بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب قسم الصدقات
صدقات کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 523
وعن عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد، إنما هي أوساخ الناس» . وفي رواية:«وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد» . رواه مسلم.
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مناسب ہی نہیں۔ یہ تو لوگوں کے اموال کی میل کچیل ہے۔ “ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 523]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ» عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الصَّدَقَةَ» بے شک صدقہ (زکاۃ) – «لَا تَنْبَغِي» لائق نہیں – «لِآلِ مُحَمَّدٍ» محمد کی آل کے لیے – «إِنَّمَا هِيَ» یہ تو صرف – «أَوْسَاخُ النَّاسِ» لوگوں کا میل کچیل ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «وَإِنَّهَا» اور بے شک یہ – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «لِمُحَمَّدٍ» محمد کے لیے – «وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ» اور نہ محمد کی آل کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک صدقہ (زکاۃ) آل محمد کے لائق نہیں، یہ تو لوگوں (کے مالوں) کا میل کچیل ہے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اور یہ نہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال ہے اور نہ آل محمد کے لیے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 523]
اور سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک صدقہ (زکاۃ) آل محمد کے لائق نہیں، یہ تو لوگوں (کے مالوں) کا میل کچیل ہے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اور یہ نہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال ہے اور نہ آل محمد کے لیے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب ترك استعمال آل النبي علي الصدقة، حديث:1072.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 524
وعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: مشيت أنا وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم، فقلنا: يا رسول الله! أعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا، ونحن وهم بمنزلة واحدة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إنما بنو المطلب وبنو هاشم شيء واحد» . رواه البخاري.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے بنو عبدالمطلب کو خیبر کے خمس میں حصہ عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظرانداز فرمایا حالانکہ ہم اور وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم رشتہ کے اعتبار سے) ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنو عبدالمطلب اور بنو ہاشم ایک ہی چیز ہیں۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 524]
«وَعَنْ» اور سے – «جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ» جبیر بن مطعم – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَشَيْتُ» میں چل کر گیا – «أَنَا» میں – «وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» اور عثمان بن عفان – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کی طرف – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقُلْنَا» تو ہم نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَعْطَيْتَ» آپ نے دیا – «بَنِي الْمُطَّلِبِ» بنو مطلب کو – «مِنْ خُمُسِ» خمس میں سے – «خَيْبَرَ» خیبر کے – «وَتَرَكْتَنَا» اور ہمیں چھوڑ دیا – «وَنَحْنُ وَهُمْ» حالانکہ ہم اور وہ – «بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ» ایک ہی درجے میں ہیں؟ – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّمَا» یقیناً – «بَنُو الْمُطَّلِبِ» بنو مطلب – «وَبَنُو هَاشِمٍ» اور بنو ہاشم – «شَيْءٌ وَاحِدٌ» ایک ہی چیز ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بنو مطلب کو خیبر کے خمس میں سے عطا فرمایا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ ہم اور وہ (آپ سے رشتے میں) ایک ہی درجے پر ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بنو مطلب اور بنو ہاشم تو ایک ہی چیز ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 524]
اور سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بنو مطلب کو خیبر کے خمس میں سے عطا فرمایا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ ہم اور وہ (آپ سے رشتے میں) ایک ہی درجے پر ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بنو مطلب اور بنو ہاشم تو ایک ہی چیز ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل علي أن الخمس للإمام، حديث:3140.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 525
وعن أبي رافع رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث رجلا على الصدقة من بني مخزوم، فقال لأبي رافع: اصحبني، فإنك تصيب منها، فقال: لا حتى آتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأسأله فأتاه فسأله، فقال: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة» . رواه أحمد والثلاثة وابن خزيمة وابن حبان.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو زکٰوۃ کی وصولی پر مقرر فرمایا۔ اس نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو کہا کہ تم میرے ساتھ چلو تجھے اس میں سے کچھ حصہ مل جائے گا۔ اس نے کہا میں نہیں جاؤں گا تاوقتیکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قوم کا غلام بھی انہیں میں شمار ہوتا ہے اور ہمارے لئے صدقہ (زکٰوۃ) حلال نہیں ہے۔ “ اسے احمد اور تینوں نے روایت کی ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے بھی۔ [بلوغ المرام/حدیث: 525]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي رَافِعٍ» ابو رافع – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَعَثَ» نے بھیجا – «رَجُلًا» ایک آدمی کو – «عَلَى الصَّدَقَةِ» زکاۃ (کی وصولی) پر – «مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ» بنو مخزوم میں سے – «فَقَالَ» تو اس نے کہا – «لِأَبِي رَافِعٍ» ابو رافع سے: – «اصْحَبْنِي» میرے ساتھ چلو – «فَإِنَّكَ تُصِيبُ» کیونکہ تمہیں ملے گا – «مِنْهَا» اس میں سے – «فَقَالَ» تو انہوں نے کہا: – «لَا» نہیں – «حَتَّى آتِيَ» یہاں تک کہ میں آؤں – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَأَسْأَلَهُ» اور ان سے پوچھ لوں – «فَأَتَاهُ» پس وہ آپ کے پاس آئے – «فَسَأَلَهُ» اور آپ سے پوچھا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «مَوْلَى الْقَوْمِ» قوم کا آزاد کردہ غلام – «مِنْ أَنْفُسِهِمْ» انہی میں سے ہے – «وَإِنَّا» اور بے شک ہم – «لَا تَحِلُّ لَنَا» ہمارے لیے حلال نہیں – «الصَّدَقَةُ» صدقہ (زکاۃ)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَالثَّلَاثَةُ» اور تینوں نے – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، اس نے ابو رافع سے کہا: میرے ساتھ چلو، تمہیں بھی اس میں سے حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا: نہیں، جب تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے، اور ہمارے لیے صدقہ (زکاۃ) حلال نہیں۔“ اسے احمد، تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی)، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 525]
اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، اس نے ابو رافع سے کہا: میرے ساتھ چلو، تمہیں بھی اس میں سے حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا: نہیں، جب تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے، اور ہمارے لیے صدقہ (زکاۃ) حلال نہیں۔“ اسے احمد، تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی)، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب الصدقة علي بني هاشم، حديث:1650، والترمذي، الزكاة، حديث:657، والنسائي، الزكاة، حديث:2613، وأحمد:3 /448، 4 /320، وابن خزيمة:4 /58، حديث:2344، وابن حبان (الإحسان):5 /124، حديث:3282.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 526
وعن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يعطي عمر بن الخطاب العطاء، فيقول أعطه أفقر مني، فيقول: «خذه فتموله، أو تصدق به، وما جاءك من هذا المال، وأنت غير مشرف ولا سائل، فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك» .رواه مسلم.
سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز عطا فرماتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے کہ جو لوگ مجھ سے زیادہ غریب ہیں انہیں عطا فرما دیجئیے۔ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ”اسے لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو۔ جو مال بغیر خواہش اور مانگنے کے تمہارے پاس آئے اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاؤ۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 526]
«وَعَنْ» اور سے – «سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ» سالم بن عبداللہ بن عمر – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يُعْطِي» دیا کرتے تھے – «عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» عمر بن خطاب کو – «الْعَطَاءَ» عطیہ – «فَيَقُولُ» تو وہ کہتے: – «أَعْطِهِ» یہ اسے دے دیجیے جو – «أَفْقَرَ مِنِّي» مجھ سے زیادہ محتاج ہو – «فَيَقُولُ» تو آپ فرماتے: – «خُذْهُ» اسے لے لو – «فَتَمَوَّلْهُ» پس اسے اپنا مال بنا لو – «أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ» یا اسے صدقہ کر دو – «وَمَا جَاءَكَ» اور جو تمہارے پاس آئے – «مِنْ هَذَا الْمَالِ» اس مال میں سے – «وَأَنْتَ» درحالیکہ تم – «غَيْرُ مُشْرِفٍ» نہ اس کی طرف جھانکنے (لالچ کرنے) والے ہو – «وَلَا سَائِلٍ» اور نہ مانگنے والے – «فَخُذْهُ» تو اسے لے لو – «وَمَا لَا» اور جو ایسا نہ ہو – «فَلَا تُتْبِعْهُ» تو اس کے پیچھے نہ لگاؤ – «نَفْسَكَ» اپنے نفس کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیا کرتے تو وہ عرض کرتے: یہ اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو آپ فرماتے: ”اسے لے لو، پھر چاہو تو اپنا مال بنا لو یا صدقہ کر دو، اور اس مال میں سے جو کچھ تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تم اس کے لالچی ہو اور نہ مانگنے والے، تو اسے لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے دل کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 526]
اور سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیا کرتے تو وہ عرض کرتے: یہ اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو آپ فرماتے: ”اسے لے لو، پھر چاہو تو اپنا مال بنا لو یا صدقہ کر دو، اور اس مال میں سے جو کچھ تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تم اس کے لالچی ہو اور نہ مانگنے والے، تو اسے لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے دل کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب جواز الأخذ بغير سؤال ولا تطلع، حديث:1045.»
الحكم على الحديث:
صحيح