🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5553
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5553]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5553]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5554
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ"،، تَابَعَهُ وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَحَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اس کی متابعت وہیب نے کی، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5554]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، وہیب نے ایوب سے روایت کرنے میں عبدالوہاب کی متابعت کی ہے، اسماعیل اور حاتم نے ایوب سے، انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5554]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5555
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ أَنْتَ بِهِ"
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5555]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بطور قربانی تقسیم کر دیں۔ انہوں نے تقسیم کیں تو یکسالہ بکری کا ایک بچہ باقی رہ گیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: اس کو تم ذبح کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کم عمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5556
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ: أَبُو بُرْدَةَ، قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعَزِ، قَالَ: اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ"، تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَتَابَعَهُ، وَكِيعٌ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَقَالَ عَاصِمٌ، وَدَاوُدُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ، وَقَالَ زُبَيْدٌ، وَفِرَاسٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: عِنْدِي جَذَعَةٌ، وَقَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنَاقٌ جَذَعَةٌ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مطرف نے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد (اس کی قربانی) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی پھر فرمایا جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے (بیان کیا) اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے بیان کیا کہ میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے۔ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے۔ اور ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ایک سال سے کم کی پٹھیا۔ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5556]
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے ماموں ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بکری کا ایک یکسالہ گھریلو بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے یہ جائز نہیں ہوگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے (اپنی قربانی کو) ذبح کیا، اس نے صرف اپنی ذات کے لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نمازِ عید کے بعد قربانی ذبح کی، اس کی قربانی پوری ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔ عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم سے روایت کرنے میں خالد بن عبداللہ کی متابعت کی ہے۔ اس کی وکیع نے بھی متابعت کی ہے، وہ حریث سے، وہ شعبی سے بیان کرتے ہیں۔ عاصم اور داؤد نے شعبی سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: میرے پاس بکری یا بھیڑ کا دودھ پیتا یکسالہ بچہ ہے۔ زبید اور فراس نے شعبی سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میرے پاس یکسالہ بچہ ہے۔ ابوالاحوص نے کہا کہ ہمیں منصور نے بتایا: میرے پاس یکسالہ جوان بچہ ہے۔ ابن عون نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: میرے پاس دودھ پیتا یکسالہ بچہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْدِلْهَا، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: عَنَاقٌ جَذَعَةٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوجحیفہ نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک (اس روایت میں یہ لفظ ہیں) کہ ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5557]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اس کے بدلے کوئی دوسری قربانی ذبح کرو۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس صرف ایک یکسالہ بچہ ہے میرے خیال کے مطابق وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کی جگہ اسی کو ذبح کر دو لیکن تمہارے بعد کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ حاتم بن وردان نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میرے پاس ایک یکسالہ جوان بچہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5557]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَنْ ذَبَحَ الأَضَاحِيَّ بِيَدِهِ:
باب: اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5558
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5558]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ سفید مینڈھوں کی قربانی دی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا پاؤں جانور کے پہلو پر رکھا اور «بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ سب سے بڑا ہے پڑھ کر ان دونوں کو اپنے دستِ مبارک سے ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5558]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ:
باب: جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5559
وَأَعَانَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ فِي بَدَنَتِهِ وَأَمَرَ أَبُو مُوسَى بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ.
‏‏‏‏ ایک صاحب نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: Q5559]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5559
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ أَنَفِسْتِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5559]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اس بنا پر تو دوسرے حاجیوں کی طرح تمام اعمالِ حج ادا کر، صرف بیت اللہ کا طواف نہ کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلاَةِ:
باب: قربانی کا جانور نماز عید الاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5560
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ"، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے زبید نے خبر دی، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے (عید کی نماز سے پہلے) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5560]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ہم آج کے دن کی ابتدا نماز سے کریں گے، پھر واپس آ کر قربانی کرنے کا فریضہ سر انجام دیں گے۔ جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہمارے طریقے کو پالے گا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے اہل خانہ کے لیے تیار کیا ہے، وہ قربانی کسی درجے میں بھی نہیں۔ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے، البتہ میرے پاس ابھی یکسالہ بکری کا بچہ ہے اور وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے بدلے میں اسی یکسالہ بچے کی قربانی کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5560]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ:
باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5561
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَذَرَهُ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَذَبَحُوهَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اس دن گوشت کی لوگوں کو خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا ہو (انہوں نے یہ بھی کہا کہ) میرے پاس ایک سال کا ایک بچہ ہے اور بکریوں سے بھی اچھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5561]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ ایک آدمی نے عرض کی: اس دن لوگوں کو گوشت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے، پھر اس نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معذور خیال کیا۔ اس نے مزید کہا کہ: میرے پاس بکری کا یکسالہ بچہ ہے جو دو بکریوں سے بھی اچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے علم نہیں کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے تھی یا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے یعنی ان کو ذبح کیا۔ اس کے بعد لوگ اپنی بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5561]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں