🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ:
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3720
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي النِّسَاءِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ عَلَى فَرَسِهِ يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ، قَالَ: أَوَ هَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ" , فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا (کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے) میں نے اچانک دیکھا کہ زبیر رضی اللہ عنہ (آپ کے والد) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ (یہودیوں کے ایک قبیلہ کی) طرف آ جا رہے ہیں۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی (نقل و حرکت کے متعلق) اطلاع میرے پاس لا سکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں (خبر لے کر) واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرط مسرت میں) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3720]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ غزوہ احزاب کے وقت مجھے اور حضرت عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو (کمسن ہونے کی وجہ سے) عورتوں میں چھوڑ دیا گیا۔ پھر میں نے جو نظر دوڑائی تو دیکھا کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہیں اور دو یا تین بار بنو قریظہ کی طرف گئے ہیں، پھر واپس آئے ہیں۔ جب اختتامِ جنگ پر میں واپس آیا تو میں نے کہا: ابوجان! میں نے آپ کو دیکھا کہ بار بار ادھر آتے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: بیٹا! کیا تو نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انہوں نے وضاحت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا ہے جو بنو قریظہ کے پاس جائے اور میرے پاس ان کی خبر لائے؟ چنانچہ میں اس مہم کے لیے گیا؛ پھر جب میں واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ یکجا جمع کر کے فرمایا: «فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ: أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ , فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ عُرْوَةُ:" فَكُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ".
ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے ان (رومیوں) پر حملہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے (رومیوں نے) آپ کے دو کاری زخم شانے پر لگائے۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا۔ عروہ نے کہا کہ (یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہو جانے کے بعد) میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3721]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یرموک کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ آپ کے ساتھ مل کر ہم بھی حملہ کریں؟ چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان رومیوں پر حملہ کیا تو اس موقع پر کفار نے دو کاری زخم آپ کے شانے پر لگائے، ان دونوں کے درمیان وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں داخل کرکے کھیلا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ ذِكْرِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ:
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3722
وَقَالَ عُمَرُ:" تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُ رَاضٍ".
‏‏‏‏ اور عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3722]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ:" لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ , وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا".
مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے (احد کی جنگ میں) آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3722]
حضرت ابوعثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بعض ان غزوات کے وقت جن میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شمولیت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ یہ بات خود ان کی بیان کردہ حدیث میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3722]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ:" لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ , وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا".
مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے (احد کی جنگ میں) آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3723]
حضرت ابوعثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بعض ان غزوات کے وقت جن میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شمولیت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ یہ بات خود ان کی بیان کردہ حدیث میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَلَّتْ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (جنگ احد میں) حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہو چکا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3724]
حضرت قیس بن ابوحازم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا، جس کے ذریعے سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيِّ
باب: سعد بن ابی وقاص الزہری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3725
وَبَنُو زُهْرَةَ أَخْوَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ:
‏‏‏‏ بنو زہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے، ان کا اصل نام سعد بن ابی مالک ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3725]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3725
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ:" جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جنگ احد کے موقع پر میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کر کے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3725]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں جمع کر دیے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثُلُثُ الْإِسْلَامِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ مجھے خوب یاد ہے۔ میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ اپنے آپ کو دیکھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اسلام کے تیسرے حصے سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مسلمان تھے جن میں تیسرا مسلمان میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3726]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسلام کی ایک تہائی تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3727
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ". تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ ,حَدَّثَنَا هَاشِمٌ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص سے سنا، انہوں نے کہا کہ جس دن میں اسلام لایا، اسی دن دوسرے (سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ) بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3727]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا مگر اسی روز جس میں میں نے اسلام قبول کیا، اور میں سات روز تک اسی حالت میں رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابواسامہ نے اس روایت کو بیان کرنے میں ابن ابی زائدہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں