صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ الْوَصَاةِ بِالنِّسَاءِ:
باب: عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5185
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ.
ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ نے ان سے ابوالحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور میں تمہیں۔ (بقیہ اگلی حدیث دیکھیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5185]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5185]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5186
وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا".
عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5186]
”اور عورتوں کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو کیونکہ وہ پسلی سے پیدا شدہ ہیں اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر والا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرو گے تو توڑ دو گے اور وہ مسلسل ٹیڑھی ہوتی چلی جائے گی، اس لیے عورتوں کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5187
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْبَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا وَانْبَسَطْنَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ گفتگو اور بہت زیادہ بےتکلفی سے اس ڈر کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ کہیں کوئی بےاعتدالی ہو جائے اور ہماری برائی میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم نے ان سے خوب کھل کے گفتگو کی اور خوب بےتکلفی کرنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5187]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیویوں سے کھل کر باتیں کرنے اور زیادہ بے تکلفی سے اس اندیشے کی بنا پر پرہیز کرتے تھے کہ مبادا ہمارے متعلق کوئی حکم نازل ہو جائے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو پھر ہم نے ان سے خوب کھل کر گفتگو کی اور بے تکلفی سے خوش طبعی کرنے لگے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5187]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
82. بَابُ: {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا}:
باب: اللہ کا سورۃ التحریم میں یہ فرمانا ”لوگو! خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو دوزخ سے بچاؤ“۔
حدیث نمبر: 5188
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے (اس کی رعیت کے بارے میں) سوال ہو گا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5188]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔ حاکم وقت نگہبان ہے، اسے بھی پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے اہل خانہ کا نگران ہے، اس سے سوال و جواب ہوگا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے بھی پوچھا جائے گا۔ اور غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے، اسے پوچھا جائے گا۔ الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
83. بَابُ حُسْنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ الأَهْلِ:
باب: اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا۔
حدیث نمبر: 5189
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا، قَالَتِ الْأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٍ فَيُرْتَقَى وَلَا سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ وَلَا قُرٌّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، قَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، قَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا، وَقَالَ: كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ، قَالَتْ: فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ: عَنْ هِشَامٍ، وَلَا تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَأَتَقَمَّحُ بِالْمِيمِ وَهَذَا أَصَحُّ.
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن اور علی بن حجر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، اس نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت (نام نامعلوم) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت (عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں (اس میں اتنے عیب ہیں) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت (حیی بنت کعب یمانی) کہنے لگی، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ (لمبا تڑنگا) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت (مہدو بنت ابی ہرومہ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچوں عورت (کبشہ نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر (بہادر) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں (کہ وہ کہاں گئی؟) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت (ہند نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑ کر سو جاتا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے۔ ساتویں عورت (حیی بنت علقمہ) میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں (کم بخت سے بات کروں تو) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت (یاسر بنت اوس) کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے۔ نویں عورت (نام نامعلوم) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں۔ (غریبوں کو خوب کھلاتا ہے) لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں (یعنی پنچائت گھر) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت (کبشہ بنت رافع) کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارھویں عورت (ام زرع بنت اکیمل بنت ساعدہ) کہنے لگی میرا خاوند ابوزرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابوزرعہ نے مجھ کو گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں (میری ساس) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں۔ اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت (نازک بدن دبلا پتلا) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابوزرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری (تابع فرمان اطاعت گزار) کپڑا بھر پور پہننے والی (موٹی تازی) سوکن کی جلن۔ ابوزرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی (گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے۔ (صبح ہی صبح) ابوزرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے (مراد اس کی دونوں چھاتیاں ہیں جو انار کی طرح تھیں)۔ ابوزرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابوزرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5189]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا، انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ اپنے شوہروں کے متعلق کوئی چیز مخفی نہ رکھیں گی، چنانچہ پہلی نے کہا: میرا شوہر ایک دبلے اونٹ کا گوشت ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو، نہ تو وہاں جانے کا راستہ ہموار ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اسے لایا جائے اور نہ وہ گوشت ایسا عمدہ ہے کہ اسے ضرور لایا جائے۔ دوسری نے کہا: میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک کروں! میں ڈرتی ہوں کہ سب کچھ بیان نہ کر سکوں گی، اس کے باوجود اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری نے کہا: میرا شوہر دراز قد کمزور ہے، اگر عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اور اگر خاموش رہوں تو معلق رہوں گی۔ چوتھی نے کہا: میرا خاوند شبِ تہامہ کی طرح معتدل ہے، نہ گرم اور نہ ٹھنڈا۔ اس سے مجھے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ اکتاہٹ کا اندیشہ۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر اگر گھر میں آئے تو چیتے کی طرح ہے اور اگر باہر جائے تو مثلِ شیر ہے، گھر میں جو چیز چھوڑ جاتا ہے اس کے متعلق باز پرس نہیں کرتا۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر اگر کھانا شروع کرے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے لگتا ہے تو ایک بوند بھی نہیں چھوڑتا، اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے، میرے کپڑے میں بھی ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ درد معلوم کرے۔ ساتویں نے کہا: میرا خاوند جاہل یا مست ہے، صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے لگا کر اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا کی ہر بیماری اس میں موجود ہے۔ اگر تو بات کرے تو سر پھوڑ دے یا جسم زخمی کر دے یا دونوں ہی کر گزرے۔ آٹھویں نے کہا: میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے۔ اس کی خوشبو زعفران کی خوشبو ہے۔ نویں نے کہا: میرا خاوند اونچے گھر والا، اس کا شمشیر بند بڑا دراز، بہت راکھ والا اور اس کا گھر محفل خانے کے قریب ہے۔ دسویں نے کہا: میرا خاوند مالک ہے اور مالک کے کیا ہی کہنے! اس سے بہتر کوئی نہیں دیکھا گیا۔ اس کے اونٹ باڑوں میں رہنے والے زیادہ ہیں اور چراگاہوں میں جانے والے بہت کم ہیں۔ جب وہ باجے کی آواز سنتے ہیں تو انہیں اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔ گیارھویں نے کہا: میرا شوہر ابو زرع ہے۔ ابو زرع کے کیا کہنے! اس نے زیورات سے میرے کان بھر دیے، مجھے کھلا کھلا کر میرے دونوں بازو چربی سے بھر دیے، مجھے اس نے ایسا خوش و خرم رکھا کہ میں خود پسندی اور عجب میں مبتلا ہوں۔ مجھے اس نے ایک ایسے (غریب) گھرانے میں پایا تھا جو بڑی تنگی کے ساتھ چند بکریوں پر گزارا کرتے تھے، وہاں سے مجھے ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا کہ مجھے گھوڑوں، اونٹوں اور کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا۔ وہ خوش اخلاق اس قدر ہے کہ میری کسی بات پر مجھے برا بھلا نہیں کہتا۔ اس کے ہاں میں جب سوتی ہوں تو صبح کر دیتی ہوں، جب میں پیتی ہوں تو خوب اطمینان سے سیراب ہو کر پیتی ہوں۔ ابو زرع کی ماں! تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں، اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھرپور رہتے ہیں، اس کا گھر بھی بہت وسیع ہے۔ ابو زرع کا بیٹا، وہ کیسی شان والا ہے! وہ چھریرے بدن والا، ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ہے، چھوٹی بکری کے ایک بچے کی دستی سے اس کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے۔ ابو زرع کی بیٹی، اس کے کیا کہنے! وہ اپنے باپ کی فرمانبردار، ماں کی اطاعت گزار، موٹی تازی بھرپور کپڑے زیب تن کرنے والی کہ سوکن کے لیے جلن کا باعث ہے۔ ابو زرع کی لونڈی! وہ بھی بہت شان و شوکت والی ہے، گھر کی بات باہر جا کر نہیں کرتی، کھانے تک کی چیز بلا اجازت نہیں لیتی اور ہمارا گھر خس و خاشاک سے نہیں بھرتی۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ابو زرع باہر گیا جبکہ دودھ سے برتن بھرے ہوئے تھے اور ان سے مکھن نکالا جا رہا تھا، اس دوران میں اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح تھے اور اس کی کمر کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے۔ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے کر اس سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک دوسرے شریف مالدار سے نکاح کیا جو عربی گھوڑے پر سواری کرتا اور ہاتھ میں نیزہ پکڑتا تھا۔ اس نے مجھے بہت سی نعمتیں اور ہر قسم کے جانور دیے، نیز مال و اسباب میں سے ہر قسم کا جوڑا جوڑا عطا کیا۔ اس نے یہ بھی کہا: اے ام زرع! تم خود بھی کھاؤ پیو اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی خوب کھلاؤ پلاؤ۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی تمام عطاؤں کو جمع کروں تو ابو زرع کا چھوٹے سے چھوٹا برتن بھی نہ بھر سکے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! میں بھی تیرے لیے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ام زرع کے لیے ابو زرع تھا۔“ (ایک روایت کے مطابق راویِ حدیث) حضرت ہشام رحمہ اللہ نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”وہ لونڈی ہمارے گھر میں کوڑا کچرا جمع کر کے اسے میلا کچیلا نہیں کرتی۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: کچھ راویوں نے «فَتَنْفَحُ» کو نون کے بجائے میم کے ساتھ یعنی «فَانْقَمَحَ» پڑھا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے جسم مبارک سے) میرے لیے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5190]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حبشی لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھپا لیا اور میں ان کے کرتب دیکھ رہی تھی۔ میں مسلسل محظوظ ہوتی رہی حتیٰ کہ خود ہی تھک کر لوٹ آئی۔ تم ایک نو خیز لڑکی کی رغبت کا اندازہ کرو جو دیر تک ان کا کھیل دیکھتی رہی اور ان کے نغمے سنتی رہی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
84. بَابُ مَوْعِظَةِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا:
باب: آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5191
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 حَتَّى حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4؟ قَالَ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، هُمَا عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ غَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَصَخِبْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، قَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهَا: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَنَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا أَيْ حَفْصَةُ: أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِي، لَا تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْءٍ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْنَا عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ؟ أَجَاءَ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ: سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، فَقَالَ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ، فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ، فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ، فَاعْتَزَلَ فِيهَا وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ أَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ هَذَا؟ أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِي، هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ، فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: كَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا، قَالَ: إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، فَقَالَ: قَدْ أَذِنَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَرَفَعَ إِلَيَّ بَصَرَهُ، فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمَةً أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّأُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرونَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةَ التَّخَيُّرِ، فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، فَاخْتَرْتُهُ ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ كُلَّهُنَّ، فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی۔ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» الخ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالی مدینہ میں رہتے تھے۔ ہم نے (عوالی سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسے کرتے۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ تشریف لائے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں اور بعض تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا کہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً وہ نامراد ہو گئی۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے لیے) روانہ ہوا پھر میں حفصہ کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی (ایسا ہو جاتا ہے) میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی۔ کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی۔ خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیا کرو نہ کسی معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کرو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا کرو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ ملک غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے۔ وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ گھر میں ہیں۔ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی، کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی۔ مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہو گا پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے (اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا) میں نے فجر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا اب روتی کیا ہو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ اس کے گرد کچھ صحابہ کرام موجود تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا۔ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو۔ غلام اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو۔ اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے۔ اس پر کوئی بستر نہیں تھا۔ بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے۔ جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں۔ میں (خوشی کی وجہ سے) کہہ اٹھا۔ اللہ اکبر۔ پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز ہے، دھوکا میں مت رہنا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا پھر نظر اٹھا کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی۔ سوا تین چمڑوں کے (جو وہاں موجود تھے) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے۔ فارس و روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئیے (کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز عائشہ سے کہہ دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بہت رنج ہوا (اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا) پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «تخير» نازل کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے (اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا) تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پسند کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5191]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق سوال کروں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں (بیویاں) اللہ کے حضور توبہ کرتی ہو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل راہ راست سے ہٹ گئے ہیں۔“ حتیٰ کہ آپ نے حج کیا اور میں بھی آپ کے ہمراہ حج کے لیے گیا۔ چنانچہ جب وہ ایک دفعہ راستے سے ایک طرف ہوئے تو میں بھی پانی کا ایک برتن لے کر ان کے ہمراہ راستے سے الگ ہو گیا۔ پھر جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان سے عرض کی: ”اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل راہ راست سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔“؟“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے، وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔“ پھر آپ نے تفصیل سے یہ واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے فرمایا: ”میں اور میرے انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے، ہم باری باری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے تھے؛ ایک دن وہ جاتا اور دوسرے دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ جب میں آتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اسے بتاتا اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر رعب و دبدبہ رکھتے تھے لیکن جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو دیکھا کہ انصار کی عورتیں ان پر غالب رہتی ہیں، چنانچہ ہماری عورتیں انصاری عورتوں کے آداب سیکھنے لگیں۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے مجھے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے جواب دینے پر جب ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا: ”میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگا ہے؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں حتیٰ کہ بعض تو آپ سے دن سے رات تک الگ رہتی ہیں۔“ میں یہ بات سن کر کانپ اٹھا اور کہا: ”ان میں سے جس نے بھی یہ رویہ اختیار کیا ہے وہ یقیناً بڑے خسارے میں ہے۔“ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ پھر میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گیا اور ان سے کہا: ”اے حفصہ! کیا تم میں سے کچھ بیویاں دن سے رات تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض رکھتی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ میں نے کہا: ”پھر تم نے خود کو خسارے میں ڈال لیا ہے اور سراسر نقصان میں رکھا ہے۔ کیا تمہیں اس امر کا اندیشہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالٰی ناراض ہو جائے گا، پھر تم تباہ ہو جاؤ گی۔ خبردار! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مطالبات نہ کیا کرو اور نہ کسی معاملے میں آپ کو جواب ہی دیا کرو اور نہ آپ سے علیحدہ ہی رہو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، اس کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔“ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ”ہمیں معلوم ہوا تھا کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کی نعل بندی کر رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک دن میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن دربارِ رسالت گیا ہوا تھا، وہ رات گئے واپس آیا تو اس نے میرا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور کہا: ”کیا عمر گھر میں موجود ہیں؟“ میں گھبراہٹ کے عالم میں باہر نکلا تو اس نے کہا: ”آج تو بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہے۔“ میں نے کہا: ”کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟“ اس نے کہا: ”نہیں بلکہ معاملہ اس سے بھی زیادہ ہولناک اور خطرناک ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔“ میں نے (اپنے دل میں) کہا: ”حفصہ تو نقصان میں پڑ گئی اور نامراد ہو گئی، میں تو پہلے ہی خیال کیا کرتا تھا کہ عنقریب ایسا ہو جائے گا۔“ پھر میں نے اپنے کپڑے پہن لیے اور نمازِ فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر تنہائی اختیار کر لی۔ میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہے، میں نے کہا: ”اب روتی کیا ہو؟ میں نے تمہیں پہلے متنبہ نہیں کیا تھا؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے معلوم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت بالا خانہ میں تشریف رکھے ہوئے ہیں۔“ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا، وہاں منبر کے ارد گرد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں تھوڑی دیر تک ان کے ہمراہ بیٹھا رہا، پھر جب پریشانی کا مجھ پر غلبہ ہوا تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا: ”عمر کے لیے اندر جانے کی اجازت لو۔“ غلام اندر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی اور تمہارا ذکر بھی کیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں پھر واپس ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا جو منبر کے ارد گرد تھے۔ پھر جب پریشانی نے زور مارا تو دوبارہ آ کر غلام سے کہا: ”عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت لو۔“ اس غلام نے واپس آ کر دوبارہ کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرا غم پھر غالب آیا تو میں نے پھر غلام کے پاس آ کر اس سے کہا: ”عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔“ غلام اندر گیا اور واپس آ کر اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسیوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسم مبارک اور چٹائی کے درمیان کوئی بچھونا نہ تھا، بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے تھے اور جس تکیے پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور کھڑے کھڑے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ایک نظر اٹھا کر فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے (خوشی کی وجہ سے) نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ کو خوش کرنے کے لیے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم قریش کے لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے تھے، پھر جب ہم مدینہ طیبہ آئے۔“ (یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے)۔ پھر میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میں ایک دفعہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تھا اور اس سے کہا تھا: اپنی اس سوکن کی وجہ سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کیونکہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت اور آپ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری ہے۔“ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ میری یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیے۔ میں نے جب آپ کا تبسم دیکھا تو بیٹھ گیا، پھر میں نے نظر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا، اللہ کی قسم! میں نے وہاں تین کچی کھالوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہ دیکھی۔ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کریں اللہ آپ کی امت پر وسعت کرے، فارس اور روم کے لوگوں کو وسعت اور فراخی دی گئی ہے اور انہیں دنیا کا وافر حصہ دیا گیا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو بھلائی ملنے والی تھی وہ سب اس دنیا میں دے دی گئی ہے۔“ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں۔“ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس دن تک علیحدگی اختیار کیے رکھی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز افشا کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میں مہینہ بھر اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔“ کیونکہ جب اللہ تعالٰی نے آپ پر عتاب فرمایا تو آپ کو اس کا بہت رنج ہوا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور بیویوں کے گھروں میں جانے کی ابتدا ان سے کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ ہمارے گھروں میں مہینہ بھر تشریف نہیں لائیں گے، آج آپ نے انتیسویں رات کی صبح کی ہے، میں نے تو گن گن کر یہ دن گزارے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ انتیس کا ہے۔“ واقعی وہ مہینہ انتیس دن ہی کا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پھر اللہ تعالٰی نے آیاتِ تخییر نازل فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ ہی کا انتخاب کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا تو سب نے وہی کچھ کیا جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
85. بَابُ صَوْمِ الْمَرْأَةِ بِإِذْنِ زَوْجِهَا تَطَوُّعًا:
باب: شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شوہر گھر پر موجود ہے تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5192]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر شوہر گھر میں موجود ہو تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
86. بَابُ إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا:
باب: جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے، اس کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5193]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5193]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے زرارہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے اس کے بستر سے الگ تھلگ رات گزارے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آ جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5194]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے تو اس کے واپس آنے تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5194]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة