صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ ذِكْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ:
باب: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا بیان۔
حدیث نمبر: 3737
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ فَلَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَقَالَ: أَعِدْ , فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ:" مَنْ هَذَا"، قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ". فَذَكَرَ حُبَّهُ وَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّ أَيْمَنَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي , عَنْ سُلَيْمَانَ، وَكَانَتْ حَاضِنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مولیٰ حرملہ نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے کہ حجاج بن ایمن (مسجد کے) اندر آئے نہ انہوں نے رکوع پوری طرح ادا کیا تھا اور نہ سجدہ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ نماز دوبارہ پڑھ لو۔ پھر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا حجاج بن ایمن ابن ام ایمن ہیں۔ اس پر آپ نے کہا اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو بہت عزیز رکھتے، پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسامہ رضی اللہ عنہ اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد سے محبت کا ذکر کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا اور ان سے سلیمان نے کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3737]
حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ، جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ اس دوران میں حجاج بن ایمن رضی اللہ عنہ آیا اور اس نے نماز میں رکوع و سجود پوری طرح ادا نہ کیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: ”اپنی نماز دوبارہ پڑھو۔“ جب وہ واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: ”یہ حضرت ایمن ہیں۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو اس سے بہت محبت کرتے۔“ پھر آپ نے حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کی اولاد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے واقعات بیان کیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان سے بیان کیا کہ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3737]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ شَابًّا أَعْزَبَ وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ , وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ , أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَنْ تُرَاعَ , فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ.
ہم سے محمد نے بیان کیا کہا، ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب موجود تھے تو جب بھی کوئی شخص کوئی خواب دیکھتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کرتا۔ میرے دل میں بھی یہ تمنا پیدا ہو گئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں۔ میں ان دنوں کنوارا تھا اور نوعمر بھی تھا۔ میں آپ کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا تو میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا کہ مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی۔ کنویں ہی کی طرح اس کے بھی دو کنارے تھے اور اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد مجھ سے ایک دوسرے فرشتے کی ملاقات ہوئی، اس نے مجھ سے کہا کہ خوف نہ کھا، میں نے اپنا یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3738]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جب کوئی شخص خواب دیکھتا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ میری خواہش تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کروں۔ میں ان دنوں غیر شادی شدہ اور نوخیز تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد نبوی کے اندر ہی سویا کرتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا جو مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی اور کنویں ہی کی طرح اس کے دو کنارے بھی تھے۔ اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں دوزخ سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔“ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ اس کے بعد مجھے ایک دوسرا فرشتہ ملا، اس نے مجھ سے کہا: «لَنْ تُرَاعَ» ”کسی قسم کی فکر نہ کرو۔“ میں نے اپنا یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3739
فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ"، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا.
حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ کاش! رات میں وہ تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ اس کے بعد رات میں بہت کم سویا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3739]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے میرا یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”عبد اللہ اچھا آدمی ہے، کاش! وہ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔“ حضرت سالم بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3739]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہوں نے اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3740]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبد اللہ ایک نیک آدمی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہوں نے اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3741]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ ایک نیک آدمی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ مَنَاقِبُ عَمَّارٍ وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: عمار اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ , فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ: إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صالحًا، قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَوَلَيْسَ عِنْدَكُمْ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ , وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ , وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ سِرِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ غَيْرُهُ، ثُمَّ قَالَ:كَيْفَ يَقْرَأُ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى {1} وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى {2} سورة الليل آية 1-2 , 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں جب شام آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہارا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں «ابن أم عبد صاحب النعلين والوساد والمطهرة» (یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔ (مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی) کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ (یعنی حذیفہ رضی اللہ عنہ) اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى» کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھ کر سنائی کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یاد کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3742]
حضرت علقمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں شام کے علاقے میں آیا، دو رکعت نماز پڑھی، پھر اللہ سے دعا کی: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا» ”اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔“ پھر میں ایک قوم کے پاس گیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا: ”یہ بزرگ کون ہیں؟“ لوگوں نے بتایا کہ ”یہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔“ میں نے کہا: ”آج میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ساتھی عنایت کرے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عطا فرمایا ہے۔“ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم کن لوگوں میں سے ہو؟“ میں نے کہا: ”اہلِ کوفہ سے ہوں۔“ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین بردار، صاحبِ وِسادہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوٹا اٹھانے والے ابنِ اُمِ عبد نہیں ہیں؟ کیا تمہارے ہاں وہ شخص نہیں ہے جسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پناہ دے رکھی ہے؟ کیا تمہارے اندر وہ ہستی نہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رازداں تھی، جن رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا تھا؟“ پھر انہوں نے پوچھا کہ ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ [سورة الليل: 1] کس طرح پڑھتے تھے؟“ میں نے انہیں پڑھ کر سنایا: ﴿وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 2-3] ۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبانِ مبارک سے مجھے بھی اسی طرح پڑھایا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3743
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا" , فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَمَّارًا، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ أَوِ السِّرَارِ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى {1} وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى {2} سورة الليل آية 1-2؟ قُلْتُ: 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ: مَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ شام میں تشریف لے گئے اور مسجد میں جا کر یہ دعا کی۔ اے اللہ! مجھے ایک نیک ساتھی عطا فرما، چنانچہ آپ کو ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ عرض کیا کہ کوفہ سے، اس پر انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دار نہیں ہیں کہ ان رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا؟ (ان کی مراد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے تھی) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں موجود ہیں، پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ دی تھی۔ ان کی مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں وہ بھی موجود ہیں، اس کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى» کی قرآت کس طرح کرتے تھے؟ میں نے کہا کہ وہ ( «وما خلق» کے حذف کے ساتھ) «والذكر والأنثى» پڑھا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ شام والے ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ اس آیت کی تلاوت کو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا اس سے مجھے ہٹا دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3743]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ملک شام گئے اور مسجد میں داخل ہوئے تو دعا کی: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا» ”اے اللہ! مجھے اچھا ساتھی عنایت فرما۔“ تو وہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے۔ انہوں نے فرمایا: ”تم کن لوگوں میں سے ہو؟“ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اہل کوفہ سے ہوں۔“ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم میں وہ راز داں نہیں ہیں جو ایسے بھیدوں سے واقف تھے جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا تھا، (یعنی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ)؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”کیوں نہیں، موجود ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”کیا تم میں وہ شخص نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر شیطان کے شر سے نجات دی ہے، (یعنی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ)؟“ میں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، موجود ہیں۔“ پھر انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم میں صاحبِ سواک اور صاحبِ وسادہ موجود نہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، بلکہ موجود ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ﴾ [سورة الليل: 2] اور ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] کو کیسے پڑھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: ”وہ اسے «وَالذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے ہیں۔“ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہاں کے لوگ بھی عجیب ہیں! میرے ساتھ ہمیشہ سے مزاحمت کرتے چلے آ رہے ہیں حتی کہ مجھے اس بات سے ہٹانا چاہتے ہیں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
21. بَابُ مَنَاقِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3744]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور ہماری اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3745
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:" لَأَبْعَثَنَّ يَعْنِي عَلَيْكُمْ يَعْنِي أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ" , فَأَشْرَفَ أَصْحَابُهُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے صلہ نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شوق ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3745]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: ”میں تمہارے ہاں ایسا حاکم بھیجوں گا جو کامل امین ہوگا۔“ یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے نگاہیں اٹھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
21M. بَابُ ذِكْرِ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ:
باب: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3746-2
n
(نوٹ: امام بخاری رحمہ اللہ کو اپنی شرائط کے مطابق کوئی حدیث نہیں ملی، اس لیے حدیث ذکر نہیں کی، دوسری کتب میں آپ کے فضائل والی احادیث موجود ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3746-2]