🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ ذِكْرُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3822
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ".
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا کہا، ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے بیان نے کہ میں نے قیس سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (گھر کے اندر آنے سے) نہیں روکا (جب بھی میں نے اجازت چاہی) اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکراتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3822]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3822]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3823
وَعَنْ قَيْسٍ عن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ، يُقَالُ لَهُ: ذُو الْخَلَصَةِ وَكَانَ، يُقَالُ لَهُ: الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ أَوْ الْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟"، قَالَ: فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، قَالَ: فَكَسَرْنَا وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ , فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ , فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ".
اور قیس سے روایت ہے کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں ذوالخلصہ نامی ایک بت کدہ تھا اسے «الكعبة اليمانية» یا «الكعبة الشأمية» بھی کہتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ذی الخلصہ کے وجود سے میں جس اذیت میں مبتلا ہوں، کیا تم مجھے اس سے نجات دلا سکتے ہو؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو میں لے کر چلا، انہوں نے بیان کیا اور ہم نے بت کدے کو ڈھا دیا اور اس میں جو تھے ان کو قتل کر دیا، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3823]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں «ذُو الْخَلَصَةِ» ذوالخلصہ نامی ایک بت کدہ تھا، جسے «الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَّةُ» الکعبہ الیمانیہ یا «الْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ» الکعبہ الشامیہ بھی کہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم ذوالخلصہ کی طرف سے مجھے آرام پہنچا سکتے ہو؟ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں قبیلہ احمس سے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر وہاں گیا اور ہم نے اسے زمین بوس کر دیا، نیز جسے وہاں پایا اسے قتل کر دیا۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حالات بیان کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3824
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ هَزِيمَةً بَيِّنَةً , فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ , فَاجْتَلَدَتْ أُخْرَاهُمْ , فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَنَادَى أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي، فَقَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ: حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ أَبِي: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن رجاء نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں جب مشرکین ہار چکے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اے اللہ کے بندو! پیچھے والوں کو (قتل کرو) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد (یمان رضی اللہ عنہ) بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ (ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کر بیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3824]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب غزوہ اُحد میں مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کو قتل کرو۔ آگے والے مسلمان پیچھے والے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی کو دیکھا (کہ مسلمان انہیں قتل کر رہے ہیں) تو بآواز بلند کہا: اللہ کے بندو! یہ میرے والد گرامی ہیں، یہ میرے باپ ہیں۔ لیکن لوگ نہ رُکے حتیٰ کہ انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ ہشام کے والد عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس کے باعث ہمیشہ دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ ذِكْرُ هِنْدٍ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:
باب: ہند بنت عتبہ ربیعہ رضی اللہ عنہا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3825
وَقَالَ عَبْدَانُ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ، أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، قَالَ:" وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا، قَالَ:" لَا أُرَاهُ إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ"
اور عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں ابھی اور ترقی ہو گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے پھر ہند نے کہا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3825]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئیں اور کہا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر کسی خاندان کی ذلت مجھے آپ کے گھرانے کی ذلت سے زیادہ محبوب نہ تھی اور اب حال یہ ہے کہ روئے زمین پر کوئی ایسا گھرانہ نہیں جو مجھے آپ کے گھرانے سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ محبت اور زیادہ ہو گی۔ حضرت ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ بہت کنجوس آدمی ہیں۔ کیا مجھ پر گناہ تو نہیں اگر میں ان کے مال سے بلا اجازت اپنے بچوں کو کچھ کھلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے عام رواج کے مطابق کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ:
باب: زید بن عمرو بن نفیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ , فَقُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ: إِنِّي لَسْتُ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ , وَأَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيبُ عَلَى قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَقُولُ: الشَّاةُ خَلَقَهَا اللَّهُ وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءَ وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ تَذْبَحُونَهَا عَلَى غَيْرِ اسْمِ اللَّهِ إِنْكَارًا لِذَلِكَ وَإِعْظَامًا لَهُ".
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے (وادی) بلدح کے نشیبی علاقہ میں ملاقات ہوئی، یہ قصہ نزول وحی سے پہلے کا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان بچھایا گیا تو زید بن عمرو بن نفیل نے کھانے سے انکار کر دیا اور جن لوگوں نے دستر خوان بچھایا تھا ان سے کہا کہ اپنے بتوں کے نام پر جو تم ذبیحہ کرتے ہو میں اسے نہیں کھاتا میں تو بس وہی ذبیحہ کھایا کرتا ہوں جس پر صرف اللہ کا نام لیا گیا ہو، زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحے کے بارے میں عیب لگایا کرتے اور کہتے تھے کہ بکری کو پیدا تو کیا اللہ تعالیٰ نے، اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی برسایا ہے اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اگائی، پھر تم لوگ اللہ کے سوا دوسرے (بتوں کے) ناموں پر اسے ذبح کرتے ہو۔ زید نے یہ کلمات ان کے ان کاموں پر اعتراض کرتے ہوئے اور ان کے اس عمل کو بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3826]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح کے دامن میں ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ابھی نزولِ وحی کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ (وہاں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے تناول فرمانے سے صاف انکار کر دیا۔ پھر زید بن عمرو نے بھی کہا: میں وہ چیز نہیں کھاتا جو تم اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ میں تو صرف وہی چیز کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ نیز جناب زید بن عمرو قریش کے ذبیحہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے تھے: بکری کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اس نے اس کے لیے آسمان سے پانی اتارا، اور اپنی زمین میں اس کے لیے گھاس پیدا کی، پھر تم اسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو؟ آپ ان مشرکین کے کام پر اعتراض کرتے اور اسے بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3827
قَالَ قَالَ مُوسَى: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا تَحَدَّثَ بِهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ يَسْأَلُ عَنِ الدِّينِ وَيَتْبَعُهُ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنْ الْيَهُودِ فَسَأَلَهُ عَنْ دِينِهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي لَعَلِّي أَنْ أَدِينَ دِينَكُمْ فَأَخْبِرْنِي، فَقَالَ: لَا تَكُونُ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، قَالَ زَيْدٌ: مَا أَفِرُّ إِلَّا مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَلَا أَحْمِلُ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ شَيْئًا أَبَدًا وَأَنَّى أَسْتَطِيعُهُ , فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا، قَالَ: زَيْدٌ وَمَا الْحَنِيفُ، قَالَ: دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا، وَلَا يَعْبُدُ إِلَّا اللَّهَ , فَخَرَجَ زَيْدٌ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنْ النَّصَارَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَقَالَ: لَنْ تَكُونَ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ، قَالَ: مَا أَفِرُّ إِلَّا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا أَحْمِلُ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ، وَلَا مِنْ غَضَبِهِ شَيْئًا أَبَدًا وَأَنَّى أَسْتَطِيعُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا، قَالَ: وَمَا الْحَنِيفُ؟ قَالَ: دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا , وَلَا يَعْبُدُ إِلَّا اللَّهَ , فَلَمَّا رَأَى زَيْدٌ قَوْلَهُمْ فِي إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام خَرَجَ , فَلَمَّا بَرَزَ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ.
موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا کہ زید بن عمرو بن نفیل شام گئے دین (خالص) کی تلاش میں نکلے، وہاں وہ ایک یہودی عالم سے ملے تو انہوں نے ان کے دین کے بارے میں پوچھا اور کہا ممکن ہے کہ میں تمہارا دین اختیار کر لوں اس لیے تم مجھے اپنے دین کے متعلق بتاؤ یہودی عالم نے کہا کہ ہمارے دین میں تم اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک تم اللہ کے غضب کے ایک حصہ کے لیے تیار نہ ہو جاؤ، اس پر زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واہ میں اللہ کے غضب ہی سے بھاگ کر آیا ہوں، پھر اللہ کے غضب کو میں اپنے اوپر کبھی نہ لوں گا اور نہ مجھ کو اسے اٹھانے کی طاقت ہے! کیا تم مجھے کسی اور دوسرے دین کا کچھ پتہ بتا سکتے ہو؟ اس عالم نے کہا میں نہیں جانتا (کوئی دین سچا ہو تو دین حنیف ہو)۔ زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا دین حنیف کیا ہے؟ اس عالم نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کا دین جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور وہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ زید رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے آئے اور ایک نصرانی پادری سے ملے، ان سے بھی اپنا خیال بیان کیا اس نے بھی یہی کہا کہ تم ہمارے دین میں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت میں سے ایک حصہ لو گے۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کی لعنت سے ہی بچنے کے لیے تو یہ سب کچھ کر رہا ہوں اللہ کی لعنت اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں اور نہ میں اس کا یہ غضب کس طرح اٹھا سکتا ہوں! کیا تم میرے لیے اس کے سوا کوئی اور دین بتلا سکتے ہو؟ پادری نے کہا کہ میری نظر میں ہو تو صرف ایک دین حنیف سچا دین ہے زید نے پوچھا دین حنیف کیا ہے؟ کہا کہ وہ دین ابراہیم ہے جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور اللہ کے سوا وہ کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ زید نے جب دین ابراہیم کے بارے میں ان کی یہ رائے سنی تو وہاں سے روانہ ہو گئے اور اس سر زمین سے باہر نکل کر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا کی «اللهم إني أشهد أني على دين إبراهيم‏.‏» اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3827]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل شام کی طرف گئے اور وہ دینِ حق کی تلاش میں تھے کہ وہ اسے عمل میں لائیں۔ اس سلسلے میں وہ ایک یہودی عالم سے ملے اور اس سے دینِ یہود کے متعلق دریافت کیا اور کہا کہ شاید میں تمہارا دین اختیار کر لوں، لہذا مجھے اپنا دین بتاؤ۔ یہودی عالم نے کہا: تم ہمارے دین کو نہیں اختیار کر سکتے حتی کہ اللہ کے غضب کا کچھ حصہ لو۔ زید نے کہا: میں اللہ کے غضب ہی سے بھاگا ہوا ہوں اور میں کبھی بھی غضبِ الہی سے کچھ نہیں برداشت کر سکتا اور نہ مجھ میں اس کی طاقت ہی ہے۔ کیا مجھے کسی اور کا پتہ بتا سکتے ہو؟ اس نے کہا: میں دینِ حنیف کے علاوہ اور کوئی مذہب نہیں جانتا۔ زید نے کہا: دینِ حنیف کیا ہے؟ اس نے کہا: دینِ ابراہیم ہی حنیف ہے۔ وہ یہودی یا نصرانی نہیں تھے۔ وہ صرف اللہ ایک کی عبادت کرتے تھے۔ یہ سن کر زید وہاں سے روانہ ہوئے تو ایک نصرانی عالم سے ملاقات کی اور اس سے بھی اسی طرح ذکر کیا۔ نصرانی نے کہا: تم ہمارے دین پر نہیں رہ سکتے حتی کہ اللہ کی لعنت سے کچھ حصہ لو۔ زید نے کہا: میں اللہ کی لعنت سے دور بھاگا ہوں۔ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور نہ اس کے غضب ہی سے کچھ لے سکتا ہوں اور نہ مجھ میں اس کی طاقت ہی ہے۔ کیا مجھے کسی اور مذہب کی رہنمائی کر سکتے ہو؟ نصرانی نے کہا: میں دینِ حنیف کے علاوہ کوئی مذہب نہیں جانتا (جو تمہارے مناسب ہو)۔ زید نے پوچھا: دینِ حنیف کیا ہے؟ نصرانی نے کہا: وہ دینِ ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا نصرانی نہ تھے، وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ جب زید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ان کی گفتگو سنی تو وہاں سے روانہ ہوئے اور جنگل میں پہنچے، وہاں اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ» اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں دینِ ابراہیم پر ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3827]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3828
وَقَالَ اللَّيْثُ: كَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، يَقُولُ: يَا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي , وَكَانَ يُحْيِي الْمَوْءُودَةَ، يَقُولُ: لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَ ابْنَتَهُ لَا تَقْتُلْهَا أَنَا أَكْفِيكَهَا مَئُونَتَهَا فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا تَرَعْرَعَتْ، قَالَ: لِأَبِيهَا إِنْ شِئْتَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكَ وَإِنْ شِئْتَ كَفَيْتُكَ مَئُونَتَهَا".
اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھے ہشام نے لکھا، اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے ہو کر یہ کہتے سنا، اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم میرے سوا اور کوئی تمہارے یہاں دین ابراہیم پر نہیں ہے اور زید بیٹیوں کو زندہ نہیں گاڑتے تھے اور ایسے شخص سے جو اپنی بیٹی کو مار ڈالنا چاہتا کہتے اس کی جان نہ لے اس کے تمام اخراجات کا ذمہ میں لیتا ہوں، چنانچہ لڑکی کو اپنی پرورش میں رکھ لیتے جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے اب اگر تم چاہو تو میں تمہاری لڑکی کو تمہارے حوالے کر سکتا ہوں اور اگر تمہاری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3828]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو کعبہ مکرمہ سے اپنی پشت لگائے کھڑے دیکھا، وہ کہتے تھے: اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم! میرے علاوہ تم میں سے کوئی بھی دینِ ابراہیم پر نہیں ہے۔ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع کرتے تھے۔ جب کوئی شخص اپنی لڑکی کو قتل کرنا چاہتا تو اسے کہتے: اسے قتل نہ کر، میں اس کا کفیل ہوں اور اس کا تمام خرچہ برداشت کرتا ہوں اور اسے لے لیتے۔ پھر جب وہ جوان ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے: اگر تو چاہتا ہے تو میں اسے تیرے حوالے کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تو میں (اس کے نکاح پر اٹھنے والا) خرچہ برداشت کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ بُنْيَانُ الْكَعْبَةِ:
باب: قریش نے جو کعبہ کی مرمت کی تھی اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3829
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ يَقِيكَ مِنَ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" إِزَارِي إِزَارِي" , فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ.
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عباس رضی اللہ عنہ اس کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اپنا تہبند گردن پر رکھ لیں اس طرح پتھر کی (خراش لگنے سے) بچ جائیں گے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا کیا) تو آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی نظر آسمان پر گڑ گئی جب ہوش ہوا تو آپ نے چچا سے فرمایا کہ میرا تہبند لائیں پھر انہوں نے آپ کا تہبند خوب مضبوط باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3829]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں جو آپ کو پتھروں کی رگڑ سے محفوظ رکھے گا۔ چنانچہ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا) تو زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں۔ پھر جب ہوش آیا تو (اپنے چچا عباس سے) فرمایا: میرا تہبند دو، میرا تہبند دو چنانچہ انہوں نے وہ تہبند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3830
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , قَالَا:" لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْبَيْتِ حَائِطٌ , كَانُوا يُصَلُّونَ حَوْلَ الْبَيْتِ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَبَنَى حَوْلَهُ حَائِطًا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: جَدْرُهُ قَصِيرٌ فَبَنَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ".
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور عبیداللہ بن ابی زید نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیت اللہ کے گرد احاطہٰ کی دیوار نہ تھی لوگ کعبہ کے گرد نماز پڑھتے تھے پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے اس کے گرد دیوار بنوائی۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ یہ دیواریں بھی پست تھیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کو بلند کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3830]
حضرت عمرو بن دینار اور عبیداللہ بن ابوزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بیت اللہ کے اردگرد کوئی دیوار نہیں تھی۔ لوگ بیت اللہ کے اردگرد نماز پڑھتے تھے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے اس کے اردگرد دیوار تعمیر کرادی۔ عبیداللہ (راوی) نے کہا کہ اس کی چار دیواری چھوٹی تھی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے بنا کر اونچا کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ أَيَّامِ الْجَاهِلِيَّةِ:
باب: جاہلیت کے زمانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ هِشَامٌ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ , فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ , فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَا يَصُومُهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشورا کا روزہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے باقی رکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا روزہ ۲ ھ میں فرض ہوا تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کا جی چاہے عاشورا کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3831]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «عَاشُورَاء» کے روز زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو بھی «عَاشُورَاء» کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو جو چاہتا «عَاشُورَاء» کا روزہ رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں