صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْقَبَةِ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3711
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ , وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں اپنا آدمی بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فی کی صورت میں دی تھی۔ یعنی آپ کا مطالبہ مدینہ کی اس جائیداد کے بارے میں تھا جس کی آمدن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصارف خیر میں خرچ کرتے تھے، اور اسی طرح فدک کی جائیداد اور خیبر کے خمس کا بھی مطالبہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3711]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا جس کے ذریعے سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صدقات کا مطالبہ کرتی تھیں جو مدینہ طیبہ میں اور فدک میں تھے، اسی طرح جو خیبر کے خمس سے باقی بچ گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3711]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3712
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ" , وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَقَّهُمْ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي".
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما گئے ہیں کہ ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور یہ کہ آل محمد کے اخراجات اسی مال میں سے پورے کئے جائیں مگر انہیں یہ حق نہیں ہو گا کہ کھانے کے علاوہ اور کچھ تصرف کریں اور میں، اللہ کی قسم! آپ کے صدقے میں جو آپ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ان میں کوئی رد و بدل نہیں کروں گا بلکہ وہی نظام جاری رکھوں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم آپ کی فضیلت و مرتبہ کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا اور اپنے حق کا ذکر کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت والوں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنی قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3712]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ”ہمارے (ترکہ میں) وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، البتہ آلِ محمد کے اخراجات اسی مال سے پورے کیے جائیں، خورد و نوش سے زیادہ ان کا کوئی حق نہیں ہے۔“ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں ہوا کرتے تھے، میں ان میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا بلکہ ان میں وہ نظام جاری رکھوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے ہاں آئے اور کہنے لگے: ”ابوبکر! ہم آپ کے مقام اور مرتبے کا اعتراف کرتے ہیں“، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور حق کا ذکر کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے ساتھ بہتر سلوک سے زیادہ محبوب ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3713
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ:" ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ".
مجھے عبداللہ بن عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آپ کے اہل بیت میں رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3713]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کے اہل بیت کے بارے میں خاص خیال رکھو، یعنی بہرصورت ان کا احترام بجا لاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3714
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3714]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرا جگر گوشہ ہے، اس لیے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3714]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3715
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3715]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بیماری کے موقع پر اپنے پاس بلایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی خفیہ بات کی تو وہ رونے لگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان سے کوئی آہستہ بات کی تو وہ ہنسنے لگیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3715]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3716
فَقَالَتْ:" سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ".
تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں وفات پا جائیں گے، میں اس پر رونے لگی۔ پھر مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا کہ آپ کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی، اس پر میں ہنسی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3716]
انہوں نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) بتایا: ”مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ بات کی تھی کہ آپ اس بیماری میں وفات پا جائیں گے“ تو میں اس پر رونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوبارہ آہستہ گفتگو فرمائی کہ ”آپ کے اہل بیت میں سے میں سب سے پہلے آپ سے ملاقات کروں گی“ تو میں اس پر ہنس پڑی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ:
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3717
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ حَوَارِيُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُمِّيَ الْحَوَارِيُّونَ لِبَيَاضِ ثِيَابِهِمْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری تھے اور انہیں (عیسیٰ علیہ السلام کے حواریین کو) حواریین ان کے سفید کپڑوں کی وجہ سے کہتے ہیں (بعض لوگوں نے ان کو دھوبی بتلایا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3717]
حدیث نمبر: 3717
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ:" اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقَالُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: عُثْمَانُ وَقَالُوا، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، قَالَ: فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3717]
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی وبا پھیلی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اس قدر نکسیر پھوٹی کہ انہیں حج سے اس مرض نے روک دیا، انہوں نے وصیت کر دی۔ ان کی خدمت میں ایک قریشی صاحب آئے اور عرض کیا: ”آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا لوگوں کی یہ خواہش ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”میں کس کو خلیفہ نامزد کروں؟“ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد کوئی دوسرے صاحب آئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ ”آپ کسی کو خلیفہ نامزد کریں۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا یہ سب لوگوں کی رائے ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے پوچھا: ”وہ کون ہو سکتا ہے؟“ اس پر وہ خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”غالباً لوگوں کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف رجحان ہو گا؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق بھی وہ ان سب سے بہتر ہیں، بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سب سے زیادہ محبوب تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3717]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3718
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي , سَمِعْتُ مَرْوَانَ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقِيلَ ذَاكَ، قَالَ: نَعَمْ الزُّبَيْرُ، قَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ ثَلَاثًا".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں، زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3718]
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا۔ ایک شخص نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ”آپ کسی کو اپنا خلیفہ نامزد کریں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم سب جانتے ہو کہ وہ تم میں اس منصب کے لیے بہتر اور لائق ہیں۔“ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3719
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا جو ابوسلمہ کے صاحبزادے تھے، ان سے محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3719]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3719]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة