، وہ حفصہ بنت سیرین سے، انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنی کنواری جوان بچیوں کو عیدگاہ جانے سے روکتی تھیں، پھر ایک عورت آئی اور بنی خلف کے محل میں اتریں اور انہوں نے اپنی بہن (ام عطیہ) کے حوالہ سے بیان کیا، جن کے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ لڑائیوں میں شریک ہوئے تھے اور خود ان کی اپنی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چھ جنگوں میں گئی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں اور مریضوں کی خبرگیری بھی کرتی تھیں۔ میری بہن نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا اس کے لیے اس میں کوئی حرج ہے کہ وہ (نماز عید کے لیے) باہر نہ نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی ساتھی عورت کو چاہیے کہ اپنی چادر کا کچھ حصہ اسے بھی اڑھا دے، پھر وہ خیر کے مواقع پر اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں، (یعنی عیدگاہ جائیں) پھر جب ام عطیہ رضی اللہ عنہا آئیں تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرا باپ آپ پر فدا ہو، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو یہ ضرور فرماتیں کہ میرا باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہو۔ (انہوں نے کہا) میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ جوان لڑکیاں، پردہ والیاں اور حائضہ عورتیں بھی باہر نکلیں اور مواقع خیر میں اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں اور حائضہ عورت جائے نماز سے دور رہے۔ حفصہ کہتی ہیں، میں نے پوچھا کیا حائضہ بھی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتی۔ یعنی جب وہ ان جملہ مقدس مقامات میں جاتی ہیں تو پھر عیدگاہ کیوں نہ جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 324]
حضرت حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم جوان لڑکیوں کو عیدین کے لیے باہر نکلنے سے منع کیا کرتی تھیں۔ ایک عورت آئی اور بنی خلف کے محل میں اتری۔ اس نے اپنی بہن کے واسطے سے یہ حدیث سنائی اور اس کے بہنوئی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بارہ غزوات میں شرکت کی تھی اور خود ان کی بہن بھی اپنے شوہر کے ہمراہ چھ غزوات میں شرکت کر چکی تھی۔ اس (بہن) نے بتایا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں اور مریضوں کی تیمارداری بھی کرتی تھیں۔ میری بہن نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اگر ہم میں سے کسی کے پاس بڑی چادر نہ ہو تو اس کے (نماز عید کے لیے) باہر نہ جانے میں کوئی حرج ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ساتھی کو چاہیے کہ وہ اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے تاکہ وہ مجالسِ خیر اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہو۔“ پھر جب ام عطیہ رضی اللہ عنہا آئیں تو میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسا) سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرے (ماں) باپ آپ پر فدا ہوں، ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو میرے (ماں) باپ آپ پر فدا ہوں کے الفاظ ضرور کہتیں، ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”جوان لڑکیاں، پردہ نشین خواتین (یا فرمایا) پردہ نشین جوان لڑکیاں اور حیض والی عورتیں عیدگاہ جائیں اور مجالسِ خیر، نیز مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں عیدگاہ سے الگ رہیں۔“ حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ کہتی ہیں: میں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: آیا حائضہ بھی شریک ہو سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: (کیوں نہیں؟) کیا حائضہ عورتیں عرفہ میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتیں؟ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
24. بَابُ إِذَا حَاضَتْ فِي شَهْرٍ ثَلاَثَ حِيَضٍ وَمَا يُصَدَّقُ النِّسَاءُ فِي الْحَيْضِ وَالْحَمْلِ فِيمَا يُمْكِنُ مِنَ الْحَيْضِ:
باب: اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کو ایک ہی مہینہ میں تین بار حیض آئے؟ اور حیض و حمل سے متعلق جب کہ حیض آنا ممکن ہو تو عورتوں کے بیان کی تصدیق کی جائے گی۔
حدیث نمبر: Q325-2
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ}.
کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا ہے کہ ان کے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیدا کیا ہے وہ اسے چھپائیں۔ (لہٰذا جس طرح یہ بیان قابل تسلیم ہو گا اسی طرح حیض کے متعلق بھی ان کا بیان مانا جائے گا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: Q325-2]
حدیث نمبر: Q325
وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيٍّ، وَشُرَيْحٍ، إِنِ امْرَأَةٌ جَاءَتْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ بِطَانَةِ أَهْلِهَا مِمَّنْ يُرْضَى دِينُهُ أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثًا فِي شَهْرٍ صُدِّقَتْ، وَقَالَ عَطَاءٌ: أَقْرَاؤُهَا مَا كَانَتْ، وَبِهِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَقَالَ عَطَاءٌ: الْحَيْضُ يَوْمٌ إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ، وَقَالَ مُعْتَمِرٌ: عَنْ أَبِيهِ، سَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ، عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى الدَّمَ بَعْدَ قُرْئِهَا بِخَمْسَةِ أَيَّامٍ، قَالَ: النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ.
اور علی رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح سے منقول ہے کہ اگر عورت کے گھرانے کا کوئی آدمی گواہی دے اور وہ دیندار بھی ہو کہ یہ عورت ایک مہینہ میں تین مرتبہ حائضہ ہوتی ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ عورت کے حیض کے دن اتنے ہی قابل تسلیم ہوں گے جتنے پہلے (اس کی عادت کے تحت) ہوتے تھے۔ (یعنی طلاق وغیرہ سے پہلے) ابراہیم نخعی نے بھی یہی کہا ہے اور عطاء نے کہا کہ حیض کم سے کم ایک دن اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن تک ہو سکتا ہے۔ معتمر اپنے والد سلیمان کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن سیرین سے ایک ایسی عورت کے متعلق پوچھا جو اپنی عادت کے مطابق حیض آ جانے کے پانچ دن بعد خون دیکھتی ہے تو آپ نے فرمایا کہ عورتیں اس کا زیادہ علم رکھتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: Q325]
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ:" لَا، إِنَّ ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابواسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، کہا مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے خبر دی کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ یہ تو ایک رگ کا خون ہے، ہاں اتنے دنوں میں نماز ضرور چھوڑ دیا کر جن میں اس بیماری سے پہلے تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 325]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضے کا خون آتا ہے اور میں مدتوں پاک نہیں ہو سکتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ کا خون ہے۔ ہاں، اتنے دن نماز چھوڑ دیا کرو جن میں اس (بیماری) سے قبل تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ اس کے بعد غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة