🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ:
باب: کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیغام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5143
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5143]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود کو بد گمانی سے دور رکھو کیونکہ بد گمانی جھوٹی بات ہے۔ جاسوسی نہ کرو اور نہ کسی کی ٹوہ ہی میں لگے رہو۔ ایک دوسرے سے بغض بھی نہ رکھو بھائی بھائی بن کر رہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5144
وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ".
‏‏‏‏ اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5144]
(نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا منگنی ترک کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ تَفْسِيرِ تَرْكِ الْخِطْبَةِ:
باب: پیغام چھوڑ دینے کی وجہ بیان کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5145
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ،" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ، قَالَ عُمَرُ: لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا". تَابَعَهُ يُونُسُ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زھری نے، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5145]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں۔ میں کئی راتیں آپ کی طرف سے جواب کے انتظار میں رہا، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے: بلاشبہ تمہاری پیش کش کے جواب میں کوئی چیز حائل نہ تھی سوائے اس کے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق علم تھا کہ آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرما رہے تھے، اور میں آپ کے راز کو افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں آپ کی پیش کش قبول کر لیتا۔“ یونس، موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق نے زہری سے روایت کرنے میں شعیب کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ الْخُطْبَةِ:
باب: (عقد سے پہلے) نکاح کا خطبہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5146
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا، نہایت فصیح و بلیغ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5146]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”دو آدمی مشرق کی جانب سے آئے اور ان دونوں نے (مؤثر) خطبہ پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض بیان جادو اثر ہوتے ہیں۔“” [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ ضَرْبِ الدُّفِّ فِي النِّكَاحِ وَالْوَلِيمَةِ:
باب: نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5147
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، قَالَ: قَالَتْ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ:" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: دَعِي هَذِهِ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، کہ ربیع بنت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ اتنے میں، ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتے ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5147]
حضرت خالد بن ذکوان سے روایت ہے، وہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”جب میری رخصتی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے جیسے تو میرے پاس بیٹھا ہے۔ اس دوران میں ہماری چھوٹی چھوٹی بچیوں نے دف بجانا شروع کر دیا اور میرے آباء و اجداد جو غزوہ بدر میں شہید ہو چکے تھے ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ ان میں سے ایک بچی نے اچانک کہہ دیا: ”ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتا ہے جو آئندہ کل آنے والی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہنا چھوڑ دو اور وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5147]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5148
وَكَثْرَةِ الْمَهْرِ، وَأَدْنَى مَا يَجُوزُ مِنَ الصَّدَاقِ، وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا} وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ} وَقَالَ سَهْلٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» .
‏‏‏‏ ”اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے ادا کر دو اور مہر زیادہ رکھنا اور کم سے کم کتنا مہر جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ نساء میں) اور اگر تم نے ان عورتوں میں سے کسی کو مہر میں ڈھیر کا ڈھیر دیا ہو، جب بھی اس سے واپس نہ لو اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ البقرہ میں) یا تم نے ان کے لیے کچھ مہر کے طور پر مقرر کیا ہو۔“ اور سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ تو ڈھونڈھ کر لا اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5148]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5148
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ". وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے کے مہر پر) نکاح کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5148]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا، انہوں نے کہا: ”میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر (سونے کے عوض) نکاح کیا ہے۔“ حضرت قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ان الفاظ سے نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5148]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ التَّزْوِيجِ عَلَى الْقُرْآنِ وَبِغَيْرِ صَدَاقٍ:
باب: قرآن کی تعلیم مہر ہو سکتی ہے اس طرح اگر مہر کا ذکر ہی نہ کرے تب بھی نکاح صحیح ہو جائے گا (اور مہر مثل لازم ہو گا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5149
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ:" إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ؟ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ؟ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْكِحْنِيهَا، قَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ فَطَلَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا میں نے ابوحازم سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں آپ اب جو چاہیں کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے آپ جو چاہیں کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا، آپ جو چاہیں کریں۔ اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ۔ وہ گئے اور تلاش کیا، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ قرآن ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ میرے پاس فلاں فلاں سورتیں ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5149]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں صحابہ کی جماعت کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنے میں ایک خاتون کھڑی ہوئی اور اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں خود کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ آپ اس بارے میں اپنی رائے قائم کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور کہا: ”اللہ کے رسول! خود کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ جو چاہیں کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہ دیا۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئی اور عرض کی: ”اس نے اپنا آپ آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ اپنی رائے دیکھیں۔“ تب ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! اس کا نکاح مجھ سے کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۔“ چنانچہ وہ گیا پھر واپس آ کر عرض کرنے لگا کہ میں نے وہاں کچھ نہیں پایا، لوہے کی انگوٹھی نہیں ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس کچھ قرآن ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارا نکاح اس سے کر دیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ الْمَهْرِ بِالْعُرُوضِ وَخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ:
باب: کوئی جنس یا لوہے کی انگوٹھی مہر ہو سکتی ہے گو نقد روپیہ نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5150
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ:" تَزَوَّجْ وَلَوْ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے ان سے ابوحازم نے اور ان سے صحابی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ نکاح کر، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی پر ہی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5150]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”تم نکاح کرو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی کے عوض ہی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5150]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ:
باب: نکاح میں جو شرطیں کی جائیں (ان کا پورا کرنا ضروری ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5151
وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ فَأَحْسَنَ". قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي.
‏‏‏‏ اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حق کا پورا کرنا اسی وقت ہو گا جب شرط پوری کی جائے اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک داماد (ابوالعاص) کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف کی کہ دامادی کا حق انہوں نے ادا کیا جو بات کہی وہ سچ کہی اور جو وعدہ کیا وہ پورا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5151]