🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الزكاة)
(زکوٰۃ کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 503
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال في كنز وجده رجل في خربة: «‏‏‏‏إن وجدته في قرية مسكونة فعرفه وإن وجدته في قرية غير مسكونة ففيه وفي الركاز الخمس» أخرجه ابن ماجه بإسناد حسن.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خزانے کے بارے میں جو کسی آدمی کو ویرانے سے حاصل ہوا ہو (ملا ہو) فرمایا ”اگر تو نے یہ خزانہ کسی آباد جگہ سے پایا ہے تو اس کی تحقیق کیلئے اعلان کرو اور اگر تو نے کسی غیر آباد جگہ سے پایا ہے تو اس میں اور معدنیات میں (پانچواں حصہ) ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے حسن سند سے نکالا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 503]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» اپنے دادا سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا – «فِي كَنْزٍ» ایک خزانے کے بارے میں – «وَجَدَهُ» جسے پایا – «رَجُلٌ» ایک آدمی نے – «فِي خَرِبَةٍ» ایک ویرانے میں: – «إِنْ وَجَدْتَهُ» اگر تو نے اسے پایا – «فِي قَرْيَةٍ» کسی بستی میں – «مَسْكُونَةٍ» آباد – «فَعَرِّفْهُ» تو اس کا اعلان کر – «وَإِنْ وَجَدْتَهُ» اور اگر تو نے اسے پایا – «فِي قَرْيَةٍ» کسی بستی میں – «غَيْرِ مَسْكُونَةٍ» غیر آباد – «فَفِيهِ» تو اس میں – «وَفِي الرِّكَازِ» اور دفینے میں – «الْخُمُسُ» پانچواں حصہ ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ» حسن سند کے ساتھ۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خزانے کے بارے میں جسے ایک آدمی نے کسی ویرانے میں پایا تھا، فرمایا: ”اگر تم نے اسے کسی آباد بستی میں پایا ہے تو اس کا اعلان کرو، اور اگر کسی غیر آباد بستی میں پایا ہے تو اس میں اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: «قال المؤلف "أخرجه ابن ماجه" ولم أجده، وأخرجه أبوداود، اللقطة، حديث:1710، وصححه الحاكم:2 /56، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
وعن بلال بن الحارث رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أخذ من المعادن القبلية الصدقة. رواه أبو داود.
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل (جگہ کا نام) میں واقع کانوں سے زکوٰۃ وصول کی۔ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 504]
«وَعَنْ» اور سے – «بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ» بلال بن حارث – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَخَذَ» نے لی – «مِنَ الْمَعَادِنِ» کانوں سے – «الْقَبَلِيَّةِ» قبلیہ (نامی علاقے) کی – «الصَّدَقَةَ» زکاۃ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے۔
اور سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلیہ (علاقے) کی کانوں سے زکاۃ وصول کی۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3061.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب صدقة الفطر
صدقہ فطر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة. متفق عليه. ولابن عدي من وجه آخر والدارقطني بإسناد ضعيف: «‏‏‏‏أغنوهم عن الطواف في هذا اليوم» .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، بچے، بوڑھے سب پر صدقہ فطر واجب کیا ہے۔ ایک صاع (ٹوپا) کھجوروں سے یا ایک صاع جو سے اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز کیلئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (بخاری و مسلم) ابن عدی اور دارقطنی میں ضعیف سند سے ہے کہ اس روز غرباء کو در بدر پھرنے سے بے نیاز کر دو۔ [بلوغ المرام/حدیث: 505]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَرَضَ» فرض کیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «زَكَاةَ الْفِطْرِ» صدقۂ فطر کو – «صَاعًا» ایک صاع – «مِنْ تَمْرٍ» کھجور کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ شَعِيرٍ» جو کا – «عَلَى الْعَبْدِ» غلام پر – «وَالْحُرِّ» اور آزاد پر – «وَالذَّكَرِ» اور مرد پر – «وَالْأُنْثَى» اور عورت پر – «وَالصَّغِيرِ» اور چھوٹے پر – «وَالْكَبِيرِ» اور بڑے پر – «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں میں سے – «وَأَمَرَ بِهَا» اور اس کا حکم دیا – «أَنْ تُؤَدَّى» کہ ادا کیا جائے – «قَبْلَ خُرُوجِ» نکلنے سے پہلے – «النَّاسِ» لوگوں کے – «إِلَى الصَّلَاةِ» نماز (عید) کی طرف۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِابْنِ عَدِيٍّ» اور ابن عدی کی روایت میں ہے – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے – «وَالدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کی – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ: – «أَغْنُوهُمْ» انہیں بے نیاز کر دو – «عَنِ الطَّوَافِ» گھومنے (مانگنے) سے – «فِي هَذَا الْيَوْمِ» اس دن میں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے پر صدقۂ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا، اور حکم دیا کہ اسے لوگوں کے نماز (عید) کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ابن عدی نے ایک دوسری سند سے اور دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے: ”اس دن انہیں (فقراء کو) گھوم پھر کر مانگنے سے بے نیاز کر دو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب فرض صدقة الفطر،حديث:1503، ومسلم، الزكاة، باب زكاة الفطر علي المسلمين من التمر والشعير، حديث:984، وحديث "أغنوهم عن الطواف.." أخرجه ابن عدي:7 /2519، والدارقطني:2 /153، فيه أبومعشر نجيح السندي وهو ضعيف، وللحديث شواهد ضعيفة.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كنا نعطيها في زمن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صاعا من طعام أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من زبيب. متفق عليه. وفي رواية:" أو صاعا من أقط". قال أبو سعيد: أما أنا فلا أزال أخرجه كما كنت أخرجه في زمن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. ولأبي داود: لا أخرج أبدا إلا صاعا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم سے ایک صاع اور کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع اور کشمش (منقی) سے ایک صاع (فطرانہ) دیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ پنیر میں سے ایک صاع نکالا کرتے تھے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو ہمیشہ وہی مقدار نکالتا رہوں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ میں تو ہمیشہ ایک صاع ہی نکالوں گا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 506]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كُنَّا نُعْطِيهَا» ہم اسے (صدقۂ فطر) دیا کرتے تھے – «فِي زَمَنِ» زمانے میں – «النَّبِيِّ» نبی کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَاعًا» ایک صاع – «مِنْ طَعَامٍ» کھانے (غلے) کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ تَمْرٍ» کھجور کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ شَعِيرٍ» جو کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ زَبِيبٍ» منقیٰ کا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ أَقِطٍ» پنیر کا۔ – «قَالَ» کہا – «أَبُو سَعِيدٍ» ابو سعید نے: – «أَمَّا أَنَا» رہا میں – «فَلَا أَزَالُ» تو میں ہمیشہ – «أُخْرِجُهُ» اسے نکالتا رہوں گا – «كَمَا كُنْتُ» جیسے میں – «أُخْرِجُهُ» اسے نکالا کرتا تھا – «فِي زَمَنِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «لَا أُخْرِجُ» میں نہیں نکالوں گا – «أَبَدًا» کبھی بھی – «إِلَّا صَاعًا» مگر ایک صاع۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں صدقۂ فطر ایک صاع غلہ، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع منقیٰ دیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: ”یا ایک صاع پنیر۔“ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رہا میں، تو میں ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نکالا کرتا تھا۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے: میں کبھی بھی ایک صاع کے سوا (کم) نہیں نکالوں گا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب صاع من زبيب،حديث:1508، ومسلم، الزكاة، باب زكاة الفطر علي المسلمين من التمر والشعير، حديث:985، وأبوداود، الزكاة، حديث:1616-1618.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات. رواه أبو داود وابن ماجه وصححه الحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر (فطرانہ) روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کیلئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کیلئے مقرر کیا ہے۔ جو اسے نماز ادا کرنے سے پہلے ادا کر دے وہ مقبول ہے اور جو ادائیگی نماز کے بعد دیا جائے تو یہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 507]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَرَضَ» فرض کیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «زَكَاةَ الْفِطْرِ» صدقۂ فطر کو – «طُهْرَةً» پاکیزگی (کے طور پر) – «لِلصَّائِمِ» روزہ دار کے لیے – «مِنَ اللَّغْوِ» لغو (بے ہودہ باتوں) سے – «وَالرَّفَثِ» اور فحش گوئی سے – «وَطُعْمَةً» اور کھانا (کے طور پر) – «لِلْمَسَاكِينِ» مسکینوں کے لیے – «فَمَنْ أَدَّاهَا» پس جس نے اسے ادا کیا – «قَبْلَ الصَّلَاةِ» نماز سے پہلے – «فَهِيَ» تو وہ – «زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ» مقبول زکاۃ ہے – «وَمَنْ أَدَّاهَا» اور جس نے اسے ادا کیا – «بَعْدَ الصَّلَاةِ» نماز کے بعد – «فَهِيَ» تو وہ – «صَدَقَةٌ» ایک صدقہ ہے – «مِنَ الصَّدَقَاتِ» عام صدقات میں سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر کو روزہ دار کے لیے لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاکیزگی اور مسکینوں کے لیے کھانے کے طور پر فرض کیا۔ پس جس نے اسے نماز (عید) سے پہلے ادا کیا تو وہ مقبول زکاۃ ہے، اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ اسے ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب زكاة الفطر، حديث:1609، وابن ماجه، الزكاة، حديث:1827، والحاكم:1 /409.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب صدقة التطوع
نفلی صدقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله» ‏‏‏‏ فذكر الحديث وفيه: «‏‏‏‏ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات قسم کے آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ایسے روز میں سایہ عطا کریں گے کہ جس روز اس سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔“ پھر ساری حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ ”ان سات آدمیوں میں وہ آدمی بھی شامل ہے جو ایسے طریقہ سے مخفی طور پر صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہونے پائے کہ دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 508]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «سَبْعَةٌ» سات (آدمی) ہیں – «يُظِلُّهُمُ اللَّهُ» جنہیں اللہ سایہ دے گا – «فِي ظِلِّهِ» اپنے سائے میں – «يَوْمَ» اس دن – «لَا ظِلَّ» کوئی سایہ نہیں ہوگا – «إِلَّا ظِلُّهُ» سوائے اس کے سائے کے – «فَذَكَرَ» پھر ذکر کی – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «تَصَدَّقَ» جس نے صدقہ کیا – «بِصَدَقَةٍ» کوئی صدقہ – «فَأَخْفَاهَا» پھر اسے چھپایا – «حَتَّى لَا تَعْلَمَ» یہاں تک کہ نہ جانے – «شِمَالُهُ» اس کا بایاں ہاتھ – «مَا تُنْفِقُ» جو خرچ کرتا ہے – «يَمِينُهُ» اس کا دایاں ہاتھ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سات (قسم کے لوگ) ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”اور وہ آدمی جس نے کوئی صدقہ کیا تو اسے اس قدر چھپایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب الصدقة باليمين، حديث:1423، ومسلم، الزكاة، باب فضل إخفاء الصدقة، حديث:1031.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
وعن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏كل امرىء في ظل صدقته حتى يفصل بين الناس» ‏‏‏‏ رواه ابن حبان والحاكم.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”ہر آدمی اپنے صدقہ کے سایہ میں کھڑا ہو گا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے۔“ (ابن حبان و مستدرک حاکم) [بلوغ المرام/حدیث: 509]
«وَعَنْ» اور سے – «عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ» عقبہ بن عامر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «كُلُّ امْرِئٍ» ہر آدمی – «فِي ظِلِّ» سائے میں ہوگا – «صَدَقَتِهِ» اپنے صدقے کے – «حَتَّى يُفْصَلَ» یہاں تک کہ فیصلہ کر دیا جائے – «بَيْنَ النَّاسِ» لوگوں کے درمیان۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”(قیامت کے دن) ہر آدمی اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:817، والحاكم:1 /416 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي، وأحمد:4 /147، 148.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏أيما مسلم كسا مسلما ثوبا على عري كساه الله من خضر الجنة وأيما مسلم أطعم مسلما على جوع أطعمه الله من ثمار الجنة وأيما مسلم سقى مسلما على ظمإ سقاه الله من الرحيق المختوم» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وفي إسناده لين.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو مسلمان اپنے برہنہ بھائی کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے سبز ریشمی کپڑے پہنائے گا اور جو مسلمان اپنے کسی بھوکے مسلمان بھائی کو کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان اپنے پیاسے مسلمان بھائی کو پانی (یا مشروب) پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کی مہر بند پاکیزہ شراب پلائے گا۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔ اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 510]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «أَيُّمَا مُسْلِمٍ» جو بھی مسلمان – «كَسَا» پہنائے – «مُسْلِمًا» کسی مسلمان کو – «ثَوْبًا» کپڑا – «عَلَى عُرْيٍ» ننگے پن کی حالت میں – «كَسَاهُ اللَّهُ» اللہ اسے پہنائے گا – «مِنْ خُضْرِ» سبز (لباس) میں سے – «الْجَنَّةِ» جنت کے – «وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ» اور جو بھی مسلمان – «أَطْعَمَ» کھلائے – «مُسْلِمًا» کسی مسلمان کو – «عَلَى جُوعٍ» بھوک کی حالت میں – «أَطْعَمَهُ اللَّهُ» اللہ اسے کھلائے گا – «مِنْ ثِمَارِ» پھلوں میں سے – «الْجَنَّةِ» جنت کے – «وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ» اور جو بھی مسلمان – «سَقَى» پلائے – «مُسْلِمًا» کسی مسلمان کو – «عَلَى ظَمَإٍ» پیاس کی حالت میں – «سَقَاهُ اللَّهُ» اللہ اسے پلائے گا – «مِنَ الرَّحِيقِ» خالص شراب میں سے – «الْمَخْتُومِ» مہر لگی ہوئی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «لِينٌ» کمزوری ہے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے، اللہ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا، اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے، اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے، اللہ اسے مہر لگی ہوئی خالص شراب (رحیق مختوم) پلائے گا۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب في فضل سقي الماء، حديث:1682. *أبوخالد الدالاني مدلس وعنعن، وللحديث طريق آخر عندالترمذي، صفة القامية، حديث:2449 وسنده ضعيف جدًا باطل.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
وعن حكيم بن حزام رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏اليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول وخير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ومن يستعفف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ آغاز و ابتداء ان سے کر جن کی تو کفالت اور عیالداری کرتا ہے اور بہتر صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائے۔ جو شخص دست سوال دراز کرنے سے بچے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور جو استغناء کا مظاہرہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے مستغنی (بےپروا) کر دے گا۔“ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 511]
«وَعَنْ» اور سے – «حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ» حکیم بن حزام – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «الْيَدُ الْعُلْيَا» اوپر والا ہاتھ – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» نیچے والے ہاتھ سے – «وَابْدَأْ» اور شروع کر – «بِمَنْ تَعُولُ» ان سے جن کی تو کفالت کرتا ہے – «وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ» اور بہترین صدقہ – «مَا كَانَ» وہ ہے جو ہو – «عَنْ ظَهْرِ غِنًى» مالداری (ضرورت پوری کرنے) کے بعد – «وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ» اور جو (سوال سے) بچنا چاہے – «يُعِفَّهُ اللَّهُ» اللہ اسے بچا لیتا ہے – «وَمَنْ يَسْتَغْنِ» اور جو بے نیازی چاہے – «يُغْنِهِ اللَّهُ» اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے (لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے، اور (خرچ کرنے میں) ان سے شروع کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو، اور بہترین صدقہ وہ ہے جو (اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد) مالداری کی حالت میں ہو، اور جو (سوال سے) بچنا چاہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، اور جو بے نیازی چاہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب لا صدقة إلا عن ظهر غني، حديث:1427، ومسلم، الزكاة، باب بيان أن أفضل الصدقة صدقة الصحيح الشحيح، حديث:1034.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قيل: يا رسول الله أي الصدقة أفضل؟ قال: «‏‏‏‏جهد المقل وابدأ بمن تعول» . أخرجه أحمد وأبو داود وصححه ابن خزيمة وابن حبان والحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”کم مال والے کا صدقہ اور صدقہ کی ابتداء ان سے کر جن کی تو کفالت کرتا ہے۔“ اسے احمد، ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 512]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قِيلَ» عرض کیا گیا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَيُّ الصَّدَقَةِ» کون سا صدقہ – «أَفْضَلُ» افضل ہے؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «جُهْدُ الْمُقِلِّ» کم مال والے کی (اپنی) کوشش – «وَابْدَأْ» اور شروع کر – «بِمَنْ تَعُولُ» ان سے جن کی تو کفالت کرتا ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کم مال والے کا اپنی طاقت کے مطابق (مشقت اٹھا کر) صدقہ کرنا، اور ان سے شروع کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب في الرخصة في ذلك، حديث:1677، وأحمد:2 /358، 3 /412، وابن حبان (الإحسان):5 /144، حديث:333، والحاكم:1 /414، وابن خزيمة:4 /99، حديث:2444، 2451.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں