🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب قضاء الحاجة
قضائے حاجت کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 81
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اتقوا اللعانين: الذي يتخلى في طريق الناس،‏‏‏‏ أو في ظلهم» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وزاد أبو داود عن معاذ رضي الله عنه: «‏‏‏‏والموارد» ‏‏‏‏ ولفظه: «‏‏‏‏اتقوا الملاعن الثلاثة: البراز في الموارد،‏‏‏‏ وقارعة الطريق والظل» .‏‏‏‏ ولأحمد عن ابن عباس رضي الله عنهما: «أو نقع ماء» . وفيهما ضعف. وأخرج الطبراني النهي عن قضاء الحاجة تحت الأشجار المثمرة وضفة النهر الجاري،‏‏‏‏ من حديث ابن عمر بسند ضعيف.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو لعنت کا سبب بننے والی جگہوں سے اجتناب کرو، ایک لوگوں کے راستہ میں۔ دوسرا (ان کے بیٹھنے آرام کرنے کی) سایہ دار جگہ میں قضائے حاجت کرنے سے۔“ (مسلم)
اور ابوداؤد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جو روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ ”لعنت کے تین اسباب سے اجتناب کرو، گھاٹوں پر، شاہراہ عام پر اور سایہ کے نیچے رفع حاجت کرنے سے۔“
اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے“ جہاں پانی جمع ہوتا ہو وہاں بھی رفع حاجت سے بچنا چاہیئے۔“ یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ“ پھل دار و سایہ دار درخت کے نیچے اور جاری و ساری نہر کے کنارے پر قضائے حاجت نہ کرے۔“ اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 81]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «اتَّقُوا» بچو – «اللَّعَّانَيْنِ» دو لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے: – «الَّذِي» وہ جو – «يَتَخَلَّى» قضائے حاجت کرتا ہے – «فِي» میں – «طَرِيقِ» راستے – «النَّاسِ» لوگوں کے، – «أَوْ» یا – «فِي» میں – «ظِلِّهِمْ» ان کے سائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «عَنْ» سے – «مُعَاذٍ» معاذ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «وَالْمَوَارِدِ» اور گھاٹوں۔ – «وَلَفْظُهُ» اور ان کے الفاظ ہیں: – «اتَّقُوا» بچو – «الْمَلَاعِنَ» لعنت کے باعث بننے والے کاموں – «الثَّلَاثَةَ» تین: – «الْبَرَازَ» پاخانہ کرنا – «فِي» میں – «الْمَوَارِدِ» گھاٹوں (پانی کی جگہوں)، – «وَقَارِعَةِ» اور بیچ – «الطَّرِيقِ» راستے – «وَالظِّلِّ» اور سائے۔ – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد کے لیے (احمد کی روایت میں ہے) – «عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو: – «أَوْ» یا – «نَقْعِ» ٹھہرے ہوئے – «مَاءٍ» پانی۔ – «وَفِيهِمَا» اور ان دونوں میں – «ضَعْفٌ» کمزوری ہے۔ – «وَأَخْرَجَ» اور تخریج کی – «الطَّبَرَانِيُّ» طبرانی نے – «النَّهْيَ» ممانعت کی – «عَنْ» سے – «قَضَاءِ» پوری کرنے – «الْحَاجَةِ» حاجت – «تَحْتَ» نیچے – «الْأَشْجَارِ» درختوں کے – «الْمُثْمِرَةِ» پھل دار – «وَضَفَّةِ» اور کنارے – «النَّهْرِ» نہر – «الْجَارِي» جاری، – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر کی – «بِسَنَدٍ» ساتھ سند – «ضَعِيفٍ» ضعیف۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کاموں سے بچو جو لعنت کا باعث بنتے ہیں: وہ جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ابوداود نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ”پانی کے گھاٹوں“ کا اضافہ کیا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: ”تین لعنت والے کاموں سے بچو: پانی کے گھاٹوں پر، راستے کے بیچ میں اور سائے میں پاخانہ کرنے سے۔“ اور احمد کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے: ”یا ٹھہرے ہوئے پانی میں۔“ اور ان دونوں (روایتوں) میں ضعف ہے۔ اور طبرانی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ضعیف سند کے ساتھ پھل دار درختوں کے نیچے اور بہتی نہر کے کنارے قضائے حاجت کرنے کی ممانعت تخریج کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب النهي عن التخلي في الطرق والظلال، حديث:269* حديث معاذ عند أبي داود. الطهارة، حديث:26 وسنده ضغيف-وحديث ابن عباس عند أحمد:1 / 299 وفيه رجل مجهول، لم يسم فالسند ضعيف، وحديث ابن عمر أخرجه الطبراني في الأوسط:3 /199، 200، حديث: 2413وسنده ضعيف جدًا، فيه فرات بن السائب وهو متروك الحديث.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 82
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا تغوط الرجلان فليتوار كل واحد منهما عن صاحبه،‏‏‏‏ ولا يتحدثا،‏‏‏‏ فإن الله يمقت على ذلك» ‏‏‏‏. رواه أحمد وصححه ابن السكن وابن القطان،‏‏‏‏ وهو معلول.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان کو ایک دوسرے سے پردہ میں ہونا چاہیئے اور اس حالت میں ایک دوسرے سے باہم گفتگو بھی نہ کریں اس لئے کہ ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔“
اس روایت کو احمد نے روایت کیا ہے اور ابن سکن اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مگر یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 82]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «إِذَا» جب – «تَغَوَّطَ» پاخانہ کریں – «الرَّجُلَانِ» دو آدمی – «فَلْيَتَوَارَ» تو چاہیے کہ چھپ جائے – «كُلُّ» ہر – «وَاحِدٍ» ایک – «مِنْهُمَا» ان دونوں میں سے – «عَنْ» سے – «صَاحِبِهِ» اپنے ساتھی، – «وَلَا يَتَحَدَّثَا» اور نہ وہ دونوں باتیں کریں، – «فَإِنَّ» کیونکہ بے شک – «اللَّهَ» اللہ – «يَمْقُتُ» سخت ناراض ہوتا ہے – «عَلَى» پر – «ذَلِكَ» اس۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ السَّكَنِ» ابن السکن نے – «وَابْنُ الْقَطَّانِ» اور ابن القطان نے، – «وَهُوَ» اور وہ (یہ حدیث) – «مَعْلُولٌ» معلول (علت والی) ہے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھی سے پردہ کرے، اور وہ دونوں آپس میں باتیں نہ کریں، کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات پر سخت ناراض ہوتا ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن السکن اور ابن القطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، حالانکہ یہ معلول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد: 3 / 36، وأبوداود، الطهارة، باب كراهية الكلام عند الحاجة، حديث:15، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 342، وصححه ابن خزيمة، حديث:71، وابن حبان(موارد)، حديث: 137، والحاكم:1 /157، 158، والذهبي، عكرمة بن عمار مضطرب الحديث عن يحيي بن أبي كثير، وللحديث شواهد ضعيفة.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 83
وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يمسن أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول،‏‏‏‏ ولا يتمسح من الخلاء بيمينه،‏‏‏‏ ولا يتنفس في الإناء» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ لمسلم.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”تم میں سے کوئی بھی پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو ہرگز نہ چھوئے اور قضائے حاجت کے بعد سیدھے ہاتھ سے استنجاء بھی نہ کرے۔ نیز پانی پیتے وقت اس میں سانس بھی نہ لے“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 83]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي قَتَادَةَ» ابو قتادہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «لَا يَمَسَّنَّ» ہرگز نہ چھوئے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «ذَكَرَهُ» اپنی شرمگاہ کو – «بِيَمِينِهِ» اپنے دائیں ہاتھ سے – «وَهُوَ» اور وہ (جبکہ وہ) – «يَبُولُ» پیشاب کر رہا ہو، – «وَلَا» اور نہ – «يَتَمَسَّحْ» وہ صاف کرے – «مِنَ» سے – «الْخَلَاءِ» پاخانہ (قضائے حاجت کے بعد) – «بِيَمِينِهِ» اپنے دائیں ہاتھ سے، – «وَلَا» اور نہ – «يَتَنَفَّسْ» وہ سانس لے – «فِي» میں – «الْإِنَاءِ» برتن۔ – «مُتَّفَقٌ» متفق – «عَلَيْهِ» اس پر، – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت اپنی شرمگاہ کو ہرگز دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ ہی قضائے حاجت کے بعد دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے، اور نہ برتن میں سانس لے۔“ یہ متفق علیہ ہے، اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب النهي عن الاستنجاء باليمين، حديث: 153، 154، ومسلم، الطهارة، باب النهي عن الاستنجاء باليمين، حديث:267.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 84
وعن سلمان رضي الله عنه قال: لقد نهانا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أن نستقبل القبلة بغائط أو بول،‏‏‏‏ أو أن نستنجي باليمين،‏‏‏‏ أوأن نستنجي بأقل من ثلاثة أحجار،‏‏‏‏ أو أن نستنجي برجيع أو عظم". رواه مسلم.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ” ہم قضائے حاجت اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہوں یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کریں یا تین ڈھیلوں سے کم سے استنجاء کریں یا گوبر، لید اور ہڈی سے استنجاء کریں۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 84]
«وَعَنْ» اور سے – «سَلْمَانَ» سلمان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَقَدْ» البتہ تحقیق – «نَهَانَا» ہمیں منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «أَنْ» کہ – «نَسْتَقْبِلَ» ہم رخ کریں – «الْقِبْلَةَ» قبلہ کی طرف – «بِغَائِطٍ» پاخانہ کرتے وقت – «أَوْ» یا – «بَوْلٍ» پیشاب، – «أَوْ» یا – «أَنْ» کہ – «نَسْتَنْجِيَ» ہم استنجاء کریں – «بِالْيَمِينِ» دائیں ہاتھ سے، – «أَوْ» یا – «أَنْ» کہ – «نَسْتَنْجِيَ» ہم استنجاء کریں – «بِأَقَلَّ» کم سے – «مِنْ» سے – «ثَلَاثَةِ» تین – «أَحْجَارٍ» پتھروں، – «أَوْ» یا – «أَنْ» کہ – «نَسْتَنْجِيَ» ہم استنجاء کریں – «بِرَجِيعٍ» گوبر سے – «أَوْ» یا – «عَظْمٍ» ہڈی سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ کریں، یا ہم دائیں ہاتھ سے استنجاء کریں، یا ہم تین پتھروں سے کم سے استنجاء کریں، یا ہم گوبر یا ہڈی سے استنجاء کریں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب الاستطابة، حديث:262.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 85
وللسبعة من حديث أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه:«‏‏‏‏فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها،‏‏‏‏ ببول أو غائط،‏‏‏‏ ولكن شرقوا أو غربوا» .‏‏‏‏
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رخ نہ بیٹھو اور نہ اس کی طرف پشت کرو، بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب کرو۔“
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 85]
«وَلِلسَّبْعَةِ» اور ساتوں (محدثین) کے ہاں ہے – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ» ابو ایوب انصاری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «فَلَا تَسْتَقْبِلُوا» پس نہ تم رخ کرو – «الْقِبْلَةَ» قبلہ کی طرف – «وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا» اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرو، – «بِبَوْلٍ» پیشاب کرتے وقت – «أَوْ» یا – «غَائِطٍ» پاخانہ، – «وَلَكِنْ» لیکن – «شَرِّقُوا» مشرق کی طرف منہ کرو – «أَوْ» یا – «غَرِّبُوا» مغرب کی طرف۔
اور ساتوں (محدثین) کی کتابوں میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مروی ہے: ”پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ کرو، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کر لیا کرو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب لاتستقبل القبلة بغائط أو بول، حديث:144، ومسلم، الطهارة، باب في الاستطابة، حديث:264، وأبوداود، الطهارة، حديث:9، والترمذي، الطهارة، حديث:8، والنسائي الطهارة، حديث:21، 22، وابن ماجه، الطهارة، حديث:318، وأحمد:5 /416، 421.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 86
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من أتى الغآئط فليستتر» .‏‏‏‏ رواه أبو داود.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو قضائے حاجت کے لئے جائے اسے پردہ کر کے بیٹھنا چاہیئے۔“ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 86]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «أَنَّ» بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ» جو – «أَتَى» آئے (جائے) – «الْغَائِطَ» پاخانہ (کرنے) – «فَلْيَسْتَتِرْ» تو اسے چاہیے کہ پردہ کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابوداود نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو اسے چاہیے کہ پردہ کرے۔“ اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الاستتارفي الخلاء، حديث:35، فيه حُصين وهو مجهول كما في تقريب التهذيب وغيره.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
وعنها رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا خرج من الغائط قال: «غفرانك» ‏‏‏‏. أخرجه الخمسة،‏‏‏‏ وصححه أبو حاتم والحاكم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر بیت الخلاء سے باہر آتے تو «غفرانک» فرماتے اے اللہ! تیری بخشش اور پردہ پوشی مطلوب ہے
اس روایت کو پانچوں احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ابوحاتم اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 87]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو: – «أَنَّ» بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «كَانَ» تھے – «إِذَا» جب – «خَرَجَ» وہ نکلتے – «مِنَ» سے – «الْغَائِطِ» پاخانہ (کی جگہ) – «قَالَ» تو فرماتے: – «غُفْرَانَكَ» (اے اللہ) میں تیری بخشش طلب کرتا ہوں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے تخریج کیا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے، – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «أَبُو حَاتِمٍ» ابو حاتم – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قضائے حاجت (کی جگہ) سے نکلتے تو فرماتے: ”(اے اللہ) میں تیری بخشش طلب کرتا ہوں۔“ اس کی تخریج پانچوں (محدثین) نے کی ہے، اور ابو حاتم اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب ما يقول الرجل إذا خرج من الخلاء، حديث: 30، والترمذي، الطهارة، حديث:7، وابن ماجه، الطهارة، حديث:300، وأحمد:6 / 155، والنسائي في الكبرٰي: 6 /24، حديث:9907، وصححه ابن خزيمة وابن حبان والحاكم: 1 /158 والذهبي وغيرهم.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: أتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الغائط،‏‏‏‏ فأمرني أن آتيه بثلاثة أحجار،‏‏‏‏ فوجدت حجرين،‏‏‏‏ ولم أجد ثالثا،‏‏‏‏ فأتيته بروثة،‏‏‏‏ فأخذهما وألقى الروثة،‏‏‏‏ وقال: «‏‏‏‏إنها ركس» .‏‏‏‏ أخرجه البخاري. وزاد أحمد والدارقطني:«‏‏‏‏ائتني بغيرها» .‏‏‏‏
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کو چلے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کیلئے تین پتھر لے آؤں۔ مجھے دو پتھر تو مل گئے تیسرا نہ مل سکا۔ میں (مجبوراً) گوبر کا ایک خشک ٹکڑا لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر تو لے لئے اور گوبر کے خشک ٹکڑے کو دور پھینک دیا اور فرمایا ”یہ تو بذات خود پلید ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ احمد اور دارقطنی نے اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ ”اس کی بجائے اور لے آؤ۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 88]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «أَتَى» آئے (تشریف لے گئے) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «الْغَائِطَ» پاخانہ (قضائے حاجت) کے لیے، – «فَأَمَرَنِي» تو آپ نے مجھے حکم دیا – «أَنْ» کہ – «آتِيَهُ» میں آپ کے پاس لاؤں – «بِثَلَاثَةِ» تین – «أَحْجَارٍ» پتھر، – «فَوَجَدْتُ» تو میں نے پائے – «حَجَرَيْنِ» دو پتھر، – «وَلَمْ» اور نہیں – «أَجِدْ» میں نے پایا – «ثَالِثًا» تیسرا، – «فَأَتَيْتُهُ» تو میں آپ کے پاس لے آیا – «بِرَوْثَةٍ» ایک سوکھا گوبر، – «فَأَخَذَهُمَا» تو آپ نے ان دونوں (پتھروں) کو لے لیا – «وَأَلْقَى» اور پھینک دیا – «الرَّوْثَةَ» گوبر کو، – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّهَا» بیشک یہ – «رِكْسٌ» ناپاک ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے تخریج کیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا ہے – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالدَّارَقُطْنِيُّ» اور دارقطنی نے: – «ائْتِنِي» میرے پاس لاؤ – «بِغَيْرِهَا» اس کے علاوہ (کوئی اور)۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس تین پتھر لاؤں، تو مجھے دو پتھر ملے اور تیسرا نہ ملا، چنانچہ میں آپ کے پاس (بطور تیسرا) ایک سوکھا گوبر لے آیا، تو آپ نے ان دونوں (پتھروں) کو لے لیا اور گوبر کو پھینک دیا، اور فرمایا: ”بیشک یہ ناپاک ہے۔“ اسے بخاری نے تخریج کیا ہے۔ اور احمد اور دارقطنی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ”میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور لاؤ۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب لا يستنجي بروث، حديث:156، وهو حديث صحيح* والدارقطني: 1 / 55، وأحمد:1 / 450، حديث:4299وسنده ضعيف، أبواسحاق عنعن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى أن يستنجى بعظم أو روث. وقال: «‏‏‏‏إنهما لا يطهران» .‏‏‏‏ رواه الدارقطني وصححه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی اور گوبر کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے، ساتھ ہی فرمایا کہ ”یہ دونوں پاک نہیں کر سکتے۔“ دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور صحیح بھی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 89]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «إِنَّ» بیشک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «نَهَى» نے منع فرمایا – «أَنْ» کہ – «يُسْتَنْجَى» استنجاء کیا جائے – «بِعَظْمٍ» ہڈی سے – «أَوْ» یا – «رَوْثٍ» گوبر سے۔ – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّهُمَا» بیشک یہ دونوں – «لَا يُطَهِّرَانِ» پاک نہیں کرتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”بیشک یہ دونوں (چیزیں) پاک نہیں کرتیں۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني، الطهارة، باب الاستنجاء:1 / 56 وقال: إسناده صحيح.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 90
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏استنزهوا من البول،‏‏‏‏ فإن عامة عذاب القبر منه» ‏‏‏‏. رواه الدارقطني،‏‏‏‏ وللحاكم: «‏‏‏‏أكثر عذاب القبر من البول» .‏‏‏‏ وهو صحيح الإسناد.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو۔ اکثر عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے۔“ دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم کی روایت میں ہے اکثر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 90]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «اسْتَنْزِهُوا» بچا کرو (پاک صاف رہا کرو) – «مِنَ» سے – «الْبَوْلِ» پیشاب، – «فَإِنَّ» کیونکہ بیشک – «عَامَّةَ» عام طور پر – «عَذَابِ» عذاب – «الْقَبْرِ» قبر (کا) – «مِنْهُ» اسی سے (اس کی وجہ سے) ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے، – «وَلِلْحَاكِمِ» اور حاکم کی (روایت) میں ہے: – «أَكْثَرُ» زیادہ تر – «عَذَابِ» عذاب – «الْقَبْرِ» قبر (کا) – «مِنَ» سے – «الْبَوْلِ» پیشاب (کی وجہ سے) ہے۔ – «وَهُوَ» اور وہ (اس کی) – «صَحِيحُ» صحیح ہے – «الْإِسْنَادِ» سند۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچا کرو، کیونکہ قبر کا عام طور پر عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے، اور حاکم کی روایت میں ہے: ”قبر کا زیادہ تر عذاب پیشاب (سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔“ اور اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني: 1 / 128 وقال:"الصواب مرسل"، والحاكم في المستدرك:1 /183 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، سليمان الأ عمش مدلس وعنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں