🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب الحيض
حیض (سے متعلق احکام) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: كنا لا نعد الكدرة والصفرة بعد الطهر شيئا. رواه البخاري وأبو داود واللفظ له.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (ایام ماہواری کے اختتام پر) نہا دھو کر پاک و صاف ہونے کے بعد گدلے اور زرد رنگ کی چیز کو (اس چیز کے خارج ہونے کو) کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں (یعنی ایسے مادہ کے خروج کو حیض تصور نہیں کرتی تھیں۔) (بخاری، ابوداؤد) متن حدیث کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 121]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ عَطِيَّةَ» ام عطیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «كُنَّا» ہم تھیں – «لَا» نہیں – «نَعُدُّ» ہم شمار کرتی تھیں – «الْكُدْرَةَ» مٹیالے پن کو – «وَ» اور – «الصُّفْرَةَ» زردی کو – «بَعْدَ» بعد – «الطُّهْرِ» پاکی کے – «شَيْئًا» کچھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «وَ» اور – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَ» اور – «اللَّفْظُ» لفظ – «لَهُ» انہی (ابو داود) کے ہیں۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم پاک ہونے کے بعد مٹیالے اور زرد رنگ کو کچھ شمار نہیں کرتی تھیں۔ اسے بخاری اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور الفاظ ابو داود کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب الصفرة والكدرة في غير أيام الحيض، حديث: 326، وأبوداود، الطهارة، باب في المرأة تري الصفرة والكدرة بعد الطهر، حديث:307.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
وعن أنس رضي الله عنه أن اليهود كانوا إذا حاضت المرأة فيهم لم يؤاكلوها فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اصنعوا كل شيء إلا النكاح» ‏‏‏‏. رواه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کے ہاں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس عورت کے ساتھ کھانا پینا ترک کر دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اے مسلمانوں)! تم ہمبستری کے علاوہ ہر قسم کا فعل عورت کے ساتھ کر سکتے ہو۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 122]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «الْيَهُودَ» یہود – «كَانُوا» تھے – «إِذَا» جب – «حَاضَتِ» حائضہ ہوتی – «الْمَرْأَةُ» عورت – «فِيهِمْ» ان میں – «لَمْ» نہیں – «يُؤَاكِلُوهَا» وہ اس کے ساتھ کھاتے – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «اصْنَعُوا» تم کرو – «كُلَّ» ہر – «شَيْءٍ» چیز – «إِلَّا» سوائے – «النِّكَاحَ» ہم بستری کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو وہ اس کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بستری کے سوا ہر کام کرو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب جواز غسلالحائض رائس زوجها وترجيله...، حديث:302.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يأمرني فأتزر فيباشرني وأنا حائض. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تہبند مضبوطی سے باندھنے کا حکم فرماتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ مباشرت کرتے، حالانکہ میں اس وقت حالت حیض میں ہوتی تھی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 123]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَأْمُرُنِي» مجھے حکم دیتے – «فَأَتَّزِرُ» تو میں تہبند باندھ لیتی – «فَيُبَاشِرُنِي» پھر وہ مجھ سے جسمانی قربت کرتے – «وَ» اور – «أَنَا» میں – «حَائِضٌ» حائضہ ہوتی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں تہبند باندھ لیتی، پھر آپ مجھ سے جسمانی قربت کرتے درآں حالیکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ اس پر اتفاق (بخاری و مسلم) ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب مباشرة الحائض، حديث:300، 302، ومسلم الحيض، باب مباشرة الحائض فوق الإزار، حديث:293.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الذي يأتي امرأته وهي حائض قال: «‏‏‏‏يتصدق بدينار أو بنصف دينار» .‏‏‏‏ رواه الخمسة وصححه الحاكم وابن القطان ورجح غيرهما وقفه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کے بارے میں بیان کیا ہے جو اپنی بیوی کے پاس ایسی حالت میں جائے جبکہ وہ حالت حیض میں ہو ”وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ و خیرات کرے۔“
اس حدیث کو پانچوں نے روایت کیا ہے۔ حاکم اور ابن قطان دونوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ان دونوں کے علاوہ دوسرے محدثین نے اسے موقوف کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 124]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنْ» سے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فِي» میں / کے بارے میں – «الَّذِي» وہ شخص جو – «يَأْتِي» آتا ہے (قربت کرتا ہے) – «امْرَأَتَهُ» اپنی عورت (بیوی) سے – «وَ» اور – «هِيَ» وہ – «حَائِضٌ» حائضہ ہو – «قَالَ» آپ نے فرمایا – «يَتَصَدَّقُ» وہ صدقہ کرے – «بِدِينَارٍ» ایک دینار – «أَوْ» یا – «بِنِصْفِ» آدھا – «دِينَارٍ» دینار۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچ نے – «وَ» اور – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح کہا ہے – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَ» اور – «ابْنُ الْقَطَّانِ» ابن القطان نے – «وَ» اور – «رَجَّحَ» راجح قرار دیا ہے – «غَيْرُهُمَا» ان دونوں کے علاوہ نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے (ہم بستری کرتا ہے) درآں حالیکہ وہ حائضہ ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ اسے پانچ (محدثین) نے روایت کیا ہے اور حاکم اور ابن القطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ان دونوں کے علاوہ دیگر محدثین نے اس کے موقوف ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في إتيان الحائض، حديث: 264، والترمذي، الطهارة، حديث:136، والنسائي، الطهارة، حديث:290، وابن ماجه، الطهارة، حديث:640، وأحمد:1 /272، 367، والحاكم في المستدرك:1 /172 وصحيحه، ووافقه الذهبي في تلخيصه بالسكوت عليه.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أليس إذا حاضت المرأة لم تصل ولم تصم» ‏‏‏‏؟. متفق عليه في حديث طويل.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”کیا عورت جب حالت حیض میں ہوتی ہے تو نماز اور روزہ چھوڑ نہیں دیتی؟“ (بخاری و مسلم) یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 125]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «أَلَيْسَ» کیا نہیں – «إِذَا» جب – «حَاضَتِ» حائضہ ہوتی ہے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «لَمْ» نہیں – «تُصَلِّ» وہ نماز پڑھتی – «وَ» اور – «لَمْ» نہیں – «تَصُمْ» وہ روزہ رکھتی؟ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «فِي» میں – «حَدِيثٍ» ایک حدیث – «طَوِيلٍ» لمبی۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت جب حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟“ ایک لمبی حدیث میں اس پر اتفاق (بخاری و مسلم) ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب ترك الحائض الصوم، حديث:304، ومسلم، الإيمان، باب بيان نقصان الإيمان بنقص الطاعات...، حديث:79.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: لما جئنا سرف حضت فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري» ‏‏‏‏. متفق عليه في حديث طويل.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مقام سرف میں آئے تو مجھے ایام ماہواری شروع ہو گئے (میرے بتانے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مناسک حج تم بھی اسی طرح ادا کرو جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں البتہ طواف بیت اللہ ایام سے فارغ ہو کر نہا دھو کر کرنا“ (بخاری و مسلم) یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 126]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ» راضی ہو – «اللَّهُ» اللہ – «تَعَالَى» بلند و برتر – «عَنْهَا» ان سے – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «لَمَّا» جب – «جِئْنَا» ہم آئے – «سَرِفَ» سرف (مقام) پر – «حِضْتُ» میں حائضہ ہو گئی – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «افْعَلِي» تم کرو – «مَا» جو – «يَفْعَلُ» کرتا ہے – «الْحَاجُّ» حاجی – «غَيْرَ» سوائے – «أَنْ» اس کے کہ – «لَا» نہیں – «تَطُوفِي» تم طواف کرنا – «بِالْبَيْتِ» بیت اللہ کا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «تَطْهُرِي» تم پاک ہو جاؤ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «فِي» میں – «حَدِيثٍ» ایک حدیث – «طَوِيلٍ» لمبی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنها فرماتی ہیں: جب ہم مقام سرف پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب کام کرو جو حاجی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا یہاں تک کہ تم پاک ہو جاؤ۔“ ایک لمبی حدیث میں اس پر اتفاق (بخاری و مسلم) ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت، حديث:305، ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الإحرام...، حديث:1211.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه أنه سأل النبي صلى الله عليه وآله وسلم: ما يحل للرجل من امرأته وهي حائض؟ فقال: «‏‏‏‏ما فوق الإزار» ‏‏‏‏. رواه أبو داود وضعفه.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ”جب عورت ایام ماہواری میں ہو تو عورت کی اپنے شوہر کے لیے کیا کیا چیز حلال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پاجامہ یا تہبند میں جسم کا جتنا حصہ ہے اسے چھوڑ کر باقی حصہ اس کے لیے حلال ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 127]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ» معاذ بن جبل – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ بے شک انہوں نے – «سَأَلَ» پوچھا – «النَّبِيَّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «مَا» کیا – «يَحِلُّ» حلال ہے – «لِلرَّجُلِ» آدمی کے لیے – «مِنْ» سے – «امْرَأَتِهِ» اس کی عورت (بیوی) – «وَ» اور – «هِيَ» وہ – «حَائِضٌ» حائضہ ہو؟ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا – «مَا» جو – «فَوْقَ» اوپر ہے – «الْإِزَارِ» تہبند کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَ» اور – «ضَعَّفَهُ» اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آدمی کے لیے اپنی بیوی سے کیا حلال ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟ تو آپ نے فرمایا: ”جو تہبند سے اوپر ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في المذي، حديث: 213* عبدالرحمن بن عائذ أحد رواة السند لم يدرك معاذ بن جبل رضي الله عنه، انظر جامع التحصيل، ص: 223.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت: كانت النفساء تقعد على عهد النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعد نفاسها أربعين يوما. رواه الخمسة إلا النسائي واللفظ لأبي داود.وفي لفظ له: ولم يأمرها النبي صلى الله عليه وآله وسلم بقضاء صلاة النفاس وصححه الحاكم.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عورتیں بچے کی ولادت کے چالیس روز تک ناپاک بیٹھی رہتی تھیں۔
نسائی کے علاوہ باقی چاروں نے اسے روایت کیا ہے اور متن حدیث کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ اور اس کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام نفاس میں چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضاء کا حکم نہیں دیا۔ اسے حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 128]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «كَانَتِ» تھی – «النُّفَسَاءُ» نفاس والی عورت – «تَقْعُدُ» وہ بیٹھتی – «عَلَى» پر – «عَهْدِ» عہد (زمانے) – «النَّبِيِّ» نبی کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «بَعْدَ» بعد – «نِفَاسِهَا» اپنے نفاس کے – «أَرْبَعِينَ» چالیس – «يَوْمًا» دن۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچ نے – «إِلَّا» سوائے – «النَّسَائِيَّ» نسائی کے – «وَ» اور – «اللَّفْظُ» لفظ – «لِأَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے ہیں۔ – «وَ» اور – «فِي» میں – «لَفْظٍ» ایک لفظ – «لَهُ» ان (ابو داود) کے لیے (ہیں) – «وَ» اور – «لَمْ» نہیں – «يَأْمُرْهَا» اسے حکم دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «بِقَضَاءِ» قضا کرنے کا – «صَلَاةِ» نماز – «النِّفَاسِ» نفاس کی۔ – «وَ» اور – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح قرار دیا ہے – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورت اپنے نفاس کے بعد چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی۔ اسے نسائی کے علاوہ پانچوں (محدثین) نے روایت کیا ہے اور الفاظ ابو داود کے ہیں۔ اور ان (ابو داود) کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نفاس کی نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا، اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب ما جاء في وقت النفساء، حديث:311، 312، والترمذي، الطهارة، حديث:139، وابن ماجه، الطهارة، حديث:648، وأحمد: 6 /300، 302، 304، 309، 310، والحاكم: 1 /175 وصححه، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں