بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب صوم التطوع وما نهي عن صومه
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
حدیث نمبر: 567
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا صام من صام الأبد» متفق عليه. ولمسلم من حديث أبي قتادة بلفظ:«لا صام ولا أفطر» .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ نہیں رکھا۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ ہیں کہ ”نہ روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 567]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو» عبداللہ بن عمرو – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا صَامَ» اس نے روزہ نہیں رکھا – «مَنْ صَامَ» جس نے روزہ رکھا – «الْأَبَدَ» ہمیشہ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «أَبِي قَتَادَةَ» ابو قتادہ – «بِلَفْظِ» ان الفاظ کے ساتھ: – «لَا صَامَ» نہ اس نے روزہ رکھا – «وَلَا أَفْطَرَ» اور نہ روزہ چھوڑا۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ ہی نہیں رکھا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ الفاظ ہیں: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ روزہ چھوڑا۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 567]
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ ہی نہیں رکھا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ الفاظ ہیں: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ روزہ چھوڑا۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب حق الأهل في الصوم، حديث:1977، ومسلم الصيام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرربه، حديث:1159، وحديث أبي قتادة أخرجه مسلم، الصيام، حديث:1162.»
الحكم على الحديث:
صحيح
3. باب الاعتكاف وقيام رمضان
اعتکاف اور قیام رمضان کا بیان
حدیث نمبر: 568
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه» . متفق عليه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرتا ہے اس کے پہلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 568]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ قَامَ» جس نے قیام کیا – «رَمَضَانَ» رمضان میں – «إِيمَانًا» ایمان کے ساتھ – «وَاحْتِسَابًا» اور ثواب کی نیت سے – «غُفِرَ لَهُ» اس کے لیے بخش دیے گئے – «مَا تَقَدَّمَ» جو پہلے ہو چکے – «مِنْ ذَنْبِهِ» اس کے گناہوں میں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 568]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، صلاةالتراويح، باب فضل من قام رمضان، حديث:2008، ومسلم، صلاة المسافرين، باب الترغيب في قيام رمضان، حديث:759.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 569
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا دخلت العشر: أي العشر الأخيرة من رمضان شد مئزره وأحيا ليله وأيقظ أهله. متفق عليه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب (رمضان کا) آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے، رات بھر جاگتے رہتے اور اپنی بیویوں کو بھی جگاتے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 569]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا دَخَلَتِ» جب داخل ہوتا – «الْعَشْرُ» عشرہ – «أَيِ» یعنی – «الْعَشْرُ الْأَخِيرَةُ» آخری دس (دن) – «مِنْ رَمَضَانَ» رمضان کے – «شَدَّ» کس لیتے – «مِئْزَرَهُ» اپنا تہبند – «وَأَحْيَا» اور زندہ کرتے (جاگتے) – «لَيْلَهُ» اپنی رات کو – «وَأَيْقَظَ» اور جگاتے – «أَهْلَهُ» اپنے گھر والوں کو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (آخری) عشرہ یعنی رمضان کے آخری دس دن شروع ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عبادت کے لیے) کمر کس لیتے، رات بھر جاگتے اور اپنے گھر والوں کو (بھی) جگاتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 569]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (آخری) عشرہ یعنی رمضان کے آخری دس دن شروع ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عبادت کے لیے) کمر کس لیتے، رات بھر جاگتے اور اپنے گھر والوں کو (بھی) جگاتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فضل ليلة القدر، باب العمل في العشر لأواخر من رمضان، حديث:2024، ومسلم، الاعتكاف، باب الاجتهاد في العشرالأواخر من شهر رمضان، حديث:1174.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 570
وعنها رضي الله عنها، أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان، حتى توفاه الله عز وجل، ثم اعتكف أزواجه من بعده. متفق عليه.
انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اعتکاف کرتیں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 570]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَعْتَكِفُ» اعتکاف کیا کرتے تھے – «الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ» آخری دس دن – «مِنْ رَمَضَانَ» رمضان کے – «حَتَّى تَوَفَّاهُ» یہاں تک کہ آپ کو وفات دی – «اللَّهُ» اللہ نے – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ و برتر ہے – «ثُمَّ اعْتَكَفَ» پھر اعتکاف کیا – «أَزْوَاجُهُ» آپ کی بیویوں نے – «مِنْ بَعْدِهِ» آپ کے بعد۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 570]
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاعتكاف، باب اعتكاف النساء، حديث:2033، ومسلم، الاعتكاف، باب متي يدخل من أراد الاعتكاف في معتكفه، حديث:1173.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 571
وعنها رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم إذا أراد أن يعتكف صلى الفجر ثم دخل معتكفة. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھتے اور پھر اعتکاف کی جگہ داخل ہو جاتے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 571]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا أَرَادَ» جب ارادہ کرتے – «أَنْ يَعْتَكِفَ» کہ اعتکاف کریں – «صَلَّى الْفَجْرَ» فجر کی نماز پڑھتے – «ثُمَّ دَخَلَ» پھر داخل ہوتے – «مُعْتَكَفَهُ» اپنی اعتکاف کی جگہ میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھتے، پھر اپنی اعتکاف گاہ میں داخل ہو جاتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 571]
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھتے، پھر اپنی اعتکاف گاہ میں داخل ہو جاتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاعتكاف، باب الاعتكاف في العشر الأواخر، حديث:2026، ومسلم، الاعتكاف، باب اعتكاف العشر الأواخر من رمضان، حديث:1172.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 572
وعنها رضي الله عنها قالت: إن كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ليدخل علي رأسه وهو في المسجد فأرجله وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة إذا كان معتكفا. متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میرے آگے کر دیتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اعتکاف کی حالت میں) مسجد میں ہوتے۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کنگھی کرتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے ضروری حاجات کے گھر میں داخل نہ ہوتے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 572]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «إِنْ كَانَ» یقیناً تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَيُدْخِلُ» ضرور داخل کرتے – «عَلَيَّ» میری طرف – «رَأْسَهُ» اپنا سر – «وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ» درحالیکہ آپ مسجد میں ہوتے – «فَأُرَجِّلُهُ» تو میں اس میں کنگھی کرتی – «وَكَانَ» اور آپ – «لَا يَدْخُلُ» داخل نہیں ہوتے تھے – «الْبَيْتَ» گھر میں – «إِلَّا لِحَاجَةٍ» مگر کسی (انسانی) حاجت کے لیے – «إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا» جب آپ اعتکاف میں ہوتے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ» اور الفاظ بخاری کے ہیں۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں (اعتکاف میں) ہوتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف (حجرے میں) داخل کر دیتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی، اور جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو (انسانی) حاجت کے سوا گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 572]
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں (اعتکاف میں) ہوتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف (حجرے میں) داخل کر دیتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی، اور جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو (انسانی) حاجت کے سوا گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاعتكاف، باب لا يدخل البيت إلا لحاجة، حديث:2029، ومسلم، الحيض، باب جوازغسل الحائض رأس زوجها وترجيله، حديث:297.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 573
وعنها رضي الله عنها قالت: السنة على المعتكف أن لا يعود مريضا ولا يشهد جنازة ولا يمس امرأة ولا يباشرها ولا يخرج لحاجة إلا لما لا بد له منه. ولا اعتكاف إلا بصوم ولا اعتكاف إلا في مسجد جامع. رواه أبو داود ولا بأس برجاله إلا أن الراجح وقف آخره.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اعتکاف کرنے والے پر سنت ہے کہ وہ نہ کسی مریض کی بیمار پرسی کرے نہ جنازہ میں شرکت کرے، نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے اور سوائے حاجات ضروریہ کے مسجد میں سے نہ نکلے اور سوائے جامع مسجد کے اعتکاف نہ کرے۔ (ابوداؤد) اس کے راویوں میں کوئی خلل نہیں لیکن راجح یہ ہے کہ اس کے آخری الفاظ موقوف ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 573]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «السُّنَّةُ» سنت (طریقہ) ہے – «عَلَى الْمُعْتَكِفِ» اعتکاف کرنے والے پر – «أَنْ لَا يَعُودَ» کہ عیادت نہ کرے – «مَرِيضًا» کسی مریض کی – «وَلَا يَشْهَدَ» اور نہ حاضر ہو – «جَنَازَةً» کسی جنازے میں – «وَلَا يَمَسَّ» اور نہ چھوئے – «امْرَأَةً» عورت کو – «وَلَا يُبَاشِرَهَا» اور نہ اس سے مباشرت کرے – «وَلَا يَخْرُجَ» اور نہ نکلے – «لِحَاجَةٍ» کسی حاجت کے لیے – «إِلَّا لِمَا» مگر اس کے لیے جو – «لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ» اس کے لیے ناگزیر ہو۔ – «وَلَا اعْتِكَافَ» اور کوئی اعتکاف نہیں – «إِلَّا بِصَوْمٍ» مگر روزے کے ساتھ – «وَلَا اعْتِكَافَ» اور کوئی اعتکاف نہیں – «إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ» مگر جامع مسجد میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَلَا بَأْسَ» اور کوئی حرج نہیں – «بِرِجَالِهِ» اس کے راویوں میں – «إِلَّا أَنَّ» مگر یہ کہ – «الرَّاجِحَ» راجح (بات) – «وَقْفُ آخِرِهِ» اس کے آخری حصے کا موقوف ہونا ہے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ نہ کسی مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو (شہوت سے) چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت کے لیے نکلے سوائے اس ضرورت کے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور روزے کے بغیر اعتکاف نہیں اور جامع مسجد کے سوا اعتکاف نہیں۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، مگر راجح یہ ہے کہ اس کا آخری حصہ موقوف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 573]
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ نہ کسی مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو (شہوت سے) چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت کے لیے نکلے سوائے اس ضرورت کے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور روزے کے بغیر اعتکاف نہیں اور جامع مسجد کے سوا اعتکاف نہیں۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، مگر راجح یہ ہے کہ اس کا آخری حصہ موقوف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب المعتكف يعود المريض، حديث:2473. *الزهري مدلس وعنعن.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 574
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «ليس على المعتكف صيام إلا أن يجعله على نفسه» . رواه الدارقطني والحاكم والراجح وقفه أيضا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اعتکاف کرنے والے پر روزہ نہیں الایہ کہ وہ اسے اپنے آپ پر مقرر کر لے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کا بھی موقف ہونا ہی راجح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 574]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَيْسَ» نہیں ہے – «عَلَى الْمُعْتَكِفِ» اعتکاف کرنے والے پر – «صِيَامٌ» روزہ – «إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ» مگر یہ کہ وہ اسے لازم کر لے – «عَلَى نَفْسِهِ» اپنے اوپر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَالرَّاجِحُ» اور راجح (بات) – «وَقْفُهُ» اس کا موقوف ہونا ہے – «أَيْضًا» بھی۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اعتکاف کرنے والے پر روزہ لازم نہیں، الا یہ کہ وہ اسے اپنے اوپر لازم کر لے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور راجح یہ ہے کہ یہ بھی موقوف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 574]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اعتکاف کرنے والے پر روزہ لازم نہیں، الا یہ کہ وہ اسے اپنے اوپر لازم کر لے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور راجح یہ ہے کہ یہ بھی موقوف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: « أخرجه الدارقطني: 2 /199، والحاكم:1 /439 وهو شاذ، انظر السنن الكبرٰي اللبيهقي:4 /319، والموقوف هو الصحيح.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 575
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن رجالا من أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم أروا ليلة القدر في المنام في السبع الأواخر فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الأواخر» . متفق عليه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ مردوں کو آخری ہفتہ میں شب قدر دکھائی گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہاری خواب کو دیکھتا ہوں جو آخری ہفتہ میں موافق آیا ہے۔ اگر کوئی اس کو تلاش کرنے والا ہو تو وہ آخری ہفتہ میں اسے تلاش کرے۔“ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 575]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رِجَالًا» کہ کچھ آدمیوں کو – «مِنْ أَصْحَابِ» اصحاب میں سے – «النَّبِيِّ» نبی کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أُرُوا» دکھائی گئی – «لَيْلَةَ الْقَدْرِ» شب قدر – «فِي الْمَنَامِ» خواب میں – «فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ» آخری سات (راتوں) میں – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَرَى» میں دیکھتا ہوں – «رُؤْيَاكُمْ» تمہارے خوابوں کو – «قَدْ تَوَاطَأَتْ» کہ وہ باہم متفق ہو گئے ہیں – «فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ» آخری سات (راتوں) میں – «فَمَنْ كَانَ» پس جو ہو – «مُتَحَرِّيَهَا» اسے تلاش کرنے والا – «فَلْيَتَحَرَّهَا» تو وہ اسے تلاش کرے – «فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ» آخری سات (راتوں) میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ صحابہ کو خواب میں دکھایا گیا کہ شب قدر (رمضان کی) آخری سات راتوں میں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں (کی تعیین) پر متفق ہو گئے ہیں، لہٰذا جو اسے تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 575]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ صحابہ کو خواب میں دکھایا گیا کہ شب قدر (رمضان کی) آخری سات راتوں میں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں (کی تعیین) پر متفق ہو گئے ہیں، لہٰذا جو اسے تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فضل ليلة القدر، باب التماس ليلة القدر في السبع الأواخر، حديث:2015، ومسلم، الصيام، باب فضل ليلة القدر....، حديث:1165.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 576
وعن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في ليلة القدر:«ليلة سبع وعشرين» . رواه أبو داود، والراجح وقفه. وقد اختلف في تعيينها على أربعين قولا أوردتها في فتح الباري.
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں فرمایا ”دہ ستائیس کی رات ہے“ (ابوداؤد) اس حدیث کا موقوف ہونا زیادہ راجح ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ شب قدر کی تعیین میں اختلاف کیا گیا ہے، اس بارے میں چالیس اقوال ہیں۔ جنہیں میں نے فتح الباری میں نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 576]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ» معاویہ بن ابی سفیان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا – «فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ» شب قدر کے بارے میں: – «لَيْلَةُ» (وہ) رات ہے – «سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ستائیسویں کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالرَّاجِحُ» اور راجح (بات) – «وَقْفُهُ» اس کا موقوف ہونا ہے۔ – «وَقَدِ اخْتُلِفَ» اور یقیناً اختلاف کیا گیا ہے – «فِي تَعْيِينِهَا» اس کی تعیین میں – «عَلَى أَرْبَعِينَ قَوْلًا» چالیس اقوال پر – «أَوْرَدْتُهَا» میں نے انہیں ذکر کیا ہے – «فِي فَتْحِ الْبَارِي» فتح الباری میں۔
اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں فرمایا: ”(وہ) ستائیسویں رات ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور راجح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ اور اس (شب قدر) کی تعیین میں چالیس اقوال تک اختلاف کیا گیا ہے جنہیں میں نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 576]
اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں فرمایا: ”(وہ) ستائیسویں رات ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور راجح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ اور اس (شب قدر) کی تعیین میں چالیس اقوال تک اختلاف کیا گیا ہے جنہیں میں نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 576]
تخریج الحدیث: « أخرجه أبوداود، الصلاة، باب من قال سبع وعشرون، حديث:1386.»
الحكم على الحديث:
حسن