🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الاعتكاف وقيام رمضان
اعتکاف اور قیام رمضان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قلت: يا رسول الله أرأيت إن علمت أي ليلة ليلة القدر ما أقول فيها؟ قال: «‏‏‏‏قولي: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» . رواه الخمسة غير أبي داود وصححه الترمذي والحاكم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مجھے بتلائیں کہ اگر میں جان لوں، شب قدر کون سی ہے تو اس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہہ «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» ”اے اللہ! بیشک تو ہی درگزر کرنے والا ہے، تو درگزر کرنا پسند کرتا ہے، مجھ سے درگزر فرما۔“ اسے ابوداؤد کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور اسے ترمذی اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 577]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَرَأَيْتَ» آپ کا کیا خیال ہے – «إِنْ عَلِمْتُ» اگر میں جان لوں – «أَيُّ لَيْلَةٍ» کون سی رات – «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» شب قدر ہے – «مَا أَقُولُ فِيهَا» تو میں اس میں کیا کہوں؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «قُولِي» کہو: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «إِنَّكَ عَفُوٌّ» بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے – «تُحِبُّ الْعَفْوَ» معاف کرنے کو پسند کرتا ہے – «فَاعْفُ عَنِّي» پس مجھے معاف فرما دے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «غَيْرَ أَبِي دَاوُدَ» سوائے ابو داود کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہو: اللّٰھم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی (اے اللہ! تو بہت معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے)۔“ اسے ابو داود کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الدعوات، باب 85، حديث:3513 وقال: "حسن صحيح"، وابن ماجه، الدعاء، حديث:3850، وأحمد:6 /171، والحاكم:1 /530، والنسائي في الكبرٰي، حديث:872 وغيره.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 578
وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى» . متفق عليه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوائے تین مسجدوں کے (کسی کے لئے) کجاوے نہ باندھو۔ (یعنی) مسجد الحرام، میری اس مسجد اور مسجد اقصی (کے علاوہ)۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 578]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تُشَدُّ» نہ باندھے جائیں – «الرِّحَالُ» کجاوے – «إِلَّا إِلَى» مگر کی طرف – «ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ» تین مسجدوں – «الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» مسجد حرام – «وَمَسْجِدِي هَذَا» اور میری یہ مسجد – «وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى» اور مسجد اقصیٰ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین مسجدوں کے سوا (کسی جگہ کی زیارت کے لیے ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے: مسجد حرام، میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 578]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، باب مسجد بيت المقدس، حديث:1197، ومسلم، الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلي حج وغيره، حديث:827-(3261.)»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں