🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الصيام)
(روزے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
وعن حمزة بن عمرو الأسلمي رضي الله عنه أنه قال: يا رسول الله أجد بي قوة على الصيام في السفر فهل علي جناح؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏هي رخصة من الله فمن أخذ بها فحسن ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه» . رواه مسلم وأصله في المتفق عليه من حديث عائشة،‏‏‏‏ أن حمزة بن عمرو سأل.
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں (اگر میں روزہ رکھ لوں) تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اس کو لے لے تو بہتر ہے اور جو کوئی روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔“ (مسلم) اور اس حدیث کا اصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی متفق علیہ حدیث میں یوں ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 547]
«وَعَنْ» اور سے – «حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ» حمزہ بن عمرو اسلمی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ قَالَ» کہ انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَجِدُ بِي» میں اپنے اندر پاتا ہوں – «قُوَّةً» طاقت – «عَلَى الصِّيَامِ» روزہ رکھنے کی – «فِي السَّفَرِ» سفر میں – «فَهَلْ عَلَيَّ» تو کیا مجھ پر – «جُنَاحٌ» کوئی گناہ ہے؟ – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «هِيَ» یہ – «رُخْصَةٌ» ایک رخصت ہے – «مِنَ اللَّهِ» اللہ کی طرف سے – «فَمَنْ أَخَذَ بِهَا» پس جس نے اسے اختیار کیا – «فَحَسَنٌ» تو اچھا ہے – «وَمَنْ أَحَبَّ» اور جس نے پسند کیا – «أَنْ يَصُومَ» کہ روزہ رکھے – «فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ» متفق علیہ (روایت) میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «أَنَّ» کہ – «حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو» حمزہ بن عمرو نے – «سَأَلَ» سوال کیا۔
اور سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا مجھ پر (روزہ رکھنے میں) کوئی گناہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے، جس نے اسے اختیار کیا تو اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل متفق علیہ روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہے کہ سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 547]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيام، باب التخييرفي الصوم والفطر في السفر، حديث:1121، وأصله في البخاري، الصوم، حديث:1943، ومسلم، الصيام، حديث:1121 من حديث عائشة رضي الله عنها.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: رخص للشيخ الكبير أن يفطر ويطعم عن كل يوم مسكينا ولا قضاء عليه. رواه الدراقطني والحاكم وصححاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بڑی عمر والے بوڑھے کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ افطار کرے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور اس پر قضاء نہیں ہے۔ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 548]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رُخِّصَ» رخصت دی گئی – «لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ» بہت بوڑھے آدمی کو – «أَنْ يُفْطِرَ» کہ وہ روزہ نہ رکھے – «وَيُطْعِمَ» اور کھانا کھلائے – «عَنْ كُلِّ يَوْمٍ» ہر دن کے بدلے – «مِسْكِينًا» ایک مسکین کو – «وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ» اور اس پر کوئی قضا نہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَاهُ» اور دونوں نے اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بہت بوڑھے آدمی کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے، اور اس پر کوئی قضا نہیں۔ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:2 /205، وقال: "هذا إسناد صحيح"، والحاكم:1 /440 وصححه علي شرط البخاري، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: هلكت يا رسول الله قال: «‏‏‏‏وما أهلكك؟» ‏‏‏‏ قال: وقعت على امرأتي في رمضان فقال: «‏‏‏‏هل تجد ما تعتق رقبة؟» ‏‏‏‏ قال: لا،‏‏‏‏ قال: «فهل تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين؟» ‏‏‏‏ قال: لا،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏فهل تجد ما تطعم ستين مسكينا؟» ‏‏‏‏ قال: لا،‏‏‏‏ ثم جلس فأتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعرق فيه تمر فقال:«‏‏‏‏تصدق بهذا» ‏‏‏‏ فقال: أعلى أفقر منا؟ فما بين لابتيها أهل بيت أحوج منا فضحك النبي صلى الله عليه وآله وسلم حتى بدت أنيابه ثم قال: «‏‏‏‏اذهب فأطعمه أهلك» .‏‏‏‏ رواه السبعة واللفظ لمسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کس چیز نے تجھے ہلاک کیا؟“ اس نے کہا میں رمضان میں اپنی عورت سے مباشرت کر بیٹھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تجھ میں اتنی طاقت ہے کہ ایک گردن کو آزاد کر دے؟“ اس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے متواتر روزے رکھے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تیرے پاس اتنا مال ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے؟“ اس نے کہا نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان کو خیرات کر دو۔“ اس نے کہا کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (خیرات کروں)؟ کیونکہ دو سنگلاخ پہاڑوں (مدینہ) کے مابین کوئی گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاؤ اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ اسے ساتوں نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 549]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «جَاءَ رَجُلٌ» ایک آدمی آیا – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «هَلَكْتُ» میں ہلاک ہو گیا – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «وَمَا أَهْلَكَكَ» اور تجھے کس چیز نے ہلاک کیا؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «وَقَعْتُ» میں جا پڑا (صحبت کر لی) – «عَلَى امْرَأَتِي» اپنی بیوی پر – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «هَلْ تَجِدُ» کیا تو پاتا ہے – «مَا تُعْتِقُ» جس سے تو آزاد کرے – «رَقَبَةً» ایک گردن (غلام)؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ» تو کیا تو طاقت رکھتا ہے – «أَنْ تَصُومَ» کہ تو روزے رکھے – «شَهْرَيْنِ» دو مہینے کے – «مُتَتَابِعَيْنِ» لگاتار؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَهَلْ تَجِدُ» تو کیا تو پاتا ہے – «مَا تُطْعِمُ» جس سے تو کھانا کھلائے – «سِتِّينَ مِسْكِينًا» ساٹھ مسکینوں کو؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «ثُمَّ جَلَسَ» پھر وہ بیٹھ گیا – «فَأُتِيَ» پھر لایا گیا – «النَّبِيُّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِعَرَقٍ» ایک بڑا ٹوکرا – «فِيهِ تَمْرٌ» جس میں کھجوریں تھیں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «تَصَدَّقْ بِهَذَا» اسے صدقہ کر دو – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «أَعَلَى» کیا (اس پر صدقہ کروں) جو – «أَفْقَرَ مِنَّا» ہم سے زیادہ فقیر ہو؟ – «فَمَا بَيْنَ» پس نہیں ہے درمیان – «لَابَتَيْهَا» اس (مدینہ) کے دونوں پتھریلے کناروں کے – «أَهْلُ بَيْتٍ» کوئی گھرانہ – «أَحْوَجُ» زیادہ محتاج – «مِنَّا» ہم سے – «فَضَحِكَ» تو ہنس پڑے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَتَّى بَدَتْ» یہاں تک کہ ظاہر ہو گئیں – «أَنْيَابُهُ» آپ کی کچلیاں (داڑھیں) – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «اذْهَبْ» جاؤ – «فَأَطْعِمْهُ» اور اسے کھلا دو – «أَهْلَكَ» اپنے گھر والوں کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «السَّبْعَةُ» ساتوں نے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: میں نے رمضان میں (روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ایک غلام آزاد کرنے کی گنجائش ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: کیا اپنے سے زیادہ فقیر پر؟ مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں، پھر فرمایا: ”جاؤ، اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ اسے ساتوں (احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب إذا جامع في رمضان...، حديث:1936، ومسلم، الصيام، باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان علي الصائم، حديث:1111، وأبوداود، الصيام، حديث:2390-2393، والترمذي، الصوم، حديث:724، وابن ماجه، الصيام، حديث:1671، والنسائي في الكبرٰ:2 /212، حديث:3117، وأحمد:2 /208، 241، 273، 281، 516.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
وعن عائشة وأم سلمة رضي الله عنهما،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يصبح جنبا من جماع ثم يغتسل ويصوم. متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد مسلم في حديث أم سلمة:" ولا يقضي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جماع سے جنبی ہوتے تو صبح ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور روزہ رکھتے۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ زائد کیا کہ قضاء نہیں دیتے تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 550]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «وَأُمِّ سَلَمَةَ» اور ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يُصْبِحُ» صبح کرتے تھے – «جُنُبًا» جنابت کی حالت میں – «مِنْ جِمَاعٍ» صحبت کی وجہ سے – «ثُمَّ يَغْتَسِلُ» پھر غسل کرتے – «وَيَصُومُ» اور روزہ رکھتے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «فِي حَدِيثِ» کی حدیث میں – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «وَلَا يَقْضِي» اور آپ قضا نہیں کرتے تھے۔
اور سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بعض اوقات) صحبت کی وجہ سے جنابت کی حالت میں صبح کرتے، پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور آپ (اس روزے کی) قضا نہیں کرتے تھے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب الصائم يصبح جنبًا، حديث:1925، 1926، ومسلم، الصيام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب، حديث:1109.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 551
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من مات وعليه صيام صام عنه وليه» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزہ لازم ہو تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 551]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ مَاتَ» جو مر گیا – «وَعَلَيْهِ» اور اس پر (باقی) تھے – «صِيَامٌ» روزے – «صَامَ عَنْهُ» اس کی طرف سے روزے رکھے – «وَلِيُّهُ» اس کا ولی (وارث)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب من مات وعليه صوم، حديث:1952، ومسلم، الصيام، باب قضاء الصيام عن الميت، حديث:1147.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب صوم التطوع وما نهي عن صومه
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 552
عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سئل عن صوم يوم عرفة فقال: «‏‏‏‏يكفر السنة الماضية والباقية» ‏‏‏‏ وسئل عن صوم يوم عاشوراء فقال: «‏‏‏‏يكفر السنة الماضية» ‏‏‏‏ وسئل عن صوم يوم الاثنين فقال: «‏‏‏‏ذلك يوم ولدت فيه ويوم بعثت فيه أو أنزل علي فيه» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ (نو ذوالحج) کے دن روزہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”(یہ روزہ) گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہ دور کر دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ گزشتہ سال کے گناہ دور کر دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ ”اس دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھے نبوت دی گئی اور اسی دن مجھ پر قرآن اتارا گیا۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 552]
«عَنْ» سے – «أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ» ابو قتادہ انصاری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «سُئِلَ» سے پوچھا گیا – «عَنْ صَوْمِ» روزے کے بارے میں – «يَوْمِ عَرَفَةَ» عرفہ کے دن کے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «يُكَفِّرُ» یہ مٹا دیتا ہے (گناہ) – «السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ» گزشتہ سال کے – «وَالْبَاقِيَةَ» اور آئندہ (سال) کے – «وَسُئِلَ» اور پوچھا گیا – «عَنْ صَوْمِ» روزے کے بارے میں – «يَوْمِ عَاشُورَاءَ» عاشوراء کے دن کے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «يُكَفِّرُ» یہ مٹا دیتا ہے – «السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ» گزشتہ سال (کے گناہ) – «وَسُئِلَ» اور پوچھا گیا – «عَنْ صَوْمِ» روزے کے بارے میں – «يَوْمِ الِاثْنَيْنِ» سوموار کے دن کے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «ذَلِكَ يَوْمٌ» یہ وہ دن ہے – «وُلِدْتُ فِيهِ» جس میں میں پیدا ہوا – «وَيَوْمٌ» اور وہ دن ہے – «بُعِثْتُ فِيهِ» جس میں مجھے مبعوث کیا گیا – «أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ» یا جس میں مجھ پر (وحی) نازل کی گئی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ گزشتہ اور آئندہ سال (کے گناہوں) کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ اور عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ گزشتہ سال (کے گناہوں) کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ اور سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، یا (فرمایا) جس میں مجھ پر (وحی) نازل کی گئی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر، حديث:1162.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
وعن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کوئی رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے یہ عمل سارے سال (روزے رکھنے) کی مانند ہو گا۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 553]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ» ابو ایوب انصاری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ صَامَ» جس نے روزے رکھے – «رَمَضَانَ» رمضان کے – «ثُمَّ أَتْبَعَهُ» پھر اس کے پیچھے لگائے – «سِتًّا» چھ (روزے) – «مِنْ شَوَّالٍ» شوال کے – «كَانَ» تو یہ ہوگا – «كَصِيَامِ» روزے رکھنے کی طرح – «الدَّهْرِ» پورے زمانے (سال) کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے سال (ہمیشہ) روزے رکھنے کی طرح ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيام، باب استحباب صوم ستة أيام من شوال، حديث:1164.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 554
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم عن وجهه النار سبعين خريفا» ‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کوئی شخص ایسا نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستر سال کے لئے جہنم کی آگ سے دور کر دیتے ہیں۔ “ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 554]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَا مِنْ عَبْدٍ» کوئی بندہ نہیں – «يَصُومُ يَوْمًا» جو ایک دن روزہ رکھے – «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں – «إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ» مگر اللہ دور کر دیتا ہے – «بِذَلِكَ الْيَوْمِ» اس دن کی وجہ سے – «عَنْ وَجْهِهِ» اس کے چہرے سے – «النَّارَ» آگ کو – «سَبْعِينَ خَرِيفًا» ستر سال (کی مسافت)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے، اللہ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال (کی مسافت) دور کر دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجهاد، باب فضل الصوم في سبيل الله، حديث:2840، ومسلم، الصيام، باب الصيام في سبيل الله لمن يطيقه، حديث:1153.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 555
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول لا يصوم وما رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان وما رأيته في شهر أكثر منه صياما في شعبان. متفق عليه واللفظ لمسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی افطار نہیں کریں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے کہ (اسی طرح) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی روزے نہیں رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سوائے رمضان کے کسی مہینے کے مکمل روزے رکھے ہوں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ کسی مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان سے زیادہ روزے رکھے ہوں۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 555]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَصُومُ» روزے رکھتے – «حَتَّى نَقُولَ» یہاں تک کہ ہم کہتے – «لَا يُفْطِرُ» آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے – «وَيُفْطِرُ» اور روزے چھوڑ دیتے – «حَتَّى نَقُولَ» یہاں تک کہ ہم کہتے – «لَا يَصُومُ» آپ روزہ نہیں رکھیں گے – «وَمَا رَأَيْتُ» اور میں نے نہیں دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَكْمَلَ» کہ پورے کیے ہوں – «صِيَامَ شَهْرٍ» کسی مہینے کے روزے – «قَطُّ» کبھی – «إِلَّا رَمَضَانَ» سوائے رمضان کے – «وَمَا رَأَيْتُهُ» اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا – «فِي شَهْرٍ» کسی مہینے میں – «أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا» اس سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے – «فِي شَعْبَانَ» جتنے شعبان میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نفلی) روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے نہیں چھوڑیں گے، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور میں نے آپ کو کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب صوم شعبان، حديث:1969، ومسلم، الصيام، باب صيام النبي صلي الله عليه وسلم في غير رمضان، حديث:1156.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
وعن أبي ذر رضي الله عنه قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن نصوم من الشهر ثلاثة أيام: ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة. رواه النسائي والترمذي وصححه ابن حبان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ہر ماہ تین دن کے روزے رکھیں یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ کو)۔ اسے نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 556]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي ذَرٍّ» ابو ذر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَمَرَنَا» ہمیں حکم دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ نَصُومَ» کہ ہم روزے رکھیں – «مِنَ الشَّهْرِ» مہینے میں سے – «ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» تین دن – «ثَلَاثَ عَشْرَةَ» تیرہ (تاریخ) – «وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ» اور چودہ – «وَخَمْسَ عَشْرَةَ» اور پندرہ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر مہینے تین دن کے روزے رکھیں: تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔ اسے نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الصوم، باب ما جاء في صوم ثلاثة أيام من كل شهر، حديث:761، وقال: حديث حسن، والنسائي، الصيام، حديث:2424، وابن حبان (الإحسان):5 /264، حديث:3648.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں