🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ الاِعْتِكَافِ لِلْمُسْتَحَاضَةِ:
باب: عورت کے لیے استحاضہ کی حالت میں اعتکاف۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے خالد کے واسطہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بعض امہات المؤمنین نے اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ (اوپر والی روایت میں ان ہی کا ذکر ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 311]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک نے استحاضے کی حالت میں اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ هَلْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي ثَوْبٍ حَاضَتْ فِيهِ:
باب: کیا عورت اسی کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اسے حیض آیا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ" مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ: بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتی تھیں۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتیں اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 312]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس صرف ایک ہی لباس ہوتا تھا، اسی میں ایام حیض گزارتیں، اگر اس میں حیض کا کچھ خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال دیتیں اور اسے اپنے ناخنوں سے رگڑ دیتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ الطِّيبِ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ:
باب: عورت حیض کے غسل میں خوشبو استعمال کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ"، قَالَ: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں (عدت کے دنوں میں) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 313]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے روکا جاتا تھا، سوائے شوہر کے کہ اس کے معاملے میں چار ماہ دس دن تک سوگ کا حکم تھا، نیز یہ بھی حکم تھا کہ اس دوران میں ہم نہ سرمہ لگائیں، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ کوئی رنگین کپڑا پہنیں، مگر جس کپڑے کا دھاگا بناوٹ کے وقت ہی رنگا ہوا ہو۔ البتہ حیض سے فراغت کے وقت یہ اجازت تھی کہ جب ہم میں سے کوئی غسلِ حیض کرے تو وہ «کُسْتَ أَظْفَارٍ» خوشبو استعمال کرے۔ اس کے علاوہ ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ اس حدیث کی روایت ہشام بن حسان نے حفصہ رحمہا اللہ سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ دَلْكِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ:
باب: اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q314
وَكَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَتَّبِعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ‏.‏
‏‏‏‏ اور یہ کہ عورت کیسے غسل کرے، اور مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر خون لگی ہوئی جگہوں پر اسے پھیرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: Q314]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ؟ قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي، فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی ماں صفیہ بنت شیبہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے پوچھا۔ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اسے خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیر لیا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 314]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے غسلِ حیض کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اس کے سامنے غسل کی کیفیت بیان کی۔ مزید فرمایا: کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کر۔ وہ کہنے لگی: اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» سبحان اللہ! پاکیزگی حاصل کر۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور اسے سمجھایا کہ اسے خون کے مقامات پر لگا لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ غُسْلِ الْمَحِيضِ:
باب: حیض کا غسل کیونکر ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيضِ؟ قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَا فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ، أَوْ قَالَ: تَوَضَّئِي بِهَا، فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ صفیہ سے، وہ عائشہ سے کہ انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مشک میں بسا ہوا کپڑا لے اور پاکی حاصل کر، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا، یا فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہنی چاہتے تھے وہ میں نے اسے سمجھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 315]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں حیض کا غسل کس طرح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لو اور اس سے پاکی حاصل کرو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حیا دامن گیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک دوسری طرف پھیر لیا، یا فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہنا چاہتے تھے، وہ میں نے اسے سمجھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ امْتِشَاطِ الْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ:
باب: عورت کا حیض کے غسل کے بعد کنگھا کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لَيْلَةُ عَرَفَةَ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِعُمْرَةٍ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے عروہ کے واسطہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، میں تمتع کرنے والوں میں تھی اور ہدی (یعنی قربانی کا جانور) اپنے ساتھ نہیں لے گئی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق بتایا کہ پھر وہ حائضہ ہو گئیں اور عرفہ کی رات آ گئی اور ابھی تک وہ پاک نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! آج عرفہ کی رات ہے اور میں عمرہ کی نیت کر چکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سر کو کھول ڈال اور کنگھا کر اور عمرہ کو چھوڑ دے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے حج پورا کیا۔ اور لیلۃ الحصبہ میں عبدالرحمٰن بن ابوبکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ وہ مجھے اس عمرہ کے بدلہ میں جس کی نیت میں نے کی تھی تنعیم سے (دوسرا) عمرہ کرا لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 316]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں احرام باندھا تو میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے حج تمتع کی نیت کی تھی اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہیں حیض آ گیا اور شب عرفہ تک پاک نہ ہو سکیں، تب انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کی رات ہے اور میں نے عمرے کا احرام باندھ کر تمتع کا ارادہ کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا سر کھول کر کنگھی کر لو اور اپنے عمرے کے اعمال کو موقوف کر دو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، اور جب میں حج سے فارغ ہو گئی تو آپ نے شب محصب (میرے بھائی) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ، میرے اس عمرے کے بدلے جس کا میں نے احرام باندھا تھا، مجھے مقام تنعیم سے عمرہ کرا لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ نَقْضِ الْمَرْأَةِ شَعَرَهَا عِنْدَ غُسْلِ الْمَحِيضِ:
باب: حیض کے غسل کے وقت عورت کا اپنے بالوں کو کھولنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِحَجٍّ، وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِحَجٍّ، فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي"، قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ حماد نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے فرمایا ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آ گیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔ ہشام نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کی وجہ سے بھی نہ ہدی واجب ہوئی اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ (تنعیم حد حرم سے قریب تین میل دور ایک مقام کا نام ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 317]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم ہلالِ ذی الحجہ کے قریب حج کے لیے روانہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص عمرے کا احرام باندھنا چاہے، وہ عمرے کا احرام باندھ لے اور اگر میں خود ہدی (قربانی کا جانور) نہ لایا ہوتا تو عمرے ہی کا احرام باندھتا۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ مجھے عرفے کا دن بحالتِ حیض آیا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ ترک کر دو اور اپنے سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو، پھر حج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب وادیِ محصب میں پڑاؤ کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا، میں (ان کے ساتھ) تنعیم تک گئی اور وہاں سے فوت شدہ عمرے کی جگہ دوسرا احرام باندھا۔ ہشام (راوی) کہتے ہیں کہ ان سب باتوں میں نہ قربانی لازم ہوئی، نہ روزہ رکھنا پڑا اور نہ صدقہ ہی دینا پڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ:
باب: اللہ عزوجل کے قول «مخلقة وغير مخلقة» (کامل الخلقت اور ناقص الخلقت) کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ، قَالَ: أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ، فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے عبیداللہ بن ابی بکر کے واسطے سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب! اب یہ «نطفة» ہے، اے رب! اب یہ «علقة» ہو گیا ہے، اے رب! اب یہ «مضغة‏» ہو گیا ہے۔ پھر جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا مونث، بدبخت ہے یا نیک بخت، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 318]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحمِ مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے جو عرض کرتا ہے: اے پروردگار! «يَا رَبِّ نُطْفَةٌ» رحمِ مادر میں یہ نطفہ ہے۔ اے رب! «يَا رَبِّ عَلَقَةٌ» یہ علقہ، یعنی خون بستہ ہو گیا۔ اے رب! «يَا رَبِّ مُضْغَةٌ» اب یہ گوشت کا لوتھڑا بن گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی خلقت کو مکمل کر دینا چاہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: «أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَىٰ؟» مذکر یا مؤنث؟ «شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟» بدبخت یا نیک بخت؟ «فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ؟» پھر اس کا رزق اور عمر کس قدر ہے؟ یہ تمام باتیں (فرشتے کی طرف سے) رحمِ مادر ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ كَيْفَ تُهِلُّ الْحَائِضُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: اس بارے میں کہ حائضہ عورت حج اور عمرہ کا احرام کس طرح باندھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ، قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي، فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور وہ ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہو گا۔ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی اور عرفہ کا دن آ گیا۔ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں، میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا۔ پھر میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 319]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم میں سے کسی نے عمرے کا احرام باندھا اور کسی نے حج کا۔ جب ہم مکہ مکرمہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ (عمرہ کرنے کے بعد) حلال ہو جائے۔ اور جس نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ہدی کا جانور ساتھ لایا ہے تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہیں ہو گا۔ اور جس نے صرف حج کا احرام باندھا ہے اسے اپنے حج کو پورا کرنا ہو گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے حیض آ گیا اور یوم عرفہ تک اسی حالت میں رہی۔ چونکہ میں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول کر کنگھی کر لوں، پھر حج کا احرام باندھ لوں اور عمرے کو ترک کر دوں۔ میں نے ایسا ہی کیا تا آنکہ میں نے اپنا حج پورا کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے ترک کردہ عمرے کے بدلے تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں