بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب صدقة التطوع
نفلی صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 513
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «تصدقوا» فقال رجل: يا رسول الله عندي دينار؟ قال: «تصدق به على نفسك» قال: عندي آخر قال: «تصدق به على ولدك» قال: عندي آخر قال: «تصدق به على خادمك» قال: عندي آخر قال: «أنت أبصر» . رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ و خیرات کرو“ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے تو اپنی ذات پر خرچ کر“ وہ بولا میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے اپنی اولاد پر صدقہ (خرچ) کر۔“ اس نے پھر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے اپنی اہلیہ پر صدقہ (خرچ) کر“ اس نے پھر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے اپنے خادم پر صدقہ (خرچ) کر“ وہ بولا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کے خرچ کرنے کی تجھے زیادہ سمجھ بوجھ ہے۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 513]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «تَصَدَّقُوا» صدقہ کرو – «فَقَالَ رَجُلٌ» تو ایک آدمی نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «عِنْدِي دِينَارٌ» میرے پاس ایک دینار ہے – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «تَصَدَّقْ بِهِ» اسے صدقہ کر – «عَلَى نَفْسِكَ» اپنے آپ پر – «قَالَ» اس نے کہا: – «عِنْدِي آخَرُ» میرے پاس ایک اور ہے – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «تَصَدَّقْ بِهِ» اسے صدقہ کر – «عَلَى وَلَدِكَ» اپنی اولاد پر – «قَالَ» اس نے کہا: – «عِنْدِي آخَرُ» میرے پاس ایک اور ہے – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «تَصَدَّقْ بِهِ» اسے صدقہ کر – «عَلَى خَادِمِكَ» اپنے خادم پر – «قَالَ» اس نے کہا: – «عِنْدِي آخَرُ» میرے پاس ایک اور ہے – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «أَنْتَ أَبْصَرُ» تو زیادہ بہتر جانتا ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو۔“ تو ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر خرچ کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی اولاد پر خرچ کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم پر خرچ کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(اب) تم بہتر جانتے ہو (کہ کہاں خرچ کرنا ہے)۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 513]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو۔“ تو ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر خرچ کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی اولاد پر خرچ کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم پر خرچ کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(اب) تم بہتر جانتے ہو (کہ کہاں خرچ کرنا ہے)۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب في صلة الرحم، حديث:1691، والنسائي، الزكاة، حديث:2536، وابن حبان (الإحسان):5 /141، حديث:3326، والحاكم:1 /415.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 514
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا أنفقت المرأة من طعام بيتها، غير مفسدة، كان لها أجرها بما أنفقت، ولزوجها أجره بما اكتسب، وللخازن مثل ذلك، لا ينقص بعضهم من أجر بعض شيئا» . متفق عليه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب عورت اپنے گھر کے مال سے فضول خرچی کئے بغیر خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کے بدلے میں اجر و ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کیلئے کمانے کا ثواب اور اسی طرح خزانچی کیلئے بھی اجر ہے ہر ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 514]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا أَنْفَقَتِ» جب خرچ کرے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «مِنْ طَعَامِ» کھانے میں سے – «بَيْتِهَا» اپنے گھر کے – «غَيْرَ مُفْسِدَةٍ» بگاڑ پیدا کیے بغیر – «كَانَ لَهَا» تو اس کے لیے ہے – «أَجْرُهَا» اس کا اجر – «بِمَا أَنْفَقَتْ» اس کے بدلے جو اس نے خرچ کیا – «وَلِزَوْجِهَا» اور اس کے شوہر کے لیے – «أَجْرُهُ» اس کا اجر – «بِمَا اكْتَسَبَ» اس کے بدلے جو اس نے کمایا – «وَلِلْخَازِنِ» اور خزانچی کے لیے – «مِثْلُ ذَلِكَ» اسی کی مثل – «لَا يَنْقُصُ» کم نہیں کرتا – «بَعْضُهُمْ» ان میں سے کوئی – «مِنْ أَجْرِ بَعْضٍ» دوسرے کے اجر میں سے – «شَيْئًا» کچھ بھی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے گھر کے کھانے میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرے اور بگاڑ (فضول خرچی) کا ارادہ نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا اجر ملے گا، اس کے شوہر کو کمانے کا اجر ملے گا، اور خزانچی کو بھی اسی طرح اجر ملے گا، ان میں سے کوئی دوسرے کے اجر میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 514]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے گھر کے کھانے میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرے اور بگاڑ (فضول خرچی) کا ارادہ نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا اجر ملے گا، اس کے شوہر کو کمانے کا اجر ملے گا، اور خزانچی کو بھی اسی طرح اجر ملے گا، ان میں سے کوئی دوسرے کے اجر میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب أجر المرأة إذا تصدقتـ حديث:1441، ومسلم، الزكاة، باب أجرالخازن الأمين، حديث:1024.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 515
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: جاءت زينب امرأة ابن مسعود فقالت: يا رسول الله! إنك أمرت اليوم بالصدقة، وكان عندي حلي لي، فأردت أن أتصدق به، فزعم ابن مسعود أنه وولده أحق من تصدقت به عليهم؟ قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «صدق ابن مسعود، زوجك وولدك أحق من تصدقت به عليهم» . رواه البخاري.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے آج صدقہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ میرے پاس میرا ذاتی زیور ہے میں اسے صدقہ کرنا چاہتی ہوں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ وہ اور ان کی اولاد میرے صدقے کے زیادہ حقدار ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابن مسعود نے ٹھیک کہا ہے، تیرا شوہر اور اس کی اولاد تیرے صدقے کے زیادہ مستحق ہیں۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 515]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «جَاءَتْ» آئیں – «زَيْنَبُ» زینب – «امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود کی بیوی – «فَقَالَتْ» تو انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّكَ أَمَرْتَ» بے شک آپ نے حکم دیا – «الْيَوْمَ» آج – «بِالصَّدَقَةِ» صدقے کا – «وَكَانَ عِنْدِي» اور میرے پاس تھا – «حُلِيٌّ لِي» میرا کچھ زیور – «فَأَرَدْتُ» تو میں نے ارادہ کیا – «أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ» کہ میں اسے صدقہ کر دوں – «فَزَعَمَ» تو خیال ظاہر کیا – «ابْنُ مَسْعُودٍ» ابن مسعود نے – «أَنَّهُ وَوَلَدَهُ» کہ وہ اور ان کی اولاد – «أَحَقُّ» زیادہ حق دار ہیں – «مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ» ان سب سے جن پر میں اسے صدقہ کروں؟ – «قَالَ» فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَدَقَ» سچ کہا – «ابْنُ مَسْعُودٍ» ابن مسعود نے – «زَوْجُكِ» تیرا شوہر – «وَوَلَدُكِ» اور تیری اولاد – «أَحَقُّ» زیادہ حق دار ہیں – «مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ» ان سب سے جن پر تو صدقہ کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آج آپ نے صدقے کا حکم دیا ہے، اور میرے پاس میرا کچھ زیور تھا جسے میں نے صدقہ کرنے کا ارادہ کیا، تو ابن مسعود کا خیال ہے کہ وہ اور ان کی اولاد اس صدقے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن مسعود نے سچ کہا، تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد تمہارے صدقے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 515]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آج آپ نے صدقے کا حکم دیا ہے، اور میرے پاس میرا کچھ زیور تھا جسے میں نے صدقہ کرنے کا ارادہ کیا، تو ابن مسعود کا خیال ہے کہ وہ اور ان کی اولاد اس صدقے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن مسعود نے سچ کہا، تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد تمہارے صدقے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب الزكاة علي الأقارب، حديث:1462.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 516
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ما يزال الرجل يسأل الناس، حتى يأتي يوم القيامة، وليس في وجهه مزعة لحم» .متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ گداگری اور بھیک مانگنے کو پیشہ ہی بنا لیتے ہیں قیامت کے روز ایسی حالت میں آئیں گے کہ ان کے چہرے پر گوشت نہیں ہو گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 516]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَا يَزَالُ» ہمیشہ رہتا ہے – «الرَّجُلُ» آدمی – «يَسْأَلُ النَّاسَ» لوگوں سے مانگتا – «حَتَّى يَأْتِيَ» یہاں تک کہ وہ آئے گا – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن – «وَلَيْسَ» اور نہیں ہوگا – «فِي وَجْهِهِ» اس کے چہرے پر – «مُزْعَةُ لَحْمٍ» گوشت کا ایک ٹکڑا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 516]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب من سأل الناس تكثرًا، حديث:1474، ومسلم، الزكاة، باب كراهة المسألة للناس، حديث:1040.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 517
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من سأل الناس أموالهم تكثرا، فإنما يسأل جمرا، فليستقل أو ليستكثر» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی اپنا مال بڑھانے اور زیادہ کرنے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے تو ایسا آدمی اپنے لئے انگاروں کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگتا۔ (اب اس کی مرضی ہے) چاہے انہیں کم کر لے چاہے زیادہ۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 517]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ سَأَلَ» جس نے مانگا – «النَّاسَ» لوگوں سے – «أَمْوَالَهُمْ» ان کے مال – «تَكَثُّرًا» مال بڑھانے کے لیے – «فَإِنَّمَا يَسْأَلُ» تو یقیناً وہ مانگتا ہے – «جَمْرًا» انگارے – «فَلْيَسْتَقِلَّ» پس چاہے کم مانگے – «أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ» یا زیادہ مانگے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے ان کے مال مانگتا ہے تو وہ درحقیقت (جہنم کے) انگارے مانگتا ہے، اب چاہے وہ کم مانگے یا زیادہ۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 517]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے ان کے مال مانگتا ہے تو وہ درحقیقت (جہنم کے) انگارے مانگتا ہے، اب چاہے وہ کم مانگے یا زیادہ۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب كراهة المسألة للناس، حديث:1041.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 518
وعن الزبير بن العوام رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لأن يأخذ أحدكم حبله، فيأتي بحزمة من الحطب على ظهره، فيبيعها، فيكف الله بها وجهه، خير له من أن يسأل الناس، أعطوه أو منعوه» . رواه البخاري.
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا جنگل سے اپنی پشت پر اٹھا کر لائے پھر اسے فروخت کر دے تو (اللہ تعالیٰ) اس وجہ سے اس کے چہرے کو مانگنے سے روک دیتا ہے۔ یہ (کام) اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے اور لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 518]
«وَعَنِ» اور سے – «الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ» زبیر بن عوام – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «لَأَنْ يَأْخُذَ» البتہ یہ کہ لے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «حَبْلَهُ» اپنی رسی – «فَيَأْتِيَ» پھر لائے – «بِحُزْمَةٍ» ایک گٹھا – «مِنَ الْحَطَبِ» لکڑیوں کا – «عَلَى ظَهْرِهِ» اپنی پیٹھ پر – «فَيَبِيعَهَا» پھر اسے بیچے – «فَيَكُفَّ اللَّهُ» پس اللہ روک دے – «بِهَا» اس کے ذریعے – «وَجْهَهُ» اس کے چہرے کو (سوال کی ذلت سے) – «خَيْرٌ لَهُ» اس کے لیے بہتر ہے – «مِنْ أَنْ يَسْأَلَ» اس سے کہ وہ مانگے – «النَّاسَ» لوگوں سے – «أَعْطَوْهُ» وہ اسے دیں – «أَوْ مَنَعُوهُ» یا انکار کر دیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لائے اور اسے بیچے، جس کے ذریعے اللہ اس کے چہرے کو (سوال کی ذلت سے) بچا لے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 518]
اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لائے اور اسے بیچے، جس کے ذریعے اللہ اس کے چہرے کو (سوال کی ذلت سے) بچا لے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب الاستعفاف عن المسألة، حديث:1471.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 519
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «المسألة كد يكد بها الرجل وجهه إلا أن يسأل الرجل سلطانا أو في أمر لا بد منه» . رواه الترمذي وصححه.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوال کرنا ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ شخص سربراہ مملکت سے سوال کرے یا کسی مجبوری کی وجہ سے (مانگے)۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 519]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «كَدٌّ» ایک خراش (زخم) ہے – «يَكُدُّ بِهَا» جس سے نوچتا (زخمی کرتا) ہے – «الرَّجُلُ» آدمی – «وَجْهَهُ» اپنے چہرے کو – «إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ» مگر یہ کہ مانگے – «الرَّجُلُ» آدمی – «سُلْطَانًا» حاکم سے – «أَوْ فِي أَمْرٍ» یا کسی ایسے معاملے میں – «لَا بُدَّ مِنْهُ» جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے (اپنا حق) مانگے یا کسی ایسے معاملے میں مانگے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 519]
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے (اپنا حق) مانگے یا کسی ایسے معاملے میں مانگے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الزكاة، باب ما جاء في النهي عن المسألة، حديث:681.»
الحكم على الحديث:
صحيح
4. باب قسم الصدقات
صدقات کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 520
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة: لعامل عليها، أو رجل اشتراها بماله، أو غارم، أو غاز في سبيل الله، أو مسكين تصدق عليه منها فأهدى منها لغني» . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه، وصححه الحاكم وأعل بالإرسال.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے پانچ قسم کے مالداروں کے۔ زکوٰۃ کا مال اکٹھا کرنے والا، وہ شخص جو اپنے مال سے صدقے کی کوئی چیز خریدے، مقروض، فی سبیل اللہ جہاد کرنے والا اور، مسکین کو جو صدقے میں ملے وہ اس میں سے کچھ مالدار کو تحفے کے طور پر دیدے۔“
اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اسے مرسل ہونے سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 520]
اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اسے مرسل ہونے سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 520]
«عَنْ» سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «الصَّدَقَةُ» زکاۃ – «لِغَنِيٍّ» کسی مالدار کے لیے – «إِلَّا لِخَمْسَةٍ» مگر پانچ (قسم کے لوگوں) کے لیے: – «لِعَامِلٍ عَلَيْهَا» اس پر کام کرنے والے (عامل) کے لیے – «أَوْ رَجُلٍ» یا وہ آدمی – «اشْتَرَاهَا» جس نے اسے خریدا – «بِمَالِهِ» اپنے مال سے – «أَوْ غَارِمٍ» یا قرض دار – «أَوْ غَازٍ» یا جہاد کرنے والا – «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں – «أَوْ مِسْكِينٍ» یا وہ مسکین – «تُصُدِّقَ عَلَيْهِ» جس پر صدقہ کیا گیا – «مِنْهَا» اس میں سے – «فَأَهْدَى» پھر اس نے ہدیہ کر دیا – «مِنْهَا» اس میں سے – «لِغَنِيٍّ» کسی مالدار کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَأُعِلَّ» اور اسے معلول کہا گیا – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں سوائے پانچ کے: زکاۃ کی وصولی پر مقرر عامل، یا وہ آدمی جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا، یا قرض دار، یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، یا وہ مسکین جس پر زکاۃ کا صدقہ کیا گیا اور اس نے اس میں سے کسی مالدار کو ہدیہ دے دیا۔“ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 520]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں سوائے پانچ کے: زکاۃ کی وصولی پر مقرر عامل، یا وہ آدمی جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا، یا قرض دار، یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، یا وہ مسکین جس پر زکاۃ کا صدقہ کیا گیا اور اس نے اس میں سے کسی مالدار کو ہدیہ دے دیا۔“ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب من يجوز له أخذ الصدقة، وهو غني، حديث: 1636، وابن ماجه، الزكاة، حديث:1841، وأحمد:2 /164، 3 /31، 40، 56، 97، والحاكم:1 /407، 408، والعلة مردودة.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 521
وعن عبيد الله بن عدي بن الخيار رضي الله عنه أن رجلين حدثاه: أنهما أتيا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسألانه من الصدقة، فقلب فيهما البصر، فرآهما جلدين، فقال: «إن شئتما أعطيتكما، ولا حظ فيها لغني، ولا لقوي مكتسب» رواه أحمد وقواه وأبو داود والنسائي.
سیدنا عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ان کو اپنا واقعہ سنایا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقے کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ایک نظر اٹھا کر اوپر سے نیچے تک دیکھا تو دونوں کو طاقتور پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم چاہتے ہو تو تم کو صدقہ دے دیتا ہوں، مگر مالدار اور صحت مند کماؤ آدمی کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں۔“
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد اور نسائی نے اسے قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 521]
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد اور نسائی نے اسے قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 521]
«وَعَنْ» اور سے – «عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ» عبید اللہ بن عدی بن خیار – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَجُلَيْنِ» کہ دو آدمیوں نے – «حَدَّثَاهُ» انہیں بیان کیا – «أَنَّهُمَا أَتَيَا» کہ وہ دونوں آئے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْأَلَانِهِ» آپ سے مانگتے ہوئے – «مِنَ الصَّدَقَةِ» زکاۃ میں سے – «فَقَلَّبَ» تو آپ نے پھیری (اوپر نیچے کی) – «فِيهِمَا» ان دونوں میں – «الْبَصَرَ» نظر – «فَرَآهُمَا» پس انہیں دیکھا – «جَلْدَيْنِ» طاقتور – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «إِنْ شِئْتُمَا» اگر تم دونوں چاہو – «أَعْطَيْتُكُمَا» تو میں تمہیں دے دیتا ہوں – «وَلَا حَظَّ» اور کوئی حصہ نہیں – «فِيهَا» اس میں – «لِغَنِيٍّ» کسی مالدار کے لیے – «وَلَا لِقَوِيٍّ» اور نہ کسی طاقتور – «مُكْتَسِبٍ» کمانے والے کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَقَوَّاهُ» اور اسے قوی کہا – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے انہیں بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زکاۃ میں سے مانگنے آئے، تو آپ نے ان پر اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی اور انہیں تندرست و توانا دیکھا، تو فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی مالدار اور کمانے کی طاقت رکھنے والے تندرست آدمی کا کوئی حصہ نہیں۔“ اسے احمد نے روایت کیا اور قوی کہا ہے، اور ابو داود اور نسائی نے (بھی روایت کیا ہے)۔ [بلوغ المرام/حدیث: 521]
اور عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے انہیں بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زکاۃ میں سے مانگنے آئے، تو آپ نے ان پر اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی اور انہیں تندرست و توانا دیکھا، تو فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی مالدار اور کمانے کی طاقت رکھنے والے تندرست آدمی کا کوئی حصہ نہیں۔“ اسے احمد نے روایت کیا اور قوی کہا ہے، اور ابو داود اور نسائی نے (بھی روایت کیا ہے)۔ [بلوغ المرام/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب من يعطي من الصدقة وحد الغني، حديث:1633، وأحمد:4 /224، والنسائي، الزكاة، حديث:2599.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 522
وعن قبيصة بن مخارق الهلالي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة، فحلت له المسألة حتى يصيبها، ثم يمسك، ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله، فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش، ورجل أصابته فاقة، حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجى من قومه: لقد أصابت فلانا فاقة، فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحت، يأكلها صاحبها سحتا» . رواه مسلم وأبو داود وابن خزيمة وابن حبان.
سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لیے حلال ہے۔ ایک وہ شخص جو کسی کا بوجھ اٹھا لیتا ہے یہاں تک کہ اس کا قرض وغیرہ ادا ہو جائے پھر وہ سوال کرنے سے باز آ جائے اور دوسرا وہ جو کسی ناگہانی مصیبت میں پھنس گیا ہو اور اس کا مال تباہ و برباد ہو گیا ہو۔ اسے گزر اوقات کی حد تک سوال کرنا جائز ہے۔ تیسرا وہ شخص جسے فاقے آ رہے ہوں اور اس کی قوم کے تین صاحب عقل آدمی اس کی شہادت دیں کہ واقعی اسے فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ اسے بھی گزر اوقات کی حد تک سوال کرنا جائز ہے اور ان کے علاوہ اے قبیصہ! سوال حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ (مسلم، ابوداؤد، ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان) [بلوغ المرام/حدیث: 522]
«وَعَنْ» اور سے – «قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ» قبیصہ بن مخارق ہلالی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الْمَسْأَلَةَ» بے شک مانگنا – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ» مگر تین میں سے ایک کے لیے: – «رَجُلٌ» وہ آدمی – «تَحَمَّلَ» جس نے اٹھا لیا – «حَمَالَةً» کوئی (صلح کا) مالی بوجھ – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «حَتَّى يُصِيبَهَا» یہاں تک کہ وہ اسے پا لے – «ثُمَّ يُمْسِكُ» پھر رک جائے – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ» جسے پہنچی – «جَائِحَةٌ» کوئی آفت – «اجْتَاحَتْ» جس نے تباہ کر دیا – «مَالَهُ» اس کا مال – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «حَتَّى يُصِيبَ» یہاں تک کہ وہ پا لے – «قِوَامًا» گزارے کا سامان – «مِنْ عَيْشٍ» زندگی کا – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ» جسے پہنچا – «فَاقَةٌ» فاقہ – «حَتَّى يَقُولَ» یہاں تک کہ کہیں – «ثَلَاثَةٌ» تین (آدمی) – «مِنْ ذَوِي الْحِجَى» عقل مندوں میں سے – «مِنْ قَوْمِهِ» اس کی قوم کے – «لَقَدْ أَصَابَتْ» یقیناً پہنچا ہے – «فُلَانًا» فلاں کو – «فَاقَةٌ» فاقہ – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «حَتَّى يُصِيبَ» یہاں تک کہ وہ پا لے – «قِوَامًا» گزارے کا سامان – «مِنْ عَيْشٍ» زندگی کا – «فَمَا سِوَاهُنَّ» پس ان کے سوا جو – «مِنَ الْمَسْأَلَةِ» مانگنا ہے – «يَا قَبِيصَةُ» اے قبیصہ! – «سُحْتٌ» حرام ہے – «يَأْكُلُهَا» اسے کھاتا ہے – «صَاحِبُهَا» اس کا مرتکب – «سُحْتًا» حرام (کے طور پر)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (لوگوں میں صلح کے لیے) کوئی مالی ذمہ داری اٹھا لی، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آئی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا سامان حاصل کر لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی گواہی دیں کہ فلاں فاقے کا شکار ہو گیا ہے، تو اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا سامان حاصل کر لے۔ اے قبیصہ! ان کے علاوہ مانگنا حرام ہے، مانگنے والا اسے حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“ اسے مسلم، ابو داود، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 522]
اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (لوگوں میں صلح کے لیے) کوئی مالی ذمہ داری اٹھا لی، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آئی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا سامان حاصل کر لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی گواہی دیں کہ فلاں فاقے کا شکار ہو گیا ہے، تو اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا سامان حاصل کر لے۔ اے قبیصہ! ان کے علاوہ مانگنا حرام ہے، مانگنے والا اسے حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“ اسے مسلم، ابو داود، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب من تحل له الصدقة، حديث:1044، وأبوداود، الزكاة، حديث:1640، وابن خزيمة:4 /65، حديث:2360، وابن حبان(الإحسان1):5 /168، حديث:3387.»
الحكم على الحديث:
صحيح