🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ مَنَاقِبُ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3754
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ عُمَرُ ,يَقُولُ:" أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا" يَعْنِي: بِلَالًا..
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا ہم کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3754]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں، انہوں نے ہمارے سردار کو (خرید کر) آزاد کیا ہے۔“ ان کی مراد حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3755
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ بِلَالًا، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي , وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ".
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبید نے کہا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، اور ان سے قیس نے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3755]
قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو مجھے (اپنی غلامی میں) روک رکھیں اور اگر آپ نے مجھے اللہ کے لیے خریدا ہے تو مجھے آزاد کر دیں تاکہ میں اللہ کے لیے عمل کروں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ ذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر خیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3756
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ". حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَقَالَ:" عَلِّمْهُ الْكِتَابَ"، حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ مِثْلَهُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا ”اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3756]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے سے لگا کر دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ» ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3756]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَنَاقِبُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا , وَجَعْفَرًا , وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ".
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم کو زید (رضی اللہ عنہ) لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3757]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر آنے سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطلع کر دیا کہ یہ حضرات شہید ہو چکے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مسلمانوں کے لشکر کا) جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے پکڑا اور وہ شہید ہو گئے، پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے پکڑا وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں میں لیا وہ بھی شہید ہو گئے،“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، ”حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے اپنے ہاتھ میں جھنڈا لیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح سے ہمکنار کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَنَاقِبُ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سالم رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3758
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ"، قَالَ: لَا أَدْرِي بَدَأَ بِأُبَيٍّ أَوْ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے مسروق نے کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے یہاں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ابی بن کعب کا ذکر کیا یا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3758]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قرآن مجید چار آدمیوں سے پڑھو: عبداللہ بن مسعود سے،“ اور ان کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ذکر کیا، ”اور سالم سے، جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ ہیں، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے۔“ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا نام لیا تھا یا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ:" إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، کہا میں نے ابووائل سے سنا، کہا کہ میں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3759]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلف سے فحش گوئی ہی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تم میں سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق تمام لوگوں سے عمدہ ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3760
وَقَالَ:" اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ".
‏‏‏‏ اور آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3760]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید چار آدمیوں سے سیکھو: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ سالم، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا , فَرَأَيْتُ شَيْخًا مُقْبِلًا فَلَمَّا دَنَا، قُلْتُ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اسْتَجَابَ، قَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَفَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمُ الَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ؟ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَاللَّيْلِ؟ فَقَرَأْتُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى {1} وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى {2} سورة الليل آية 1-2 , 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ إِلَى فِيَّ فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونِي.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی (نیک) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آ گئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں «صاحب النعلين والوساد والمطهرة» (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے (اللہ کی) پناہ مل چکی ہے۔ (یعنی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا (پھر دریافت فرمایا) ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) آیت «والليل‏» کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى‏» آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3761]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور دعا مانگی: ”اے اللہ! مجھے کسی نیک ساتھی کی رفاقت نصیب ہو“، چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں۔ جب وہ قریب آ گئے تو میں نے (دل میں) کہا: ”شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے۔“ انہوں نے پوچھا: ”آپ کہاں سے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”کوفہ کا رہنے والا ہوں۔“ انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہارے ہاں صاحبِ نعلین، صاحبِ وسادہ اور صاحبِ مطہرہ نہیں ہیں؟ کیا تمہارے پاس وہ شخصیت نہیں ہے جسے شیطان مردود سے پناہ مل چکی ہے؟ کیا تمہارے ہاں سربستہ راز جاننے والے نہیں ہیں، جن رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا؟“ پھر فرمایا: ”ابنِ امِ عبد سورہ لیل کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟“ میں نے کہا: ”وہ اس طرح پڑھتے ہیں: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَالذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 1-3] ۔“ انہوں نے فرمایا: ”مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا لیکن اب اہل شام مجھے اس طرح قراءت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3762
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ، عَنْ رَجُلٍ قَرِيبِ السَّمْتِ وَالْهَدْيِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ، فَقَالَ:" مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صحابہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں ابن ام عبد سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3762]
حضرت عبدالرحمان بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات اور طور طریقے کے بہت قریب ہو، تاکہ ہم اس سے کچھ حاصل کریں۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و صورت اور عادات و اخلاق میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ قریب کسی کو نہیں دیکھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3763
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3763]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اور میرا بھائی یمن سے آئے۔ ہم کچھ مدت مدینہ طیبہ میں ٹھہرے تو ہم یہی خیال کرتے رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہیں کیونکہ ہم ان کا اور ان کی والدہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آنا جانا دیکھتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں