🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب قضاء الحاجة
قضائے حاجت کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 91
وعن سراقة بن مالك رضي الله عنه قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الخلاء: أن نقعد على اليسرى وننصب اليمنى. رواه البيهقي بسند ضعيف.
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی تعلیم دیتے ہوئے ہمیں فرمایا کہ ”ہم بائیں پاؤں پر وزن دے کر بیٹھیں اور دائیں کو کھڑا رکھیں (اس پر بوجھ کم ڈالیں)۔“ اس کو بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 91]
«وَعَنْ» اور سے - «سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ» سراقہ بن مالک - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «عَلَّمَنَا» ہمیں سکھایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «فِي» میں - «الْخَلَاءِ» بیت الخلاء / قضائے حاجت - «أَنْ» کہ - «نَقْعُدَ» ہم بیٹھیں - «عَلَى» پر - «الْيُسْرَى» بائیں (پاؤں) - «وَنَنْصِبَ» اور ہم کھڑا رکھیں - «الْيُمْنَى» دائیں (پاؤں کو) - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے - «بِسَنَدٍ» ساتھ سند کے - «ضَعِيفٍ» ضعیف۔
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیت الخلاء کے آداب سکھائے کہ ہم بائیں پاؤں پر بیٹھیں اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھیں۔ اسے بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فيه السنن الكبرٰي: 1 / 96 وفيه رجل من بني مدلج عن أبيه وهما مجهولان.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 92
وعن عيسى بن يزداد (برداد» ‏‏‏‏» عن أبيه رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا بال أحدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات» ‏‏‏‏. رواه ابن ماجه بسند ضعيف.
سیدنا عیسیٰ بن یزدار نے اپنے والد سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جب کوئی پیشاب کرے تو عضو مخصوص کو تین مرتبہ جھاڑ لے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 92]
«وَعَنْ» اور سے - «عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ» عیسیٰ بن یزداد - «(بَرْدَادَ)» (یا برداد) - «عَنْ» سے - «أَبِيهِ» ان کے والد - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «إِذَا» جب - «بَالَ» پیشاب کرے - «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی ایک - «فَلْيَنْتُرْ» تو اسے چاہیے کہ وہ سونت لے - «ذَكَرَهُ» اپنی شرمگاہ کو - «ثَلَاثَ» تین - «مَرَّاتٍ» مرتبہ - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے - «بِسَنَدٍ» ساتھ سند کے - «ضَعِيفٍ» ضعیف۔
اور سیدنا عیسیٰ بن یزداد (یا برداد) اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پیشاب کر چکے تو اسے چاہیے کہ اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ سونت لے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الطهارة، باب الاستبراء بعد البول، حديث:326، قال البوصيري:"إسناده ضعيف" وزمعة ضعيف، وعيسي بن يزداد مجهول الحال.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 93
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سأل أهل قباء فقال: «‏‏‏‏إن الله يثني عليكم» فقالوا: إنا نتبع الحجارة الماء. رواه البزار بسند ضعيف. وأصله في أبي داود،‏‏‏‏ وصححه ابن خزيمة من حديث أبي هريرة رضي الله عنه،‏‏‏‏ بدون ذكر الحجارة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری (پاکیزگی کے بارے میں) بڑی تعریف فرمائی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ڈھیلوں کے استعمال کے بعد مزید طہارت کے لیے پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔
اسے ضعیف سند کے ساتھ بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کی اصل ابوداؤد اور ترمذی میں موجود ہے (اسی سلسلے میں) ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے البتہ اس میں ڈھیلوں کا ذکر نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 93]
«وَعَنْ» اور سے - «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو - «أَنَّ» کہ - «النَّبِيَّ» نبی - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «سَأَلَ» پوچھا - «أَهْلَ» والوں سے - «قُبَاءٍ» قباء - «فَقَالَ» تو فرمایا - «إِنَّ» بیشک - «اللَّهَ» اللہ - «يُثْنِي» ثنا (تعریف) کرتا ہے - «عَلَيْكُمْ» تم پر - «فَقَالُوا» تو انہوں نے کہا - «إِنَّا» بیشک ہم - «نُتْبِعُ» پیچھے لگاتے ہیں - «الْحِجَارَةَ» پتھروں کے - «الْمَاءَ» پانی کو - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «الْبَزَّارُ» بزار نے - «بِسَنَدٍ» ساتھ سند کے - «ضَعِيفٍ» ضعیف - «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل - «فِي» میں ہے - «أَبِي دَاوُدَ» ابوداؤد - «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے - «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے - «مِنْ» سے - «حَدِيثِ» حدیث - «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابوہریرہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «بِدُونِ» بغیر - «ذِكْرِ» ذکر کے - «الْحِجَارَةِ» پتھروں کے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل قباء سے پوچھا اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری تعریف کرتا ہے۔“ تو انہوں نے عرض کیا: بیشک ہم پتھروں (سے استنجاء کرنے) کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں۔ اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور اس کی اصل ابوداؤد میں ہے، اور ابن خزیمہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسے صحیح قرار دیا ہے، (جس میں) پتھروں کا ذکر نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار(كشف الأستار):1 /130، 131، حديث:247، فيه محمد بن عبدالعزيز بن عمر وهو منكر الحديث، وحديث أبي هريرة أخرجه أبوداود، الطهارة، حديث:44، والترمذي، تفسير القرآن، حديث:3100، بغير هذا اللفظ، وهو حسن بالشواهد(انظرمسند أحمد:6 /6،حديث:23723 وسنده حسن قوي) وابن خزيمة من حديث أبي هريرة.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الغسل وحكم الجنب
غسل اور جنبی کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الماء من الماء» رواه مسلم،‏‏‏‏ وأصله في البخاري.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانی کا استعمال خروج پانی سے ہے۔“ (یعنی جب تک منی کا خروج نہ ہو اس وقت تک غسل واجب نہیں ہوتا۔) اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اصل روایت بخاری میں بھی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 94]
«عَنْ» سے - «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابوسعید خدری - «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «الْمَاءُ» پانی (غسل) - «مِنَ» سے ہے - «الْمَاءِ» پانی (منی کے نکلنے) - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «مُسْلِمٌ» مسلم نے - «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل - «فِي» میں ہے - «الْبُخَارِيِّ» بخاری۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی (یعنی غسل واجب ہونا) پانی (یعنی منی کے خارج ہونے) سے ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اليحض، باب إنما الماء من الماء، حديث:343 واللفظ له، والبخاري، الوضوء، باب من لم يرالوضوءإلا من المخرجين من القبل والدبر، حديث:180.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا جلس بين شعبها الأربع ثم جهدها،‏‏‏‏ فقد وجب الغسل» .‏‏‏‏ متفق عليه. وزاد مسلم: «‏‏‏‏وإن لم ينزل» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب تم میں سے کوئی عورت کی چار شاخوں کے درمیان میں بیٹھے پھر اپنی پوری کوشش کر لے تو اس پر غسل واجب ہو گیا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ”خواہ انزال نہ ہوا ہو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 95]
«وَعَنْ» اور سے - «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابوہریرہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «إِذَا» جب - «جَلَسَ» وہ (مرد) بیٹھے - «بَيْنَ» درمیان - «شُعَبِهَا» اس (عورت) کی شاخوں (ہاتھوں اور پیروں) - «الْأَرْبَعِ» چار - «ثُمَّ» پھر - «جَهَدَهَا» وہ اس کے ساتھ مشقت (جماع) کرے - «فَقَدْ» تو تحقیق - «وَجَبَ» واجب ہو گیا - «الْغُسْلُ» غسل - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر - «وَزَادَ» اور زیادتی (اضافہ) کی ہے - «مُسْلِمٌ» مسلم نے - «وَإِنْ» اور اگرچہ - «لَمْ» نہ - «يُنْزِلْ» اس نے انزال کیا ہو۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد عورت کے چاروں اعضاء (ہاتھوں اور پاؤں) کے درمیان بیٹھے، پھر اس سے جماع کرے تو غسل واجب ہو گیا۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: ”اگرچہ انزال نہ ہوا ہو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب إذاالتقي الختانان، حديث:291، ومسلم، الحيض، باب نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانين، حديث:348.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
وعن أم سلمة رضي الله عنها أن أم سليم- وهي امرأة أبي طلحة- قالت: يا رسول الله! إن الله لا يستحيي من الحق،‏‏‏‏ فهل على المرأة الغسل إذا احتلمت؟ قال: «‏‏‏‏نعم إذا رأت الماء» ‏‏‏‏. الحديث متفق عليه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیاء نہیں کرتا تو بتائیں کیا عورت کو جب احتلام ہو جائے تو اس پر بھی غسل فرض ہے؟ فرمایا ”ہاں! جب وہ پانی دیکھے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 96]
وَعَنْ» اور سے - «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو - «أَنَّ» کہ - «أُمَّ سُلَيْمٍ» ام سلیم - «وَهِيَ» اور وہ - «امْرَأَةُ» بیوی ہیں - «أَبِي طَلْحَةَ» ابوطلحہ کی - «قَالَتْ» انہوں نے کہا - «يَا» اے - «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول - «إِنَّ» بیشک - «اللَّهَ» اللہ - «لَا» نہیں - «يَسْتَحْيِي» شرماتا - «مِنَ» سے - «الْحَقِّ» حق - «فَهَلْ» تو کیا - «عَلَى» پر - «الْمَرْأَةِ» عورت - «الْغُسْلُ» غسل ہے - «إِذَا» جب - «احْتَلَمَتْ» اسے احتلام ہو - «قَالَ» فرمایا - «نَعَمْ» ہاں - «إِذَا» جب - «رَأَتِ» وہ دیکھے - «الْمَاءَ» پانی (تری) - «الْحَدِيثُ» حدیث - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم - اور وہ سیدنا ابوطلحہ کی بیوی ہیں - نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق (بیان کرنے) سے نہیں شرماتا، تو کیا عورت پر غسل (واجب) ہے جب اسے احتلام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ پانی (تری) دیکھے۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب إذا احتلمت المرأة، حديث:282، وانظر، حديث:130، ومسلم، الحيض، باب وجوب الغسل علي المرأة بخروج المني منها، حديث:313.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: في المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏تغتسل» .‏‏‏‏ متفق عليه. وزاد مسلم: فقالت أم سلمة: وهل يكون هذا؟ قال:«‏‏‏‏نعم،‏‏‏‏ فمن أين يكون الشبه؟» .‏‏‏‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو خواب میں وہی کچھ دیکھے جو ایک نوجوان مرد دیکھتا ہے (احتلام) ”کہ وہ غسل کرے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے اتنا اضافہ بھی کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب دینے پر مزید دریافت کیا، کیا ایسا (عورت) کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! اگر ایسا نہ ہوتا تو مشابہت کہاں سے ہوتی۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 97]
«وَعَنْ» اور سے - «أَنَسٍ» انس - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «فِي» میں / کے بارے میں - «الْمَرْأَةِ» عورت - «تَرَى» جو دیکھتی ہے - «فِي» میں - «مَنَامِهَا» اپنی نیند - «مَا» جو - «يَرَى» دیکھتا ہے - «الرَّجُلُ» مرد - «قَالَ» فرمایا - «تَغْتَسِلُ» وہ غسل کرے گی - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر - «وَزَادَ» اور زیادتی (اضافہ) کی ہے - «مُسْلِمٌ» مسلم نے - «فَقَالَتْ» تو کہا - «أُمُّ سَلَمَةَ» ام سلمہ نے - «وَهَلْ» اور کیا - «يَكُونُ» ہوتا ہے - «هَذَا» یہ - «قَالَ» فرمایا - «نَعَمْ» ہاں - «فَمِنْ أَيْنَ» تو کہاں سے - «يَكُونُ» ہوتی ہے - «الشَّبَهُ» مشابہت۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنی نیند میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی احتلام): ”وہ غسل کرے۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اور کیا یہ (عورتوں کو بھی احتلام) ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (ہوتا ہے)، تو (بچے میں) مشابہت کہاں سے آتی ہے؟“ [بلوغ المرام/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: لم أجده من حديث أنس رضي الله عنه، ومسلم، الحيض، باب وجوب الغسل علي المرأة بخروج المني منها، حديث: 310، 312.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغتسل من أربع: من الجنابة،‏‏‏‏ ويوم الجمعة،‏‏‏‏ ومن الحجامة،‏‏‏‏ ومن غسل الميت. رواه أبو داود وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ جنابت، جمعہ کے روز، سینگی لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 98]
«وَعَنْ» اور سے - «عَائِشَةَ» عائشہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَتْ» انہوں نے کہا - «كَانَ» تھے - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «يَغْتَسِلُ» غسل کرتے - «مِنْ» سے - «أَرْبَعٍ» چار (چیزوں) - «مِنَ» سے - «الْجَنَابَةِ» جنابت - «وَيَوْمَ» اور دن - «الْجُمُعَةِ» جمعہ کے - «وَمِنَ» اور سے - «الْحِجَامَةِ» پچھنے لگوانے (حجامہ) - «وَمِنْ» اور سے - «غُسْلِ» غسل دینے - «الْمَيِّتِ» میت کو - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «أَبُو دَاوُدَ» ابوداؤد نے - «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے - «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار چیزوں (کی وجہ) سے غسل فرمایا کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنے لگوانے (حجامہ کروانے) سے، اور میت کو غسل دینے سے۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الغسل اللجمعة، حديث:348، وانظر، حديث:3160، وابن خزيمة:1 / 126، حديث:256، وضعفه أبوداود، والسند حسن، وللحديث شواهد.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
وعن أبي هريرة رضي الله عنه- في قصة ثمامة بن أثال عندما أسلم- وأمره النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يغتسل. رواه عبد الرزاق،‏‏‏‏ وأصله متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعہ کے متعلق مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غسل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ عبدالرزاق نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 99]
«وَعَنْ» اور سے - «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابوہریرہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «فِي» میں - «قِصَّةِ» قصہ - «ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ» ثمامہ بن اثال کے - «عِنْدَمَا» جب - «أَسْلَمَ» وہ اسلام لائے - «وَأَمَرَهُ» اور انہیں حکم دیا - «النَّبِيُّ» نبی نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «أَنْ» کہ - «يَغْتَسِلَ» وہ غسل کریں - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «عَبْدُ الرَّزَّاقِ» عبدالرزاق نے - «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال کے قصے میں روایت ہے کہ جب وہ اسلام لائے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «أخرجه عبدالرزاق، ومن طريقه ابن خزيمة: 1 / 125، حديث:253، والبيهقي: 1 / 171، والبخاري، المغازي، حديث:4372، ومسلم، الجهاد، حديث:1764.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم» ‏‏‏‏. أخرجه السبعة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔“
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 100]
«وَعَنْ» اور سے - «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابوسعید خدری - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «أَنَّ» کہ - «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «قَالَ» فرمایا - «غُسْلُ» غسل - «يَوْمِ» دن - «الْجُمُعَةِ» جمعہ کے - «وَاجِبٌ» واجب ہے - «عَلَى» پر - «كُلِّ» ہر - «مُحْتَلِمٍ» بالغ - «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے - «السَّبْعَةُ» ساتوں نے۔
اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (شخص) پر واجب ہے۔“ اسے ساتوں (محدثین) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجمعة، باب فضل الغسل يوم الجمعة...، حديث:879، ومسلم، الجمعة، باب الطيب والسواك يوم الجمعة، حديث:846، وأبوداود، الطهارة، حديث:341، وأشار إليه الترمذي، الصلاة، حديث: 492، وابن ماجه، الصلاة، حديث:1089، والنسائي، الصلاة، حديث:1376، وأحمد:3 /60.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں