🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ذكر جرير بن عبد الله البجلي رضي الله عنه:
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3822
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ".
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا کہا، ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے بیان نے کہ میں نے قیس سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (گھر کے اندر آنے سے) نہیں روکا (جب بھی میں نے اجازت چاہی) اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکراتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3822]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3822]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جرير بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله، أبو عمروصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥بيان بن بشر الأحمسي، أبو بشر
Newبيان بن بشر الأحمسي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← بيان بن بشر الأحمسي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن شاهين الواسطي، أبو بشر
Newإسحاق بن شاهين الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3822
ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك
صحيح مسلم
6363
احجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك
صحيح مسلم
6364
ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم في وجهي
جامع الترمذي
3821
ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم
جامع الترمذي
3820
ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا ضحك
المعجم الصغير للطبراني
853
ما حجبني رسول الله منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3822 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3822
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود ہوتے اور میں اندر آنے کی اجازت لیتا تو آپ نے مجھے کبھی نہیں روکا، یہ معنی نہیں کہ آپ بلااجازت گھر کے اندر چلے جاتے تھے، نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انھیں دیکھتے تو مسکرادیتے۔
ایک روایت میں ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں یمن سے مدینہ طیبہ آیاتو قریب پہنچ کر میں نے اپنا لباس تبدیل کیا تو لوگ مجھے تعجب سے دیکھنے لگے۔
میں نے ان سے پوچھا:
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میراذکر خیر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا:
ہاں، آپ نے فرمایا ہے:
ابھی ابھی تمہارے پاس یمن سے ایک بہترین آدمی آرہا ہے، جس کے چہرے کو فرشتے نے مس کیا ہے، یعنی وہ انتہائی خوبصورت ہے۔
(مسند أحمد: 359/4۔
360)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3822]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3820
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3820]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی،
منع نہیں کیا،
اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں،
اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے،
ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دیدینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3820]

Sahih Bukhari Hadith 3822 in Urdu