بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب التيمم
تیمم کا بیان
حدیث نمبر: 111
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «التيمم ضربتان: ضربة للوجه وضربة لليدين إلى المرفقين» . رواه الدارقطني وصحح الأئمة وقفه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”تیمم دو ضربوں سے (مکمل) ہوتا ہے، ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف کو صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 111]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «التَّيَمُّمُ» تیمم – «ضَرْبَتَانِ» دو ضربیں (مارنا) ہے: – «ضَرْبَةٌ» ایک ضرب – «لِلْوَجْهِ» چہرے کے لیے – «وَضَرْبَةٌ» اور ایک ضرب – «لِلْيَدَيْنِ» دونوں ہاتھوں کے لیے – «إِلَى» تک – «الْمِرْفَقَيْنِ» دونوں کہنیوں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَصَحَّحَ» اور صحیح قرار دیا ہے – «الْأَئِمَّةُ» ائمہ نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیمم دو ضربیں (مارنا) ہے: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں کہنیوں تک ہاتھوں کے لیے۔“ اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 111]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیمم دو ضربیں (مارنا) ہے: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں کہنیوں تک ہاتھوں کے لیے۔“ اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني في سننه:1 / 180، وقال الذهبي في تلخيص المستدرك:1 / 179، "بل(علي بن ظبيان) واه، قال ابن معين: ليس بشيء، وقال النسائي: "ليس بثقة"، وللحديث شواهد ضعيفة.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 112
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله: «الصعيد وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين. فإذا وجد الماء فليتق الله وليمسه بشرته» . رواه البزار وصححه ابن القطان لكن صوب الدارقطني إرساله، وللترمذي عن أبي ذر نحوه وصححه والحاکم أيضا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مٹی مومن مسلمان کا وضو ہے خواہ دس برس تک اسے پانی نہ ملے۔ مگر جب پانی دستیاب ہو جائے تو پھر اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور اسے اپنے جسم پر پانی پہنچانا چاہیئے۔“
اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے، تاہم دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست اور قرین صواب کہا ہے۔ ترمذی میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بھی صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 112]
اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے، تاہم دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست اور قرین صواب کہا ہے۔ ترمذی میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بھی صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 112]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابوہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «الصَّعِيدُ» پاک مٹی – «وُضُوءُ» وضو (پاک کرنے والی) ہے – «الْمُسْلِمِ» مسلمان کا – «وَإِنْ» اور اگرچہ – «لَمْ يَجِدِ» وہ نہ پائے – «الْمَاءَ» پانی – «عَشْرَ» دس – «سِنِينَ» سال۔ – «فَإِذَا» پس جب – «وَجَدَ» وہ پا لے – «الْمَاءَ» پانی – «فَلْيَتَّقِ» تو اسے چاہیے کہ ڈرے – «اللَّهَ» اللہ سے – «وَلْيُمِسَّهُ» اور اسے چاہیے کہ وہ اسے چھوائے (لگائے) – «بَشَرَتَهُ» اپنی جلد کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْبَزَّارُ» بزار نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ الْقَطَّانِ» ابن القطان نے – «لَكِنْ» لیکن – «صَوَّبَ» درست قرار دیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «إِرْسَالَهُ» اس کے مرسل ہونے کو، – «وَلِلتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی کے لیے (کی روایت میں) ہے – «عَنْ» سے – «أَبِي ذَرٍّ» ابوذر – «نَحْوَهُ» اسی طرح – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے انہوں (ترمذی) نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «أَيْضًا» بھی۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کا وضو (طہارت کا ذریعہ) ہے اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے۔ پس جب وہ پانی پا لے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور اسے (پانی کو) اپنی جلد کو لگائے (غسل یا وضو کرے)۔“ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن القطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے لیکن دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست قرار دیا ہے، اور ترمذی میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اور انہوں نے اور حاکم نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 112]
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کا وضو (طہارت کا ذریعہ) ہے اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے۔ پس جب وہ پانی پا لے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور اسے (پانی کو) اپنی جلد کو لگائے (غسل یا وضو کرے)۔“ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن القطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے لیکن دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست قرار دیا ہے، اور ترمذی میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اور انہوں نے اور حاکم نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار، في كش الأستار: 1 / 157، حديث: 310 وهو حديث حسن بالشواهد، والترمذي، الطهارة، حديث:124، من أبي ذر رضي الله عنه، وأبوداود، الطهارة، حديث: 332 وسنده حسن.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 113
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء في الوقت، فأعاد أحدهما الصلاة والوضوء، ولم يعد الآخر، ثم أتيا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فذكرا ذلك له، فقال للذي لم يعد: «أصبت السنة وأجزأتك صلاتك» وقال للآخر:«لك الأجر مرتين» . رواه أبو داود والنسائي.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے۔ نماز کا وقت آ گیا، مگر ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر پانی بھی دستیاب ہو گیا اور ابھی نماز ادا کرنے کا وقت باقی تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے وضو کیا اور دوبارہ نماز ادا کی، مگر دوسرے صاحب نے نہ تو وضو کیا اور نہ ہی نماز دہرائی۔ سفر سے واپسی پر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس نے دوبارہ نماز نہیں پڑھی تھی فرمایا ”تو نے سنت کے مطابق عمل کیا اور تیری نماز کافی ہو گئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا ”تجھے دو گنا اجر ملے گا۔“ (ابوداؤد و نسائی) [بلوغ المرام/حدیث: 113]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابوسعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «خَرَجَ» نکلے – «رَجُلَانِ» دو آدمی – «فِي» میں – «سَفَرٍ» ایک سفر – «فَحَضَرَتِ» پس حاضر ہو گئی (وقت ہو گیا) – «الصَّلَاةُ» نماز کا – «وَلَيْسَ» اور نہیں تھا – «مَعَهُمَا» ان دونوں کے ساتھ – «مَاءٌ» پانی – «فَتَيَمَّمَا» تو ان دونوں نے تیمم کیا – «صَعِيدًا» مٹی سے – «طَيِّبًا» پاک – «فَصَلَّيَا» پس ان دونوں نے نماز پڑھی – «ثُمَّ» پھر – «وَجَدَا» ان دونوں نے پا لیا – «الْمَاءَ» پانی – «فِي» میں – «الْوَقْتِ» (نماز کے) وقت – «فَأَعَادَ» تو لوٹائی (دوبارہ پڑھی) – «أَحَدُهُمَا» ان دونوں میں سے ایک نے – «الصَّلَاةَ» نماز – «وَالْوُضُوءَ» اور وضو (کیا) – «وَلَمْ» اور نہیں – «يُعِدِ» لوٹائی (دوبارہ پڑھی) – «الْآخَرُ» دوسرے نے، – «ثُمَّ» پھر – «أَتَيَا» وہ دونوں آئے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَذَكَرَا» تو ان دونوں نے ذکر کیا – «ذَلِكَ» اس (واقعے) کا – «لَهُ» آپ سے، – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا – «لِلَّذِي» اس کے لیے جس نے – «لَمْ» نہیں – «يُعِدِ» لوٹائی (دوبارہ پڑھی تھی): – «أَصَبْتَ» تو نے پالی – «السُّنَّةَ» سنت کو – «وَأَجْزَأَتْكَ» اور تجھے کافی ہو گئی – «صَلَاتُكَ» تیری نماز – «وَقَالَ» اور آپ نے فرمایا – «لِلْآخَرِ» دوسرے کے لیے: – «لَكَ» تیرے لیے – «الْأَجْرُ» ثواب ہے – «مَرَّتَيْنِ» دو مرتبہ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دو آدمی ایک سفر پر نکلے تو نماز کا وقت ہو گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، تو انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی، پھر انہوں نے (اسی نماز کے) وقت کے اندر پانی پا لیا۔ تو ان دونوں میں سے ایک نے وضو کیا اور نماز دوبارہ پڑھی، اور دوسرے نے دوبارہ نہیں پڑھی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے جس نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی تھی فرمایا: ”تو نے سنت کو پا لیا اور تیری (وہی) نماز تجھے کافی ہو گئی“، اور دوسرے (دوبارہ پڑھنے والے) سے فرمایا: ”تیرے لیے دوہرا ثواب ہے۔“ اسے امام ابوداود اور امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 113]
اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دو آدمی ایک سفر پر نکلے تو نماز کا وقت ہو گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، تو انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی، پھر انہوں نے (اسی نماز کے) وقت کے اندر پانی پا لیا۔ تو ان دونوں میں سے ایک نے وضو کیا اور نماز دوبارہ پڑھی، اور دوسرے نے دوبارہ نہیں پڑھی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے جس نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی تھی فرمایا: ”تو نے سنت کو پا لیا اور تیری (وہی) نماز تجھے کافی ہو گئی“، اور دوسرے (دوبارہ پڑھنے والے) سے فرمایا: ”تیرے لیے دوہرا ثواب ہے۔“ اسے امام ابوداود اور امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في المتيمم يجد الماء بعد ما يصلي في الوقت، حديث:338، والنسائي، الطهارة، حديث:433.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 114
وعن ابن عباس رضي الله عنهما في قوله عز وجل «وإن كنتم مرضى أو على سفر» قال:"إذا كانت بالرجل الجراحة في سبيل الله والقروح، فيجنب، فيخاف أن يموت إن اغتسل: تيمم". رواه الدارقطني موقوفا، ورفعه البزار، وصححه ابن خزيمة، والحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن كنتم مرضى أو على سفر» کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب کسی شخص کو راہ خدا میں زخم اور گھاؤ لگے اور اسی حالت میں اسے جنابت لاحق ہو جائے اور غسل کرنے کی صورت میں مر جانے کا اندیشہ ہو تو وہ تیمم کر لے۔
اس روایت کو دارقطنی نے موقوف، بزار نے مرفوع اور ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 114]
اس روایت کو دارقطنی نے موقوف، بزار نے مرفوع اور ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 114]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «فِي» بارے میں – «قَوْلِهِ» فرمان اس (اللہ) کے – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ ہے – «وَإِنْ» اور اگر – «كُنْتُمْ» ہو تم – «مَرْضَى» بیمار – «أَوْ» یا – «عَلَى» پر – «سَفَرٍ» سفر – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «إِذَا» جب – «كَانَتْ» ہو – «بِالرَّجُلِ» آدمی کو – «الْجِرَاحَةُ» زخم – «فِي» میں – «سَبِيلِ» راستے – «اللَّهِ» اللہ کے – «وَالْقُرُوحُ» اور پھوڑے (زخم)، – «فَيُجْنِبُ» پھر وہ جنبی (ناپاک) ہو جائے، – «فَيَخَافُ» پھر وہ ڈرے – «أَنْ» کہ – «يَمُوتَ» وہ مر جائے گا – «إِنِ» اگر – «اغْتَسَلَ» اس نے غسل کیا: – «تَيَمَّمَ» تو وہ تیمم کر لے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «مَوْقُوفًا» موقوفاً، – «وَرَفَعَهُ» اور اسے مرفوع بیان کیا ہے – «الْبَزَّارُ» بزار نے، – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب کسی آدمی کو اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) زخم اور پھوڑے ہو جائیں، پھر وہ جنبی (ناپاک) ہو جائے، پھر اسے یہ ڈر ہو کہ اگر اس نے غسل کیا تو وہ مر جائے گا: تو وہ تیمم کر لے۔“ اسے امام دارقطنی نے موقوفاً روایت کیا ہے، اور بزار نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 114]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب کسی آدمی کو اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) زخم اور پھوڑے ہو جائیں، پھر وہ جنبی (ناپاک) ہو جائے، پھر اسے یہ ڈر ہو کہ اگر اس نے غسل کیا تو وہ مر جائے گا: تو وہ تیمم کر لے۔“ اسے امام دارقطنی نے موقوفاً روایت کیا ہے، اور بزار نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:1 / 177، وابن خزيمة:1 / 138، حديث:272، وابن الجارود:129* جرير سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 115
وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي، فسألت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأمرني أن أمسح على الجبائر. رواه ابن ماجه بسند واه جدا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو۔“
اسے ابن ماجہ نے نہایت ہی کمزور و ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 115]
اسے ابن ماجہ نے نہایت ہی کمزور و ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 115]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «انْكَسَرَتْ» ٹوٹ گئی – «إِحْدَى» ایک – «زَنْدَيَّ» میری دونوں کلائیوں میں سے، – «فَسَأَلْتُ» تو میں نے پوچھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَأَمَرَنِي» تو آپ نے مجھے حکم دیا – «أَنْ» کہ – «أَمْسَحَ» میں مسح کروں – «عَلَى» پر – «الْجَبَائِرِ» پٹیوں (کھپچیوں)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِسَنَدٍ» ساتھ سند کے – «وَاهٍ» جو کمزور ہے – «جِدًّا» بہت۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری دونوں کلائیوں میں سے ایک کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کھپچیوں (پٹیوں) پر مسح کر لیا کروں۔ اسے ابن ماجہ نے بہت کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 115]
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری دونوں کلائیوں میں سے ایک کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کھپچیوں (پٹیوں) پر مسح کر لیا کروں۔ اسے ابن ماجہ نے بہت کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الطهارة، باب المسح علي الجبائر، حديث: 657* عمروبن خالد الواسطي كذاب كما قال أحمد وغيره، وقال البخاري: منكر الحديث.»
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 116
وعن جابر رضي الله عنه في الرجل الذي شج فاغتسل فمات: «إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصب على جرحه خرقة ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده» . رواه أبو داود بسند ضعيف وفيه اختلاف على روايه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس شخص کے بارے میں جس کے سر پر زخم آیا تھا اور اسی حالت میں اس نے غسل کر لیا اور وفات پا گیا، کہ اسے تو تیمم کر لینا ہی کافی تھا۔ اپنے زخم پر پٹی باندھ کر مسح کرتا اور باقی بدن کو دھو لیتا۔
اس روایت کو ضعیف سند کے ساتھ ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں بھی اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 116]
اس روایت کو ضعیف سند کے ساتھ ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں بھی اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 116]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي» بارے میں – «الرَّجُلِ» اس آدمی کے – «الَّذِي» جو – «شُجَّ» زخمی کیا گیا (سر پھٹ گیا) – «فَاغْتَسَلَ» پھر اس نے غسل کر لیا – «فَمَاتَ» تو وہ مر گیا: – «إِنَّمَا» بس – «كَانَ» تھا – «يَكْفِيهِ» اسے کافی – «أَنْ» کہ – «يَتَيَمَّمَ» وہ تیمم کر لیتا – «وَيَعْصِبَ» اور وہ باندھ لیتا – «عَلَى» پر – «جُرْحِهِ» اپنے زخم – «خِرْقَةً» ایک کپڑا – «ثُمَّ» پھر – «يَمْسَحَ» وہ مسح کر لیتا – «عَلَيْهَا» اس پر – «وَيَغْسِلَ» اور وہ دھو لیتا – «سَائِرَ» باقی تمام – «جَسَدِهِ» اپنے جسم کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِسَنَدٍ» ساتھ سند کے – «ضَعِيفٍ» جو ضعیف ہے – «وَفِيهِ» اور اس میں – «اخْتِلَافٌ» اختلاف ہے – «عَلَى» پر – «رُوَاتِهِ» اس کے راویوں کے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جس کا سر پھٹ گیا تھا، پھر اس نے غسل کر لیا تو وہ مر گیا، (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:) ”بس اسے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر کوئی کپڑا باندھ لیتا، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی تمام جسم کو دھو لیتا۔“ اسے امام ابوداود نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے راویوں پر اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 116]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جس کا سر پھٹ گیا تھا، پھر اس نے غسل کر لیا تو وہ مر گیا، (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:) ”بس اسے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر کوئی کپڑا باندھ لیتا، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی تمام جسم کو دھو لیتا۔“ اسے امام ابوداود نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے راویوں پر اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب المجدور يتيمم، حديث:336- الزبير بن خريق، حديثه ضعيف.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 117
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: من السنة أن لا يصلي الرجل بالتيمم إلا صلاة واحدة، ثم يتيمم للصلاة الأخرى. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف جدا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ تیمم کرنے والا شخص تیمم سے ایک ہی نماز پڑھے اور دوسری نماز کیلئے ازسرنو (دوبارہ سے) تیمم کرے۔
اس کو دارقطنی نے بہت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 117]
اس کو دارقطنی نے بہت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 117]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «مِنَ» سے (ہے) – «السُّنَّةِ» سنت – «أَنْ» کہ – «لَا» نہ – «يُصَلِّيَ» نماز پڑھے – «الرَّجُلُ» آدمی – «بِالتَّيَمُّمِ» ساتھ تیمم کے – «إِلَّا» مگر – «صَلَاةً» نماز – «وَاحِدَةً» ایک ہی، – «ثُمَّ» پھر – «يَتَيَمَّمَ» وہ تیمم کرے – «لِلصَّلَاةِ» نماز کے لیے – «الْأُخْرَى» دوسری۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِإِسْنَادٍ» ساتھ اسناد کے – «ضَعِيفٍ» جو ضعیف ہے – «جِدًّا» بہت۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ آدمی ایک تیمم کے ساتھ صرف ایک ہی (فرض) نماز پڑھے، پھر دوسری نماز کے لیے (دوبارہ) تیمم کرے۔ اسے امام دارقطنی نے بہت ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 117]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ آدمی ایک تیمم کے ساتھ صرف ایک ہی (فرض) نماز پڑھے، پھر دوسری نماز کے لیے (دوبارہ) تیمم کرے۔ اسے امام دارقطنی نے بہت ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:1 / 185، فيه الحسن بن عمارة وهو متروك.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
10. باب الحيض
حیض (سے متعلق احکام) کا بیان
حدیث نمبر: 118
عن عائشة رضي الله عنها: أن فاطمة بنت أبي حبيش كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«إن دم الحيض دم أسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي» . رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم واستنكره أبو حاتم.وفي حديث أسماء بنت عميس عند أبي داود:«ولتجلس في مركن فإذا رأت صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر، غسلا واحدا، وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتغتسل للفجر غسلا واحدا وتتوضأ فيما بين ذلك» .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی دائمی مریضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ”حیض کے خون (کی رنگت) سیاہ ہوتی ہے، آسانی سے پہچان ہو سکتی ہے۔ جن ایام میں یہ خون آ رہا ہو تو ان ایام میں نماز چھوڑ دو اور جب کوئی دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔“
ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا ہے ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم کے نزدیک یہ منکر ہے ابوداؤد میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی مروی حدیث میں ہے کہ ایک ٹب میں بیٹھ جائے اور جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر دونوں نمازوں کیلئے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز کیلئے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کیلئے الگ سے ایک غسل کر لے اور ان کے درمیان میں وضو کر لے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 118]
ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا ہے ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم کے نزدیک یہ منکر ہے ابوداؤد میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی مروی حدیث میں ہے کہ ایک ٹب میں بیٹھ جائے اور جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر دونوں نمازوں کیلئے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز کیلئے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کیلئے الگ سے ایک غسل کر لے اور ان کے درمیان میں وضو کر لے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 118]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ» فاطمہ بنت ابی حبیش – «كَانَتْ» تھیں – «تُسْتَحَاضُ» انہیں استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا – «فَقَالَ» تو فرمایا – «لَهَا» ان سے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «إِنَّ» بیشک – «دَمَ» خون – «الْحَيْضِ» حیض کا – «دَمٌ» ایک خون ہے – «أَسْوَدُ» سیاہ (رنگ کا) – «يُعْرَفُ» جو پہچانا جاتا ہے – «فَإِذَا» پس جب – «كَانَ» ہو – «ذَلِكَ» وہ (خون) – «فَأَمْسِكِي» تو تو رک جا – «عَنِ» سے – «الصَّلَاةِ» نماز، – «فَإِذَا» پس جب – «كَانَ» ہو – «الْآخَرُ» دوسرا (خون) – «فَتَوَضَّئِي» تو تو وضو کر – «وَصَلِّي» اور نماز پڑھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَاسْتَنْكَرَهُ» اور اسے منکر قرار دیا ہے – «أَبُو حَاتِمٍ» ابو حاتم نے۔ – «وَفِي» اور میں – «حَدِيثِ» حدیث – «أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ» اسماء بنت عمیس – «عِنْدَ» ہاں – «أَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے: – «وَلْتَجْلِسْ» اور اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے – «فِي» میں – «مِرْكَنٍ» ایک ٹب (برتن) – «فَإِذَا» پس جب – «رَأَتْ» وہ دیکھے – «صُفْرَةً» زردی – «فَوْقَ» اوپر – «الْمَاءِ» پانی کے – «فَلْتَغْتَسِلْ» تو اسے چاہیے کہ غسل کرے – «لِلظُّهْرِ» ظہر – «وَالْعَصْرِ» اور عصر کے لیے، – «غُسْلًا» غسل – «وَاحِدًا» ایک، – «وَتَغْتَسِلَ» اور وہ غسل کرے – «لِلْمَغْرِبِ» مغرب – «وَالْعِشَاءِ» اور عشاء کے لیے – «غُسْلًا» غسل – «وَاحِدًا» ایک – «وَتَغْتَسِلَ» اور وہ غسل کرے – «لِلْفَجْرِ» فجر کے لیے – «غُسْلًا» غسل – «وَاحِدًا» ایک – «وَتَتَوَضَّأَ» اور وہ وضو کرے – «فِيمَا» اس میں جو – «بَيْنَ» درمیان ہے – «ذَلِكَ» اس کے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بیشک حیض کا خون سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، پس جب وہ (خون) ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا (استحاضہ کا خون) ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو۔“ اسے امام ابوداود اور امام نسائی نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابو حاتم نے اسے منکر کہا ہے۔ اور ابوداود میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ”اور اسے چاہیے کہ ایک ٹب میں بیٹھے، پس جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے، اور ان (نمازوں) کے درمیانی اوقات میں وضو کرے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 118]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بیشک حیض کا خون سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، پس جب وہ (خون) ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا (استحاضہ کا خون) ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو۔“ اسے امام ابوداود اور امام نسائی نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابو حاتم نے اسے منکر کہا ہے۔ اور ابوداود میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ”اور اسے چاہیے کہ ایک ٹب میں بیٹھے، پس جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے، اور ان (نمازوں) کے درمیانی اوقات میں وضو کرے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، حديث:286، والنسائي، الطهارة، حديث:363، وابن حبان(الإحسان):2 / 318، حديث:1345، الزهري مدلس وعنعن* وأبوداود، الطهارة، حديث:296 من حديث أسماء بنت عميس رضي الله عنها وسنده ضعيف [الزهري عنعن] .»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 119
وعن حمنة بنت جحش قالت: كنت أستحاض حيضة كثيرة شديدة فأتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم أستفتيه فقال: «إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضي ستة أيام أو سبعة أيام ثم اغتسلي فإذا استنقأت فصلي أربعة وعشرين أو ثلاثة وعشرين وصومي وصلي فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء فإن قويت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر ثم تغتسلي حين تطهرين وتصلي الظهر والعصر جميعا ثم تؤخرين المغرب والعشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي. وتغتسلين مع الصبح وتصلين» . قال:«وهو أعجب الأمرين إلي» . رواه الخمسة إلا النسائي وصححه الترمذي وحسنه البخاري.
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سخت قسم کے عارضہ استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استفسار کیلئے حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ تو شیطان کی چوک (مار) ہے۔ لہٰذا تو چھ یا سات روز ایام شمار کر کے پھر نہا لے، جب تو اچھی طرح پاک و صاف ہو جائے تو پھر چوبیس یا تئیس روز نماز پڑھ اور روزہ بھی رکھ۔ یقینًا یہ تیرے لئے کافی ہے پس ہر ماہ اسی طرح کر لیا کر جیسا کہ حیض والی خواتین کرتی ہیں۔ پھر اگر تم میں ظہر کو ذرا مؤخر کرنے اور عصر کو ذرا مقدم کرنے کی ہمت و طاقت ہے تو پھر غسل کر لے جب پاک و صاف ہو جائے تو ظہر اور عصر دونوں کو اکٹھا ملا کر پڑھ لے۔ پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو ذرا مقدم کر کے غسل کر لے اور جمع صلاتین کر لے۔ تو ایسا کر لے (یعنی ایسا کرنے کی اجازت ہے) اور صبح کی نماز کیلئے الگ غسل کر لے اور نماز پڑھ لے“ پھر فرمایا ”دونوں باتوں میں سے مجھے یہ زیادہ پسند اور محبوب ہے۔“
اس کو نسائی کے علاوہ باقی چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 119]
اس کو نسائی کے علاوہ باقی چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 119]
«وَعَنْ» اور سے – «حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ» حمنہ بنت جحش – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «كُنْتُ» تھی میں – «أُسْتَحَاضُ» مجھے استحاضہ آتا تھا – «حَيْضَةً» ایسا استحاضہ (خون) – «كَثِيرَةً» جو بہت زیادہ – «شَدِيدَةً» تیز ہوتا – «فَأَتَيْتُ» تو میں آئی – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «أَسْتَفْتِيهِ» میں ان سے فتویٰ (مسئلہ) پوچھتی تھی – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنَّمَا» بس – «هِيَ» وہ (خون) – «رَكْضَةٌ» ایک ٹھوکر ہے – «مِنَ» سے – «الشَّيْطَانِ» شیطان (کی ٹھوکروں میں)، – «فَتَحَيَّضِي» تو تو حیض شمار کر – «سِتَّةَ» چھ – «أَيَّامٍ» دن – «أَوْ» یا – «سَبْعَةَ» سات – «أَيَّامٍ» دن – «ثُمَّ» پھر – «اغْتَسِلِي» تو غسل کر لے – «فَإِذَا» پس جب – «اسْتَنْقَأْتِ» تو پاک صاف ہو جائے – «فَصَلِّي» تو نماز پڑھ – «أَرْبَعَةً» چوبیس (دن) – «وَعِشْرِينَ» اور بیس – «أَوْ» یا – «ثَلَاثَةً» تیئس (دن) – «وَعِشْرِينَ» اور بیس – «وَصُومِي» اور روزہ رکھ – «وَصَلِّي» اور نماز پڑھ – «فَإِنَّ» تو بیشک – «ذَلِكَ» یہ – «يُجْزِئُكِ» تجھے کافی ہوگا – «وَكَذَلِكَ» اور اسی طرح – «فَافْعَلِي» تو کیا کر – «كَمَا» جس طرح – «تَحِيضُ» حیض والی ہوتی ہیں – «النِّسَاءُ» عورتیں – «فَإِنْ» پھر اگر – «قَوِيتِ» تو طاقت رکھے – «عَلَى» پر – «أَنْ» کہ – «تُؤَخِّرِي» تو موخر کرے (دیر سے پڑھے) – «الظُّهْرَ» ظہر کو – «وَتُعَجِّلِي» اور جلدی پڑھے – «الْعَصْرَ» عصر کو – «ثُمَّ» پھر – «تَغْتَسِلِي» تو غسل کرے – «حِينَ» جس وقت – «تَطْهُرِينَ» تو پاک ہو – «وَتُصَلِّي» اور تو نماز پڑھے – «الظُّهْرَ» ظہر – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «جَمِيعًا» اکٹھی – «ثُمَّ» پھر – «تُؤَخِّرِينَ» تو موخر کرے (دیر سے پڑھے) – «الْمَغْرِبَ» مغرب کو – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء کو – «ثُمَّ» پھر – «تَغْتَسِلِينَ» تو غسل کرے – «وَتَجْمَعِينَ» اور تو جمع کرے – «بَيْنَ» درمیان – «الصَّلَاتَيْنِ» دونوں نمازوں کے – «فَافْعَلِي» تو ایسا کر لے۔ – «وَتَغْتَسِلِينَ» اور تو غسل کرے – «مَعَ» ساتھ – «الصُّبْحِ» صبح (فجر) کے – «وَتُصَلِّيْنَ» اور تو نماز پڑھے۔ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «وَهُوَ» اور یہ – «أَعْجَبُ» زیادہ پسندیدہ ہے – «الْأَمْرَيْنِ» دونوں کاموں میں سے – «إِلَيَّ» میری طرف (مجھے)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچ نے – «إِلَّا» سوائے – «النَّسَائِيَّ» نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن قرار دیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بہت زیادہ اور تیز استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، تو میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو شیطان کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے، لہٰذا تم چھ یا سات دن حیض شمار کرو، پھر غسل کر لو، پس جب تم پاک صاف ہو جاؤ تو چوبیس یا تیئس دن نماز پڑھو اور روزے رکھو، بیشک یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔ اور تم اسی طرح کیا کرو جس طرح باقی عورتیں حیض کے ایام گزارتی ہیں۔ پھر اگر تم اس بات کی طاقت رکھو کہ ظہر کو موخر کرو اور عصر کو جلدی پڑھو، پھر جب تم پاک ہو جاؤ تو غسل کرو اور ظہر اور عصر دونوں اکٹھی پڑھو، پھر مغرب کو موخر کرو اور عشاء (جلدی پڑھو)، پھر غسل کرو اور ان دونوں نمازوں کو جمع کر لو تو ایسا کر لو۔ اور فجر کے وقت غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ دونوں طریقوں میں سے مجھے زیادہ پسند ہے۔“ اسے امام نسائی کے علاوہ پانچوں (احمد، ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 119]
اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بہت زیادہ اور تیز استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، تو میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو شیطان کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے، لہٰذا تم چھ یا سات دن حیض شمار کرو، پھر غسل کر لو، پس جب تم پاک صاف ہو جاؤ تو چوبیس یا تیئس دن نماز پڑھو اور روزے رکھو، بیشک یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔ اور تم اسی طرح کیا کرو جس طرح باقی عورتیں حیض کے ایام گزارتی ہیں۔ پھر اگر تم اس بات کی طاقت رکھو کہ ظہر کو موخر کرو اور عصر کو جلدی پڑھو، پھر جب تم پاک ہو جاؤ تو غسل کرو اور ظہر اور عصر دونوں اکٹھی پڑھو، پھر مغرب کو موخر کرو اور عشاء (جلدی پڑھو)، پھر غسل کرو اور ان دونوں نمازوں کو جمع کر لو تو ایسا کر لو۔ اور فجر کے وقت غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ دونوں طریقوں میں سے مجھے زیادہ پسند ہے۔“ اسے امام نسائی کے علاوہ پانچوں (احمد، ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، حديث: 287، والترمذي، الطهارة، حديث:128، وابن ماجه، الطهارة، حديث:622، 627، وأحمد: 6 /439، الزهري عنعن.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 120
وعن عائشة رضي الله عنها أن أم حبيبة بنت جحش شكت إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الدم فقال:«امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي» فكانت تغتسل لكل صلاة. رواه مسلم.وفي رواية للبخاري: «وتوضئي لكل صلاة» . وهي لأبي داود وغيره من وجه آخر.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دم استحاضہ کا شکوہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تمہارے ماہواری کے ایام جس قدر پہلے سے متعین ہیں اتنے ایام میں (نماز ‘ روزہ) چھوڑ دے۔ اس کے بعد نہا دھو کر نماز ادا کرو۔“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اس کے بعد ہر نماز کیلئے تازہ غسل کیا کرتی تھیں۔ (مسلم) اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ”پھر ہر نماز کیلئے ازسرنو (دوبارہ سے) وضو کر لیا کرو۔“
ابوداؤد وغیرہ محدثین نے اس حدیث کو دوسرے طریقے سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 120]
ابوداؤد وغیرہ محدثین نے اس حدیث کو دوسرے طریقے سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 120]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ» ام حبیبہ بنت جحش نے – «شَكَتْ» شکایت کی – «إِلَى» طرف – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «الْدَّمِ» خون کی۔ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «امْكُثِي» تو رکی رہ (نماز سے) – «قَدْرَ» اس قدر – «مَا» جو – «كَانَتْ» تھی – «تَحْبِسُكِ» تجھے روکتی – «حَيْضَتُكِ» تیری حیض کی عادت، – «ثُمَّ» پھر – «اغْتَسِلِي» تو غسل کر لے“ – «فَكَانَتْ» تو وہ تھیں – «تَغْتَسِلُ» غسل کرتیں – «لِكُلِّ» ہر – «صَلَاةٍ» نماز کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي» اور میں – «رِوَايَةٍ» ایک روایت – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کی: – «وَتَوَضَّئِي» ”اور تو وضو کر“ – «لِكُلِّ» ہر – «صَلَاةٍ» نماز کے لیے۔ – «وَهِيَ» اور یہ (روایت) – «لِأَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے لیے (کی کتاب میں) ہے – «وَغَيْرِهِ» اور دیگر میں – «مِنْ» سے – «وَجْهٍ» ایک طریق (سند) – «آخَرَ» دوسرے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (استحاضہ کے) خون کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اتنے دن (نماز سے) رکی رہو جتنے دن تمہیں تمہاری حیض کی عادت روکے رکھتی تھی، پھر غسل کر لو۔“ چناچہ وہ (سیدہ ام حبیبہ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اور ہر نماز کے لیے وضو کرو۔“ اور یہ روایت امام ابوداود اور دیگر کے ہاں ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 120]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (استحاضہ کے) خون کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اتنے دن (نماز سے) رکی رہو جتنے دن تمہیں تمہاری حیض کی عادت روکے رکھتی تھی، پھر غسل کر لو۔“ چناچہ وہ (سیدہ ام حبیبہ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اور ہر نماز کے لیے وضو کرو۔“ اور یہ روایت امام ابوداود اور دیگر کے ہاں ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، حديث:334، والبخاري، الوضوء، حديث:228، وأبوداود، الطهارة، حديث:298.»
الحكم على الحديث:
صحيح