صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ الْبِنَاءِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا۔
حدیث نمبر: 5159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (راستہ میں) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں (کہا کہ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے (کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5159]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی۔ میں نے مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے میں بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، گھی اور پنیر رکھ دیا گیا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کہا: ”یہ امہات المومنین میں سے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے؟“ چنانچہ انہوں نے (فیصلہ کرتے ہوئے) کہا: ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پردے میں رکھا تو امہات المومنین میں سے ہیں اور اگر پردے میں نہ رکھا تو وہ آپ کی باندی ہیں۔“ جب سفر کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری کے پیچھے جگہ بنائی اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
62. بَابُ الْبِنَاءِ بِالنَّهَارِ بِغَيْرِ مَرْكَبٍ وَلاَ نِيرَانٍ:
باب: دولہا کا دلہن کے پاس یا دلہن کا دولہا کے پاس دن کو آنا سواری یا روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5160
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْنِي أُمِّي، فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى".
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5160]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میری والدہ میرے پاس آئیں اور (تنہا) مجھے ایک گھر میں پہنچا دیا۔ وہاں مجھے کسی بات سے گھبراہٹ نہ ہوئی، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک میرے پاس چاشت کے وقت آئے (اور مجھ سے خلوت فرمائی)۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
63. بَابُ الأَنْمَاطِ وَنَحْوِهَا لِلنِّسَاءِ:
باب: عورتوں کے لیے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھانا جائز ہے (یا باریک پردہ لٹکانا)۔
حدیث نمبر: 5161
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (جب انہوں نے شادی کی) فرمایا تم نے جھالر دار چادریں بھی لی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس جھالر دار چادریں کہاں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلد ہی میسر ہو جائیں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5161]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نمدے بنا لیے ہیں؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے لیے نمدے کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے لیے نمدے ہوں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
64. بَابُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي يَهْدِينَ الْمَرْأَةَ إِلَى زَوْجِهَا:
باب: وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں۔
حدیث نمبر: 5162
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ".
ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہارے پاس لہو (دف بجانے والا) نہیں تھا، انصار کو دف پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5162]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک دلہن کو انصاری دلہا کے پاس لے گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تمہارے پاس کوئی دل لگی کا سامان نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو ایسے موقع پر دل لگی پسند ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
65. بَابُ الْهَدِيَّةِ لِلْعَرُوسِ:
باب: دلہن کو تحائف بھیجنا۔
حدیث نمبر: 5163
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ واسْمُهُ الْجَعْدُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ: لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً؟ فَقُلْتُ لَهَا: افْعَلِي، فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: ضَعْهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي رِجَالًا سَمَّاهُمْ، وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ، قَالَ: فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي، فَرَجَعْتُ، فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُولُ لَهُمْ: اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ، قَالَ: حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْحُجُرَاتِ وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا، فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53"، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: قَالَ أَنَسٌ: إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں (جو بصرہ میں ہے) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے (وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں)۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم (میری ماں) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا (برکت کی دعا فرمائی)۔ پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ (رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا (اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور (زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ”مسلمانو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جاؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی (کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔“ ابوعثمان (جعدی بن دینار) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5163]
حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا ہمارے سامنے سے بنو رفاعہ کی مسجد سے گزر ہوا، میں نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، آپ جب بھی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے اور انہیں سلام کرتے۔ اس کے بعد حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے دولہا بنے تو مجھے (میری والدہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تحفہ بھیجیں تو بہتر ہے۔“ میں نے کہا: ”ٹھیک ہے ضرور بھیجیں۔“ چنانچہ انہوں نے کھجور، گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور مجھے دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا۔ جب وہاں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکھ دو۔“ پھر حکم دیا: ”فلاں فلاں لوگوں کو میرے پاس لاؤ...“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام لیا، ”...اور جو بھی آدمی تجھے راستے میں ملے اسے میری طرف سے دعوت دے دو۔“ چنانچہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا تھا میں نے اس کی تعمیل کی۔ جب میں واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں سے گھر بھرا ہوا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھ دیے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ اپنی زبان سے پڑھا، اس کے بعد دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے: ”اللہ کا نام لے کر ہر آدمی اپنے آگے سے کھائے۔“ بہرحال سب لوگ کھا کر گھر سے باہر چلے گئے، البتہ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھے ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا، آخرکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں کی طرف گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گیا، میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: ”لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آکر گھر میں داخل ہوئے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں ابھی حجرے ہی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سورہ احزاب) کی یہ آیات پڑھ رہے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے اندر آنے کی اجازت دی جائے، وہاں بیٹھ کر کھانا پکنے کا انتظار نہ کرو، البتہ جب تمہیں بلایا جائے تو اندر جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی واپس چلے آؤ، باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہو، یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔“ ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”بے شک میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت انجام دی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
66. بَابُ اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا:
باب: دلہن کے پہننے کے لیے کپڑے اور زیور وغیرہ عاریتاً لینا۔
حدیث نمبر: 5164
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةٌ".
مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے (اپنی بہن) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ لے لیا تھا، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا (اور پانی نہیں تھا) اس لیے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے۔ واللہ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآں یہ کہ مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5164]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار مستعار لیا اور وہ کہیں گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ کرام کو اسے تلاش کرنے کے لیے روانہ کیا۔ راستے میں نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے وضو کے بغیر نماز ادا کی۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ اس وقت تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے! اللہ کی قسم! جب آپ پر کوئی مشکل وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دیا اور مسلمانوں کے لیے وہ خیر و برکت کا ذریعہ ثابت ہوئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
67. بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ:
باب: جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 5165
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأْتِي أَهْلَهُ: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا".
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو (اولاد) ہمیں تو عطا کرے۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5165]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی انسان اپنی بیوی سے ہم بستری کرے تو یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس سے دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے،“ پھر اگر اس موقع پر ان کے لیے بچہ مقدر ہو یا اس کا فیصلہ ہو جائے تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
68. بَابُ الْوَلِيمَةُ حَقٌّ:
باب: ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے۔
حدیث نمبر: Q5166
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ولیمہ کی دعوت کر خواہ ایک بکری ہی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5166]
حدیث نمبر: 5166
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْتُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے، آپ ان کے دولہا بنے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں (کھانے کے بعد بھی) دیر تک وہیں بیٹھے (باتیں کرتے رہے) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5166]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو میری عمر دس برس تھی، میری مائیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا ہمیشہ حکم دیتی تھیں۔ میں نے دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس وقت میری عمر بیس برس تھی۔ جب پردے کے احکام نازل ہوئے تو میں انہیں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں کہ کب نازل ہوئے۔ سب سے پہلے پردے کا حکم اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو نکاح کے بعد اپنے گھر لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دولہا بنے تھے۔ آپ نے لوگوں کی دعوت کی انہیں بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے لیکن کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دیر تک بیٹھے رہے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ کے ہمراہ باہر چلا گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس آئے تو آپ کو خیال آیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، اس لیے آپ واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا۔ جب آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہاں سے نہیں اٹھے لہذا آپ وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا وہ لوگ جا چکے ہیں، چنانچہ آپ واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا۔ اب وہ لوگ (واقعی) جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیات نازل ہوئیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
69. بَابُ الْوَلِيمَةِ وَلَوْ بِشَاةٍ:
باب: ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 5167
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ". وَعَنْ حُمَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ نَزَلَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ: أُقَاسِمُكَ مَالِي وَأَنْزِلُ لَكَ عَنْ إِحْدَى امْرَأَتَيَّ، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، فَخَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَ وَاشْتَرَى فَأَصَابَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَتَزَوَّجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5167]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا، جب انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی: ”تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”گٹھلی کی مقدار سونا (بطور مہر دیا ہے)۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب لوگ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو مہاجرین نے انصار کے ہاں قیام کیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے گھر رہائش اختیار کی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ”میں آپ کو آدھا مال دیتا ہوں اور آپ کے لیے اپنی ایک بیوی سے دستبردار ہو جاتا ہوں۔“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان کو برکت کی دعا دی، پھر وہ بازار گئے اور خرید و فروخت کرنے لگے، انہوں نے وہاں سے پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد انہوں نے شادی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”دعوتِ ولیمہ کا اہتمام کرو، خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔“” [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة