🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. بَابُ تَزْوِيجِ الأَبِ ابْنَتَهُ مِنَ الإِمَامِ:
باب: باپ کا اپنی بیٹی کا نکاح مسلمانوں کے امام یا بادشاہ سے کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5134
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ"، قَالَ هِشَامٌ: وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5134]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو عمر نو سال کی تھی۔ حضرت ہشام رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے بتایا گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نو برس تک رہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ السُّلْطَانُ وَلِيٌّ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» :
باب: سلطان بھی ولی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے اس عورت کا نکاح تجھ سے کر دیا اس قرآن کے بدلے جو تجھ کو یاد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5135
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَهَبْتُ مِنْ نَفْسِي فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا؟ قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي، فَقَالَ: إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا؟ فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ: الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَلَمْ يَجِدْ، فَقَالَ: أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ: قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم مسلم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس پہننے کے لیے تہمد بھی نہیں رہے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کر لو۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی! اسے وہ بھی نہیں ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فلاں فلاں سورتیں ہیں، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5135]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی: ”میں خود کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں“، پھر وہ دیر تک وہاں کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک شخص نے کہا: ”اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تیرے پاس اسے مہر دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پاس اس تہبند کے علاوہ اور کچھ نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تمہارے پہننے کے لیے کوئی تہبند نہیں ہوگا، کوئی اور چیز تلاش کر لو۔“ اس نے عرض کی: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ تو تلاش کرو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۔“ تاہم اسے وہ بھی مل نہ سکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں، فلاں فلاں سورت یاد ہے“، اس نے چند سورتوں کا نام لیا۔ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا اس قرآن کے بدلے جو تجھے یاد ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5135]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ لاَ يُنْكِحُ الأَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَالثَّيِّبَ إِلاَّ بِرِضَاهَا:
باب: باپ یا کوئی دوسرا ولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5136
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5136]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے۔“ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کنواری کی اجازت کس طرح ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پیغام نکاح سن کر) اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5137
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، قَالَ: رِضَاهَا صَمْتُهَا".
ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی (کہتے ہوئے) شرماتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہو جانا ہی اس کی رضا مندی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5137]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس لیے بول نہیں سکتی)“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهْيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ:
باب: اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح (وہ کنواری ہو یا بیوہ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5138
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ،" أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهْيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ نِكَاحَهُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبدالرحمٰن اور مجمع نے جو دونوں یزید بن حارثہ کے بیٹے ہیں، ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا نے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا تھا، وہ ثیبہ تھیں، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5138]
حضرت خنساء بنت خدام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا جبکہ وہ «ثَيِّبَة» (شوہر دیدہ) تھیں، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح فسخ کر ڈالا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5138]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5139
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ،أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَاهُ،" أَنَّ رَجُلًا يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ"، نَحْوَهُ.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید نے بیان کیا کہ خذام نامی ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا تھا۔ پھر پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5139]
حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ اور مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”خذام نامی ایک آدمی نے اپنی ایک لڑکی کا نکاح کرایا تھا،“ پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5139]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ:
باب: یتیم لڑکی کا نکاح کر دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5140
لِقَوْلِهِ: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا}، إِذَا قَالَ لِلْوَلِيِّ زَوِّجْنِي فُلاَنَةَ. فَمَكِثَ سَاعَةً أَوْ قَالَ مَا مَعَكَ فَقَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا. أَوْ لَبِثَا ثُمَّ قَالَ زَوَّجْتُكَهَا. فَهْوَ جَائِزٌ. فِيهِ سَهْلٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ پاک نے سورۃ نساء میں فرمایا «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا‏» ”اگر تم ڈرو کہ یتیم لڑکیوں کے حق میں انصاف نہ کر سکو گے تو دوسری عورتوں سے جو تم کو بھلی لگیں نکاح کر لو“۔ اگر کسی شخص نے یتیم لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو پھر ولی ایک گھڑی تک خاموش رہا یا ولی نے یہ پوچھا تیرے پاس کیا کیا جائداد ہے۔ وہ کہنے لگا فلاں فلاں جائیداد یا دونوں خاموش ہو رہے۔ اس کے بعد ولی نے کہا میں نے اس کا نکاح تجھ سے کر دیا تو نکاح جائز ہو جائے گا اس باب میں سہل کی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5140]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5140
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ لَهَا:" يَا أُمَّتَاهْ، وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى إِلَى قَوْلِهِ: مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 3، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَالصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ: فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور (دوسری سند) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین! اس آیت میں کیا حکم بیان ہوا ہے؟ «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے۔“ «ما ملكت أيمانكم‏» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم یبان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی کو اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہو اور وہ اس کا مہر کم کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ ان کے مہر کے بارے میں انصاف کریں (اور اگر انصاف نہیں کر سکتے تو انہیں ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ويستفتونك في النساء‏» ”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ سے «وترغبون‏» تک نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکیاں جب صاحب مال اور صاحب جمال ہوتی ہیں تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولت مندی یا خوبصورتی نہیں رکھتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر دیتے ہیں (یہ کیا بات) ان کو چاہئے کہ جیسے مال و دولت اور حسن و جمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو خیر نکاح کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5140]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور عرض کی: ”اے اماں جان! اس آیت کریمہ کی تفسیر کیا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 3] ”اور تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں نکاح کرلو...“؟“ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سرپرست کی کفالت میں ہوتی، وہ اس کی مالداری اور خوبصورتی میں دلچسپی رکھتا (اور اپنے ساتھ نکاح کر لیتا) لیکن اس کے حق مہر میں کمی کر دیتا، اس لیے یتیم بچیوں سے انہیں نکاح کرنے سے روک دیا گیا مگر یہ کہ انہیں پورا پورا حق مہر دیں، نیز بصورت دیگر انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے) فرمایا: ”اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے متعلق فتویٰ دیتا ہے اور اس کے بارے میں جو یتیم عورتوں سے متعلق اس کتاب میں پہلے سے سنایا جا چکا ہے۔ جن کے مقررہ حقوق تو تم دیتے نہیں ہو لیکن ان سے نکاح کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہو۔“ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ یتیم لڑکی جب خوبصورت اور مالدار ہو تو تم اس کے نکاح، نسب اور حق مہر میں دلچسپی رکھتے ہو اور جب وہ خوبصورت نہ ہو اور کم مالداری کی وجہ سے اس کے متعلق کوئی رغبت نہ ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہو، اور ان کے علاوہ دوسری عورتیں اپنے حبالہ عقد میں لے آتے ہو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جیسے وہ عدم رغبت کی صورت میں چھوڑ دیتے ہیں تو ان کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ جب ان میں دلچسپی رکھیں تو ان سے نکاح کریں الا یہ کہ ان سے انصاف کریں اور انہیں پورا پورا مہر ادا کریں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ إِذَا قَالَ الْخَاطِبُ لِلْوَلِيِّ زَوِّجْنِي فُلاَنَةَ. فَقَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَ بِكَذَا وَكَذَا. جَازَ النِّكَاحُ، وَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِلزَّوْجِ أَرَضِيتَ أَوْ قَبِلْتَ:
باب: اگر کسی مرد نے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو، اس نے کہا میں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر رضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5141
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَ: مَا لِي الْيَوْمَ فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: مَا عِنْدَكَ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: فَمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب عورت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس عورت کو کچھ دو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ اس قرآن کے بدلے جو تم کو یاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5141]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خود کو آپ پر پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے آج کل کسی دوسری عورت کی حاجت نہیں۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! آپ اس کا نکاح مجھ سے کر دیں۔“ آپ نے (اسے) فرمایا: ”تیرے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کچھ تو دینا پڑے گا خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“ اس نے پھر عرض کی: ”میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تو نے کچھ قرآن یاد کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں، اتنا قرآن یاد ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا اس قرآن کے بدلے جو تمہیں یاد ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ:
باب: کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیغام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5142
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5142]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”ایک آدمی دوسرے کی خرید و فروخت پر خرید و فروخت کرے اور (اس سے بھی منع فرمایا کہ) اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر کوئی دوسرا پیغام بھیجے، حتیٰ کہ پہلا پیغام دینے والا اسے ترک کر دے یا وہ اسے اجازت دے دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں