صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَيْضِ:
باب: اس بیان میں کہ زرد اور مٹیالا رنگ حیض کے دنوں کے علاوہ ہو (تو کیا حکم ہے؟)۔
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، وہ محمد بن سیرین سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 326]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم زرد اور خاکستری رنگ کی رطوبت کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ عِرْقِ الاِسْتِحَاضَةِ:
باب: استحاضہ کی رگ کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، فَقَالَ: هَذَا عِرْقٌ" فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب بن ابی ذئب سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ اور عمرہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں) کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سات سال تک مستحاضہ رہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ (کی وجہ سے بیماری) ہے۔ پس ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 327]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سات سال تک مستحاضہ رہیں، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ رگ (کا خون) ہے“ چنانچہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ:
باب: جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ؟ فَقَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجِي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج میں) حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 328]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید وہ ہمیں (مدینہ) جانے سے باز رکھے گی۔ کیا اس نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کر لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ رخت سفر باندھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے عبداللہ بن طاؤس کے حوالہ سے، وہ اپنے باپ طاؤس بن کیسان سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ حائضہ کے لیے (جب کہ اس نے طواف افاضہ کر لیا ہو) رخصت ہے کہ وہ گھر جائے (اور طواف وداع کے لیے نہ رکی رہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 329]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر حائضہ کو عذرِ حیض شروع ہو جائے تو وہ (طوافِ وداع کے بغیر) مکے سے روانہ ہو سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 330
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ: إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: تَنْفِرُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ".
ابن عمر ابتداء میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ اسے (بغیر طواف وداع کے) جانا نہیں چاہیے۔ پھر میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی رخصت دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 330]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے پہلے اس حالت میں مکہ سے واپس ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے، (حضرت طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) پھر میں نے انہیں یہ فرماتے سنا کہ وہ طوافِ وداع کے بغیر واپس جا سکتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”جانے کی اجازت دے دی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
28. بَابُ إِذَا رَأَتِ الْمُسْتَحَاضَةُ الطُّهْرَ:
باب: جب مستحاضہ اپنے جسم میں پاکی دیکھے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: Q331
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَلَوْ سَاعَةً، وَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا إِذَا صَلَّتِ الصَّلَاةُ أَعْظَمُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ غسل کرے اور نماز پڑھے اگرچہ دن میں تھوڑی دیر کے لیے ایسا ہوا ہو اور اس کا شوہر نماز کے بعد اس کے پاس آئے۔ کیونکہ نماز سب سے زیادہ عظمت والی چیز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: Q331]
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا زمانہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ زمانہ گزر جائے تو خون کو دھو اور نماز پڑھ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 331]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فاطمہ بنت ابی حبیش سے) فرمایا: ”جب حیض کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض کے ایام گزر جائیں تو خون کو دھو ڈالو اور نماز ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
29. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى النُّفَسَاءِ وَسُنَّتِهَا:
باب: اس بارے میں کہ نفاس میں مرنے والی عورت پر نماز جنازہ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،" أَنَّ امْرَأَةً مَاتَتْ فِي بَطْنٍ فَصَلَّى عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَسَطَهَا".
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے، کہا ہم سے شعبہ نے حسین سے۔ وہ عبداللہ بن بریدہ سے، وہ سمرہ بن جندب سے کہ ایک عورت (ام کعب) زچگی میں مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے (جسم کے) وسط میں کھڑے ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 332]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا زچگی میں انتقال ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ پڑھتے وقت اس کے درمیان (کمر کے سامنے) کھڑے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
30. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ اسْمُهُ الْوَضَّاحُ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا لَا تُصَلِّي وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ، إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي بَعْضُ ثَوْبِهِ".
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابوعوانہ وضاح نے اپنی کتاب سے دیکھ کر خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی سلیمان شیبانی نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے کہا میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں سنا کہ میں حائضہ ہوتی تو نماز نہیں پڑھتی تھی اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (گھر میں) نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب لیٹی ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اپنی چٹائی پر پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کا کوئی حصہ مجھ سے لگ جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 333]
حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ وہ حائضہ ہوتیں اور نماز نہ پڑھتیں تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے پاس لیٹی رہتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے، جب سجدہ کرتے تو آپ کا کچھ کپڑا ان کے جسم سے لگ جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة