🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الصيام)
(روزے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الوصال فقال رجل من المسلمين: فإنك تواصل يا رسول الله؟ فقال: «وأيكم مثلي؟ إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني» ‏‏‏‏ فلما أبوا أن ينتهوا عن الوصال واصل بهم يوما ثم يوما ثم رأوا الهلال فقال: «‏‏‏‏لو تأخر الهلال لزدتكم» ‏‏‏‏ كالمنكل لهم حين أبوا أن ينتهوا. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! آپ خود تو وصال فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے میرے جیسا کون ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ جب لوگوں نے وصال سے باز آنے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن پھر دوسرے دن کا وصال کیا۔ پھر انہوں نے چاند کو دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر چاند آج نظر نہ آتا تو میں تمہارے لئے زیادہ دن وصال کرتا۔“ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس سے باز نہ رہنے کی وجہ سے سزا دے رہے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 537]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنِ الْوِصَالِ» وصال (مسلسل بغیر افطار کے روزے) سے – «فَقَالَ رَجُلٌ» تو ایک آدمی نے کہا – «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں میں سے: – «فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ» آپ تو وصال کرتے ہیں – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «وَأَيُّكُمْ» اور تم میں سے کون – «مِثْلِي» میری مثل ہے؟ – «إِنِّي أَبِيتُ» بے شک میں رات گزارتا ہوں – «يُطْعِمُنِي» مجھے کھلاتا ہے – «رَبِّي» میرا رب – «وَيَسْقِينِي» اور مجھے پلاتا ہے – «فَلَمَّا أَبَوْا» پس جب انہوں نے انکار کیا – «أَنْ يَنْتَهُوا» کہ وہ باز آئیں – «عَنِ الْوِصَالِ» وصال سے – «وَاصَلَ بِهِمْ» آپ نے ان کے ساتھ وصال کیا – «يَوْمًا» ایک دن – «ثُمَّ يَوْمًا» پھر ایک دن – «ثُمَّ رَأَوُا» پھر انہوں نے دیکھا – «الْهِلَالَ» چاند – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «لَوْ تَأَخَّرَ» اگر دیر سے ہوتا – «الْهِلَالُ» چاند – «لَزِدْتُكُمْ» تو میں تمہارے لیے اور بڑھا دیتا – «كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ» گویا انہیں سزا دینے والے کی طرح – «حِينَ أَبَوْا» جب انہوں نے انکار کیا – «أَنْ يَنْتَهُوا» کہ وہ باز آئیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال (بغیر افطار و سحری کے مسلسل روزے) سے منع فرمایا، تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ تو خود وصال کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کون میری طرح ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ پھر جب لوگ وصال سے باز نہ آئے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک دن وصال کیا، پھر دوسرے دن، پھر انہوں نے (عید کا) چاند دیکھ لیا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاند دیر سے نکلتا تو میں تمہارے لیے (وصال) اور بڑھا دیتا۔“ گویا آپ انہیں سزا دینا چاہتے تھے جب وہ باز آنے سے انکاری ہوئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب التنكيل لمن أكثر الوصال، حديث:1965، ومسلم، الصيام، باب النهي عن الوصال في الصوم، حديث:1103.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏من لم يدع قول الزور،‏‏‏‏ والعمل به،‏‏‏‏ والجهل،‏‏‏‏ فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه» .‏‏‏‏ رواه البخاري وأبو داود واللفظ له.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا اور حماقت و بیوقوفی کو ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانے پینے کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔“ (بخاری و ابوداؤد) اور الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 538]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ لَمْ يَدَعْ» جس نے نہ چھوڑا – «قَوْلَ الزُّورِ» جھوٹی بات – «وَالْعَمَلَ بِهِ» اور اس پر عمل کرنا – «وَالْجَهْلَ» اور جہالت (بے ہودگی) – «فَلَيْسَ لِلَّهِ» تو اللہ کو نہیں ہے – «حَاجَةٌ» کوئی حاجت – «فِي أَنْ يَدَعَ» اس میں کہ وہ چھوڑ دے – «طَعَامَهُ» اپنا کھانا – «وَشَرَابَهُ» اور اپنا پینا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَاللَّفْظُ لَهُ» اور الفاظ انہی (ابو داود) کے ہیں۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی بات، اس پر عمل اور جہالت (کی باتیں) نہ چھوڑیں تو اللہ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“ اسے بخاری اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور الفاظ ابو داود کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب من لم يدع قول الزور، حديث:1903، وأبوداود، الصيام، حديث:2362.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 539
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقبل وهو صائم ويباشر وهو صائم ولكنه كان أملككم لإربه. متفق عليه؛ واللفظ لمسلم،‏‏‏‏ وزاد في رواية: في رمضان.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیتے تھے اور معانقہ بھی فرما لیتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری نسبت اپنی طبیعت پر زیادہ کنٹرول اور ضبط کرنے والے تھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں فعل رمضان میں کرتے تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 539]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُقَبِّلُ» بوسہ لیتے – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ آپ روزے سے ہوتے – «وَيُبَاشِرُ» اور (بیوی سے) لپٹتے – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ آپ روزے سے ہوتے – «وَلَكِنَّهُ» لیکن آپ – «كَانَ» تھے – «أَمْلَكَكُمْ» تم سب سے زیادہ قابو رکھنے والے – «لِإِرْبِهِ» اپنی خواہش پر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «فِي رِوَايَةٍ» ایک روایت میں: – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور روزے کی حالت میں (بیوی کے ساتھ) لپٹتے تھے، لیکن آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں، اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: ”رمضان میں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب القبلة للصائم، حديث:1928، ومسلم، الصيام، باب بيان أن القبلة في الصوم ليست محرمة، حديث:1106.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 540]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «احْتَجَمَ» نے پچھنے لگوائے – «وَهُوَ مُحْرِمٌ» درحالیکہ آپ احرام میں تھے – «وَاحْتَجَمَ» اور پچھنے لگوائے – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ آپ روزے سے تھے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے اور روزے کی حالت میں (بھی) پچھنے لگوائے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب الحجامة والقيء للصائم، حديث:1938.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 541
وعن شداد بن أوس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أتى على رجل بالبقيع وهو يحتجم في رمضان فقال: «‏‏‏‏أفطر الحاجم والمحجوم» .‏‏‏‏ رواه الخمسة إلا الترمذي وصححة أحمد وابن خزيمة وابن حبان
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو رمضان میں پچھنے لگوا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سینگی (پچھنے) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ احمد، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 541]
«وَعَنْ» اور سے – «شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ» شداد بن اوس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَتَى» آئے – «عَلَى رَجُلٍ» ایک آدمی کے پاس – «بِالْبَقِيعِ» بقیع میں – «وَهُوَ يَحْتَجِمُ» درحالیکہ وہ پچھنے لگوا رہا تھا – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «أَفْطَرَ» روزہ توڑ دیا – «الْحَاجِمُ» پچھنے لگانے والے نے – «وَالْمَحْجُومُ» اور پچھنے لگوانے والے نے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں بقیع میں ایک آدمی کے پاس آئے جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے (دونوں) نے روزہ توڑ دیا۔“ اسے ترمذی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے، اور احمد، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب في الصائم يحتجم، حديث:2369، وابن ماجه، الصيام، حديث:1681، والنسائي في الكبرٰي، حديث:3141، وأحمد:4 /124، وابن خزيمة:3 /226، 227، حديث:1963، وابن حبان(الإحسان):5 /219، حديث:3526.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أول ما كرهت الحجامة للصائم أن جعفر بن أبي طالب احتجم وهو صائم فمر به النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏أفطر هذان» ثم رخص النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعد في الحجامة للصائم. وكان أنس يحتجم وهو صائم. رواه الدارقطني وقواه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے روزہ دار کے لئے سینگی لگوانا اس لئے مکروہ ہوئی کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے روزہ کی حاجت میں سینگی لگوائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کی رخصت دے دی اور انس رضی اللہ عنہ روزہ کی حالت میں سینگی لگواتے تھے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کو قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 542]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَوَّلُ مَا» سب سے پہلے جب – «كُرِهَتِ» ناپسند کی گئی – «الْحِجَامَةُ» پچھنے لگوانا – «لِلصَّائِمِ» روزہ دار کے لیے – «أَنَّ» (یہ تھا) کہ – «جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ» جعفر بن ابی طالب نے – «احْتَجَمَ» پچھنے لگوائے – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ وہ روزے سے تھے – «فَمَرَّ بِهِ» تو ان کے پاس سے گزرے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «أَفْطَرَ» روزہ توڑ دیا – «هَذَانِ» ان دونوں نے – «ثُمَّ رَخَّصَ» پھر رخصت دے دی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَعْدُ» اس کے بعد – «فِي الْحِجَامَةِ» پچھنے لگوانے میں – «لِلصَّائِمِ» روزہ دار کے لیے۔ – «وَكَانَ أَنَسٌ» اور انس – «يَحْتَجِمُ» پچھنے لگواتے تھے – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ وہ روزے سے ہوتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَقَوَّاهُ» اور اسے قوی کہا۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانا سب سے پہلے اس وقت ناپسند کیا گیا جب سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”ان دونوں نے روزہ توڑ دیا۔“ پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کو پچھنے لگوانے کی رخصت دے دی۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں پچھنے لگواتے تھے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:2 /182، وقال: "رجاله كلهم ثقات ولا أعلم له علة".»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم اكتحل في رمضان وهو صائم. رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف وقال الترمذي: لا يصح في هذا الباب شيء.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں روزہ کی حالت میں سرمہ لگایا۔ اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 543]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اكْتَحَلَ» نے سرمہ لگایا – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ آپ روزے سے تھے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ – «وَقَالَ» اور کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے: – «لَا يَصِحُّ» صحیح نہیں ہے – «فِي هَذَا الْبَابِ» اس باب میں – «شَيْءٌ» کوئی چیز۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان میں روزے کی حالت میں سرمہ لگایا۔ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ترمذی نے کہا: اس باب میں کوئی چیز صحیح (ثابت) نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الصيام، باب ما جاء في السواك والكحل للصائم، حديث:1678 .* سعيد بن عبدالجبار الزبيدي ضعيف، كان جرير يكذبه (تقريب).»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من نسى وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه» ‏‏‏‏ متفق عليه وللحاكم: «‏‏‏‏من أفطر في رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة» .‏‏‏‏ وهو صحيح.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو روزہ دار بھول کر کچھ کھایا پی لے تو اسے چاہیئے کہ اپنا روزہ پورا کر لے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے“ (بخاری و مسلم) اور امام حاکم سے یوں روایت ہے کہ ”اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں۔“ اور یہ حدیث صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 544]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ نَسِيَ» جو بھول گیا – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ وہ روزے سے ہو – «فَأَكَلَ» پس کھا لیا – «أَوْ شَرِبَ» یا پی لیا – «فَلْيُتِمَّ» تو وہ پورا کرے – «صَوْمَهُ» اپنا روزہ – «فَإِنَّمَا» کیونکہ یقیناً – «أَطْعَمَهُ اللَّهُ» اسے اللہ نے کھلایا – «وَسَقَاهُ» اور پلایا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِلْحَاكِمِ» اور حاکم کی روایت میں ہے: – «مَنْ أَفْطَرَ» جس نے روزہ توڑ دیا – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «نَاسِيًا» بھول کر – «فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ» تو اس پر کوئی قضا نہیں – «وَلَا كَفَّارَةَ» اور نہ کوئی کفارہ۔ – «وَهُوَ صَحِيحٌ» اور یہ صحیح ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور حاکم کی روایت میں ہے: ”جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا (کھا پی لیا) تو اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔“ اور یہ صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب الصائم إذا أكل أو شرب ناسيًا، حديث:1933، ومسلم، الصيام، باب أكل الناسي وشربه وجماعه لا يفطر، حديث:1155، والحاكم:1 /430.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء» .‏‏‏‏ رواه الخمسة وأعله أحمد وقواه الدارقطني.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جسے قے آ جائے تو اس پر (روزہ کی) قضاء نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضاء ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور امام احمد نے اس کو معلول کہا ہے اور امام دارقطنی نے اسے قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 545]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ ذَرَعَهُ» جس پر غالب آ جائے – «الْقَيْءُ» قے – «فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ» تو اس پر کوئی قضا نہیں – «وَمَنِ اسْتَقَاءَ» اور جس نے جان بوجھ کر قے کی – «فَعَلَيْهِ» تو اس پر – «الْقَضَاءُ» قضا ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَأَعَلَّهُ» اور اسے معلول قرار دیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَقَوَّاهُ» اور اسے قوی کہا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جسے (خود بخود) قے آ جائے اس پر کوئی قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضا ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے، احمد نے اسے معلول قرار دیا ہے اور دارقطنی نے اسے قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب الصائم يستقيء عمدًا، حديث:2380، والترمذي، الصوم، حديث:720، وابن ماجه، الصيام، حديث:1676، وأحمد:2 /498، والنسائي في الكبرٰي:2 /215، حديث:3130، والدارقطني: 2 /184، وقال: "رواته ثقات كلهم" .* هشمام بن حسان مدلس وعنعن، وأخرج البيهقي:4 /219 بإسناد صحيح عن ابن عمر قال: "من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء".»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خرج عام الفتح إلى مكة في رمضان فصام حتى بلغ كراع الغميم فصام الناس ثم دعا بقدح من ماء فرفعه حتى نظر الناس إليه ثم شرب فقيل له بعد ذلك إن بعض الناس قد صام؟ فقال: «‏‏‏‏أولئك العصاة،‏‏‏‏ أولئك العصاة» ‏‏‏‏ وفي لفظ: فقيل له إن الناس قد شق عليهم الصيام وإنما ينظرون فيما فعلت فدعا بقدح من ماء بعد العصر فشرب. رواه مسلم.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کی طرف رمضان میں نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کراع الغمیم (ایک جگہ کا نام) پہنچے۔ اس دن لوگوں نے بھی روزہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اس کو اتنا اونچا کیا کہ لوگوں نے دیکھ لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہی لوگ نافرمان ہیں، یہی لوگ نافرمان ہیں۔ “ اور ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں کو روزہ نے مشقت میں ڈال دیا ہے اور اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ وہ آپ کے عمل کا انتظار کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پی لیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 546]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَرَجَ» نکلے – «عَامَ الْفَتْحِ» فتح (مکہ) کے سال – «إِلَى مَكَّةَ» مکہ کی طرف – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «فَصَامَ» تو آپ نے روزہ رکھا – «حَتَّى بَلَغَ» یہاں تک کہ پہنچے – «كُرَاعَ الْغَمِيمِ» کراع الغمیم – «فَصَامَ» اور روزہ رکھا – «النَّاسُ» لوگوں نے – «ثُمَّ دَعَا» پھر منگوایا – «بِقَدَحٍ» ایک پیالہ – «مِنْ مَاءٍ» پانی کا – «فَرَفَعَهُ» پھر اسے بلند کیا – «حَتَّى نَظَرَ» یہاں تک کہ دیکھ لیا – «النَّاسُ» لوگوں نے – «إِلَيْهِ» اس کی طرف – «ثُمَّ شَرِبَ» پھر پی لیا – «فَقِيلَ لَهُ» پھر آپ سے کہا گیا – «بَعْدَ ذَلِكَ» اس کے بعد: – «إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ» بے شک کچھ لوگوں نے – «قَدْ صَامَ» روزہ رکھا ہوا ہے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أُولَئِكَ» وہی لوگ – «الْعُصَاةُ» نافرمان ہیں – «أُولَئِكَ» وہی لوگ – «الْعُصَاةُ» نافرمان ہیں۔ – «وَفِي لَفْظٍ» اور ایک روایت کے الفاظ میں ہے: – «فَقِيلَ لَهُ» پس آپ سے کہا گیا: – «إِنَّ النَّاسَ» بے شک لوگوں پر – «قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ» دشوار ہو گیا ہے ان پر – «الصِّيَامُ» روزہ – «وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ» اور وہ صرف دیکھ رہے ہیں – «فِيمَا فَعَلْتَ» اس کی طرف جو آپ کرتے ہیں – «فَدَعَا» تو آپ نے منگوایا – «بِقَدَحٍ» ایک پیالہ – «مِنْ مَاءٍ» پانی کا – «بَعْدَ الْعَصْرِ» عصر کے بعد – «فَشَرِبَ» پھر پی لیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے، آپ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ کراع الغمیم پہنچ گئے، اور لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا، پھر آپ نے پی لیا۔ اس کے بعد آپ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے (اب بھی) روزہ رکھا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”یہی لوگ نافرمان ہیں، یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں، تو آپ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور پی لیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيام، باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان، حديث:1114.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں